کراچی: ڈاکٹر کے معائنے کے بعد سب سے پہلے مریض کا براہ راست سامنا لیبارٹری کے عملے سے ہوتا ہے۔ایڈوانس لیبارٹریز کے لیب ٹیکنیشن سنیل نے ایکسپریس ٹربیون کو بتایا کہ لیب ٹیکنیشن کسی بھی مریض کے وائرس کی تشخیص کے لیے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر سب سے پہلے مریض کے سامنے ایکسپوز ہوتا ہے جس کو شعبہ طب میں مین فرنٹ لائن ہیلتھ ورکر کہاجاتا ہے۔

کووڈ19 کے مریض کے جسم میں وائرس کی تشخیص کرنے میں لیب ٹیکنیشن اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ اس خطرناک وائرس سے متاثر ہونے والے مریضوں کے پاس جانے سے قبل بائیوسیفٹی اقدامات کیے جاتے ہیں خود کو PPE (مخصوص لباس) پہن کرایکسٹرا کور آل Cover All یعنی اضافی مخصوص لباس PPE کے اوپر پہنتے ہیں۔ کراچی میں کووڈ19کے سب سے زیادہ ٹیسٹ کیے جارہے ہیں۔ مشتبہ مریضوں کی ناک اورحلق کے اندر اہک مخصوص باریک سوئی نما اسٹک ڈالی جاتی ہے اور ایک مخصوص مقام پر جانے کے بعد ناک کی رطوبت یامواد حاصل کیاجاتا ہے اور اس حاصل مواد کو انتہائی محفوظ کرکے لیب میں اس کے اجزا کو ایک خاص تیکنیک پی سی آر کے ذریعے چیک کیاجاتا ہے۔ ان تمام مراحل میں ٹیکنیشن عملہ بائیو سیفٹی کے قواعد کابھی پابند بنتا ہے۔

واضح رہے کہ کوویڈ19کے حوالے سے حکومت سندھ کے سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے سرکاری اور نجی لیبارٹریوں کیلیے کوویڈ19 ایڈوائزری ٹاسک فورس جاری کی ہے۔نیشنل انسٹیٹوٹ اف بلڈڈیزیز کے سربراہ پروفیسر طاہرشمسی، عیسی لیبارٹری کے سربراہ پروفیسر فرحان عیسی اور انفیکشن کنٹرول سوسائٹی آف پاکستان کے صدر پروفیسر ڈاکٹر رفیق خانانی نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے خلاف فرنٹ لائن پر کام کرنے والے ڈاکٹرزبشمول لیبارٹری ماہرین اور پیتھالوجسٹ میں کورونا وائرس لگنے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

ان تینوں ماہرین کا کہنا تھا کہ متاثر مریضوں کی تشخیص اور ڈاکٹروں کے معائنے کے دوران اکثر واقعات مریض کو کھانسی یا چھینکیں بھی شروع ہوجاتی ہیں جس کی وجہ سے فرنٹ لائن پر کام کرنے والے لیب ٹیکنیشن، نرسنگ وپیرا میڈیکل عملہ اور ڈاکٹرزمیں وائرس کی منتقلی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں جس کے بعد یہ وائرس براہ راست تکنیکی ماہرین کیلیے خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ان ماہرین صحت نے مزید بتایا کہ اس صورتحال کے پیش نظرسندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے سرکاری اور نجی لیبارٹری کیلیے کوروناایڈوائزری ٹاسک فورس جاری کی ہے۔ ہیلتھ کیئر کمیشن ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ عوام الناس کو یہ سمجھانا بہت ضروری ہے کہ لوگ زیادہ سے زیادہ وقت اپنے گھروں پر گزرایں۔اس کے ساتھ ساتھ تمام تر ضروری کام گھر سے ہی انجام دینے پر ضرور دیا گیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر اور طبی عملے کے وائرس سے متاثرہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ کہ کورونا کے اکثر مریض میں علامت ظاہر نہیں ہوتی۔ جب سے متاثرہ مریض اسپتال میں معائنے کیلیے جاتاہے تو لاشعوری طور پر ڈاکٹر اور دیگر طبی عملوں کو متاثرہ کردیتاہے۔

اس ضمن میں کراچی کے مختلف لیبارٹریز اپنی پیشہ وار تکنیکی ماہرین کے ذریعے مریضوں کو گھر بیٹھے لیبارٹریز کی سہولت مہیا کررہی ہیں۔ یہ ماہرین تمام تر حفاطتی سامان (ماسک، پلاسٹک کے لباس اور دستانے )سے ساتھ مریضوںکے نمونے حاصل کرکہ باحفاظت لیبارٹری منتقل کرتے ہیں۔ ان ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں کورونا وائرس کی بڑی تعداد کے پیش نظر تمام لیبارٹری اور اسپتال کو حفاظتی اقدامات بروئے کار لاتے ہوئے مریضوں کے علاج و معالج کو مکمن بنایا جائے۔