ٹیکساس: ہم جانتے ہیں کہ اینٹی آکسیڈنٹس ، آکسیڈیشن کے عمل کو روکتے ہیں اب انہیں ایک طرح کے نینوکپڑے میں سموکر زخم بھرنے کی پٹیاں بنائی ہیں جو دوسری جانب کھانے پینے کی اشیا کو جلد خراب ہونے سے بھی بچاتی ہیں۔

ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اینٹی آکسیڈنٹس اجزا کو خاص نینو ریشوں (فائبر) سے بنی چٹائیوں اور کپڑوں میں پیوست کیا ہے۔ اس طرح خود زخم کی پٹی یا کپڑے میں لپٹی خوراک یا پھل وغیرہ پر دھیرے دھیرے اینٹی آکسیڈنٹ سرایت کرتے رہتے ہیں۔

ہم جانتے ہیں کی آکسیڈیشن کے عمل میں ایٹموں اور مالیکیولز سے الیکٹران نکلتے رہتے ہیں۔ اس کی ایک مثال لوہے پر زنگ لگنے کا عمل ہے۔ لیکن یہ عمل ہمارے جسم میں بھی جاری رہتا ہے اور فری ریڈکلز دوسرے سالمات سے الیکٹران نکال باہر کرتے ہیں۔ یہ عمل تیزی سے بڑھتا ہے اور خلیات میں آکسیڈیشن کا عمل جاری ہوجاتا ہے جو بہت سے بیماریوں کے ساتھ کینسر کی وجہ بھی بنتا ہے۔

یہی وجہ ہے جب زخم یا کھانے پینے کی اشیا پر ہوا لگتی ہے تو آکسیڈیشن کا عمل شروع ہوجاتا ہے جس سے ذائقہ اور زخم دونوں بگڑ سکتے ہیں۔ اسی لیے اینٹی آکسیڈںٹس کا عمل کئی طرح سے نقصاندہ ہوتا ہے۔

لیکن طویل عرصے تک کسی جگہ اینٹی آکسیڈنٹس پہنچانا مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے تجرباتی طور پر ماہرین نے ایک مشہور اینٹی آکسیڈنٹ استعمال کیا ہے جو ٹینک ایسڈ کے نام سے مشہور ہے۔ اس میں بیکٹیریا اور وائرس سے لڑنے کی صلاحیت بھی پائی جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ٹینک ایسڈ میں پولی فینول ہوتے ہیں جو اینٹی آکسیڈںٹ خواص رکھتے ہیں۔ پہلے ایک خاص پالیمر کا انتخاب کیا اور اس سے نینو دھاگے بنائے ۔ اب ٹینِک ایسڈ کو اس میں رکھا گیا تو وہ اس کے مالیکیول آرام سے اپنی جگہ پر بیٹھ گئے۔ اس کے بعد کپڑے نما چٹائی لچکدار اور مضبوط ہوگئی جسے کسی پٹی کی طرح زخم پر لپیٹا جاسکتا ہے۔ لیکن ابتدائی طور پر اینٹی آکسیڈںٹ خارج ہونے کی شرح بہت سست تھی۔

اس کے بعد نینوپٹیوں میں مزید تبدیلیاں کی گئیں اور جیسے ہی کپڑے کی پی ایچ تبدیل کی جاتی ہے اینٹی آکسیڈنٹ کا اخراج بڑھ جاتا ہے۔ ٹیکساس یونیورسٹی کی ٹیم کے مطابق تجرباتی طور پر اس کپڑے کو زخم پر باندھنے اور کھانے رکھنے کی جگہوں پر استرکاری کے لیے تیار کیا جارہا ہے۔