متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ ڈاکٹر انور قرقاش نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک بشمول ایران اور چھ عرب ممالک کورونا وائرس کی وبا سے 'کمزور، غریب اور شکستہ' ہو کر ابھریں گے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پورے خطے کے لیے اس کا حل صرف یہ ہے کہ تناؤ میں کمی کی جائے۔

متحدہ عرب امارات کا شمار دنیا کے سب سے امیر ممالک میں ہوتا ہے اور اس نے وبا کے لیے جلد از جلد تیاری مکمل کرتے ہوئے بڑی تعداد میں ٹیسٹنگ کٹس خرید کر ماسکس کی پیداوار شروع کر دی تھی۔

تقریباً 90 لاکھ کی کُل آبادی میں سے اب تک یہاں 23 ہزار 358 متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ 220 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کورونا وائرس کا آخری شکار کون سا ملک بنے گا؟

کورونا کے باعث قحط کے خطرے سے دوچار پانچ ممالک

کورونا وائرس کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں بڑھتا غصہ

خلیج کے پانیوں کے دوسری طرف ایران ہے جو خطے میں سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔ یہاں ایک لاکھ 22 ہزار متاثرین کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ سات ہزار لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

متحدہ عرب امارات نے ایران اور اس کے علاوہ برطانیہ کو بھی طبی امداد بھجوائی ہے۔

ڈاکٹر قرقاش کہتے ہیں کہ 'ہمیں جنوری سے معلوم تھا کہ یہ ہماری جانب آئے گی اور یہ کہ وبا صرف چین تک محدود نہیں رہے گی۔ اس لیے ہم نے فوراً قدم اٹھاتے ہوئے اس کے لیے تیاریاں شروع کر دیں۔'

وہ کہتے ہیں کہ جنوری کے اواخر میں ہی متحدہ عرب امارات کے قومی سلامتی کے مشیر نے خبردار کیا تھا کہ آنے والی وبا یمن میں جاری جنگ کے حوالے سے موجود خدشات کو گہنا دے گی۔

یاد رہے کہ یمن میں متحدہ عرب امارات نے ایران نواز حوثی باغیوں کے خلاف کئی سالوں تک اپنی فوجیں تعینات رکھنے کے بعد وہاں اپنی فوجی سرگرمیوں میں کمی کی ہے۔

وائرس کے ہر کسی کے لیے مشترکہ دشمن ہونے کے بارے میں ڈاکٹر قرقاش کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے کہ وائرس اُن کچھ علاقائی تنازعات کی کمی میں مدد دے گا جنھوں نے اس پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

مثال کے طور پر یمن میں پانچ سال سے زیادہ عرصے سے خانہ جنگی جاری ہے جس نے دیگر ممالک کو بھی کھینچ لیا ہے اور ملک کے کمزور نظامِ صحت کو تہس نہس کر دیا ہے۔

دیگر تمام خلیجی عرب ممالک کی طرح متحدہ عرب امارات میں بھی غیر ملکی تارکینِ وطن مزدوروں کی ایک بڑی تعداد رہتی ہے جن میں سے اکثریت کا تعلق جنوبی ایشیا کے غریب ممالک سے ہے۔

کئی لوگ پرہجوم مشترکہ رہائش گاہوں میں رہتے ہیں اور متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں ابتدا میں مرض پھیلنے کی اتنی بلند شرح دیکھی گئی کہ اسے عارضی طور پر بند کر کے سینیٹائز کرنا پڑا جس کے بعد ہی اسے کھولا گیا۔

ہر شخص کے لیے عوامی مقامات پر ماسک پہننا لازم ہے۔

دبئی میں رہنے والے ایک برطانوی شہری جیمز کہتے ہیں کہ 'آپ کو اس کی عادت پڑ جاتی ہے۔ اس سے ہم خود کو بہت محفوظ محسوس کرتے ہیں اور بہت زیادہ ٹیسٹنگ کی جا رہی ہے۔ خفیہ پولیس ہر جگہ موجود ہے [لہٰذا لوگ پابندی کر رہے ہیں]۔'

اب ناک سے نمونے حاصل کر کے روزانہ 30 سے 40 ہزار ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں اور یومیہ نئے متاثرین کی تعداد روز 700 کے لگ بھگ ہے۔

ڈاکٹر قرقاش کہتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات سٹیم خلیوں کے ذریعے ایک جدید طریقہ علاج کی بھی آزمائش کر رہا ہے جنھیں اب تک 73 مریضوں پر آزمایا جا چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے چند حوصلہ افزا نتائج حاصل ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا: 'ہمارے پاس ایک مریض انتہائی نگہداشت میں کوما میں تھا۔ علاج کے بعد وہ صحتیاب ہوگیا۔'

ڈاکٹر قرقاش کو یقین ہے کہ وبا کی وجہ سے صحت کی ٹیکنالوجی بشمول مصنوعی ذہانت میں زیادہ سرمایہ کاری کی جائے گی مگر اس سے کفایت شعاری کا رجحان بھی پیدا ہوگا۔

'سب سے بڑا چیلنج اقتصادی ہوگا۔ ہمیں دہرا نقصان ہوا ہے، وبا سے بھی اور تیل کی گرتی قیمتوں سے بھی۔'

ان کا کہنا ہے کہ اب خطے کی حکومتوں کو اس نکتے پر پرکھا جائے گا کہ وہ اخراجات میں کمی کے اقدامات کو کیسے سنبھالتی ہیں۔