کراچی: حکومتی ڈیبٹ سیکیورٹیز (پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز، ٹریژری بلز) میں بینکوں کی سرمایہ کاری 9.79 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق کمرشل بینکوں کی جانب سے انویسٹمنٹ بانڈز اور ٹریژری بلز میں سرمایہ کاری کی یہ بلندترین سطح ہے۔ حکومتی ڈیبٹ سیکیورٹیز میں کمرشل بینکوں کی سرمایہ کاری دراصل حکومت کا بینکوں سے قرض حاصل کرنے ہی کا ایک طریقہ ہے۔

ماہراقتصادیات شاہدحسن صدیقی نے ایکسپریس ٹریبیون سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دوسری جانب مقامی بچتوں کا تناسب جی ڈی پی کے 4.6فیصد تک گرگیا ہے جو 2002 میں 18.4فیصد تھا۔مرکزی بینک کے مطابق 30 اپریل 2020 تک نجی شعبے کو بینکاری قرضے مارچ میں 8.26ٹریلین روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچنے کے بعد اپریل میں 8.22ٹریلین روپے تک کم ہوگئے۔

شاہد حسن صدیقی کے مطابق 2008 تک نجی شعبے کو بینکاری قرضے ( advances ) حکومتی ڈیبٹ سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری سے 30 تا 40 فیصد زائد ہوا کرتے تھے مگر اب صورتحال برعکس ہوگئی ہے۔

شاہد حسن کے مطابق بینک خطرات سے پاک حکومتی ڈیبٹ سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے ہیں اور نجی شعبے اور انفرادی سطح پر قرضوں کی فراہمی کے اپنے اصل کام سے انحراف برت رہے ہیں جس کی وجہ سے خلل پیدا ہورہا ہے۔ دنیا بھر میں بینکوں کی پالیسی یہ نہیں ہوتی۔

شاہد حسن صدیقی کا کہنا تھا کہ حکومت کو ایسے بینکاری قوانین کا نفاذ کرنا چاہیے جن کے تحت بینک ڈپازیٹرز کے ساتھ اپنا نفع شیئر کرنے کے پابند ہوں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان میں بینکوں کا نفع جو 2000 میں 7 بلین روپے تھا اب 250بلین روپے تک پہنچ گیا ہے۔ تاہم ڈپازیٹرز کو وہ ( سیونگ اکاؤنٹ وغیرہ کے ذریعے) کم نفع دیتے ہیں۔