سعودی عرب نے بدھ کو اعلان کیا ہے کہ وہ ملک میں تعزیر کے طور پر کوڑوں کی سزا کو ختم کر دیا گیا ہے۔

سعودی عرب کی وزارتِ انصاف نے چند ٹویٹس میں بتایا ہے کہ اس سزا کو ختم کر دیا گیا ہے اور اس کی جگہ متبادل سزائیں تجویز کی جائیں گی۔ متبادل سزاؤں میں قید اور جرمانے یا دونوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ سعودی سلطنت کی عدالت عظمی کی جانب سے حکم دیا گیا ہے کہ ملک میں کوڑوں کی سزا کو قید اور جرمانوں میں تبدیل کر دیا جائے۔

اُس وقت میڈیا کو ملنے والے ایک دستاویز کے مطابق یہ کہا گیا ہے کہ یہ اقدام شاہ سلمان اور ان کے بیٹے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے ملک میں کی جانے والی انسانی حقوق میں کی جانے والی اصلاحات کی ایک کڑی ہے۔

وزارتِ انصاف کی تازہ ٹویٹس میں کہا گیا ہے کہ 'عدالتیں مقدمات کی سماعت کریں گی اور ہر مقدمے کی بنیاد پر جانچ پڑتال کر کے سزا تفویض کی جائے گی۔'

سعودی خبر رساں ویب سائٹ العربیہ کے مطابق وزیر انصاف ولید الثمانی نے ایک دستاویز جاری کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلے سے تمام عدالتوں کو مطلع کیا ہے۔

خیال رہے کہ 'تعزیر' وہ سزائیں ہیں جن کا ذکر اسلامی شریعہ میں نہیں ہے اور یہ کہ قاضی یا جج انھیں کسی جرم کے ارتکاب کے سلسلے میں تفویض کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

سعودی عرب: 18 سال سے کم عمر مجرموں کو سزائے موت نہیں دی جائے گی

سعودی عرب میں کوڑوں کی سزا ختم کر دی جائے گی: سپریم کورٹ

کیا سعودی عرب کے حالات واقعی اتنے خراب ہیں؟

سعودی عرب کے انسانی حقوق کمیشن نے حکومت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے اس کے تحت اب تک جس کسی کو بھی کوڑے مارے جانے کی سزا ہوتی تھی اب انھیں اس کی جگہ قید یا جرمانے ہوں گے۔

ایک بیان میں انسانی حقوق کمیشن کا کہنا تھا کہ یہ اصلاح شاہ سلمان اور شہزادہ ولی عہد محمد بن سلمان کی براہ راست نگرانی میں ہوئی ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ چند برسوں سے سعودی عرب میں اصلاحات کا دور جاری ہے جس میں پہلے خواتین کی ڈرائیونگ سے پابندی کا ہٹایا جانا تھا۔ اس کے بعد خواتین کے اسٹیڈیم میں میچ دیکھنے اور پھر نگراں یا محرم کے بغیر سفر کرنے یا پھر تنہا سفر کرنے کی اجازتیں جیسی چیزیں سامنے آ‏ئیں اور پھر گذشتہ دنوں 18 سال سے کم عمر افراد کے لیے سزائے موت کو کالعدم قرار دیا گیا۔

سعودی عرب میں آخری مرتبہ کوڑے مارے جانے کی سزا سنہ 2015 میں اس وقت شہ سرخیوں کا حصہ بنی تھی جب ایک بلاگر ریف بداوی کو سائبر کرائم اور توہین مذہب کے جرم کی سزا پر سرعام کوڑے مارے گئے تھے۔

سزا کے مطابق انھیں ہفتہ وار مار کے دوران ایک ہزار کوڑے لگائے جانے تھے لیکن عالمی غم و غصے اور کوڑے لگانے کی سزا کے دوران ان کی حالت غیر ہو جانے کے باعث ان کی سزا پر مکمل عملدرآمد کو روکنا پڑا تھا۔

بی بی سی کے عرب امور کے ایڈیٹر سبیسچن اشر کا کہنا ہے کہ یقیناً کوڑوں کی سزا عالمی سطح پر سعودی عرب کے لیے بدنامی کا باعث بنی۔