پرتھ: ٹی بی سے بچاؤ کے لیے پاکستان سمیت کئی ممالک میں بچوں کو بی سی جی (بیکیولس کالمیٹ گیورین) ویکسین دی جاتی ہے۔ اب معلوم ہوا کہ یہ ٹی بی سے دور رکھنے کے ساتھ ساتھ جسمانی امنیاتی نظام کے خلیات کو بڑھاوا دیتی ہے جس سے بچے میں دیگر امراض کے خلاف بھی مدافعت بڑھ جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق نئی تحقیق سے یہ راز افشا ہوسکتا ہے کہ آخر نومولود بچے ویکسین کس طرح سیپسِس جیسی جان لیوا مرض سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ خود ٹی بی کے علاوہ بھی یہ ویکسین کئی طرح کے امراض سے بچاتی ہے اور ان کے خلاف جسمانی طور پر مدافعتی خلیات بڑھاتی ہے۔

اگرچہ سیپسِس سے بچاؤ کے بارے میں ہم بی سی جی کی افادیت سے واقف ہیں لیکن یہ عمل سائنسی طور پر سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔

اس کے لیے پرتھ میں واقع ٹیلی تھون کڈز انسٹی ٹیوٹ کی نیلی امینوئگبی کہتی ہیں کہ انہوں نے گیمبیا، گنی بساؤ اور پاپوا نیوگنی میں 85 نومولود بچوں کا جائزہ لیا جن میں نصف بچوں کو ہی بی سی جی دی گئی تھی۔ اس کے بعد کئ مراحل پر بچوں کی صحت کو چانچا گیا اور ان کے خون کے نمونے تواتر سے لیے گئے۔

انہوں نے حیرت انگیز انکشاف کیا کہ جن بچوں کو بی سی جی ویکسین لگائی گئی تھی دیگر کے مقابلے میں صرف تین دن کے اندر ان کے خون میں امنیاتی خلیات (امیون سیلز) کی تعداد دوگنا نوٹ کی گئی ۔ اب اس کے بعد ایک اور تجربہ چوہوں پر کیا گیا۔

اس بار چوہوں کے نومولود بچوں کو بی سی جی ویکسین دی گئی اور انہیں سیپسس کا شکار بنانے کے لیے بیکٹیریا کا سامنا کرایا کیا گیا۔ اس میں وہ چوہے بھی شامل تھے جنہیں ویکسین نہیں دی گئی تھی۔ ویکسین دینے سے چوہے کے بچوں میں بھی امنیاتی خلیات دوگنا ریکارڈ ہوئے۔ یہ خلیات نوٹروفِلس کہلاتے ہیں جو سیپسِس کے بیکٹیریا سے بچوں کو بچاتے ہیں۔

کیمبرج میں باربراہم انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ڈینیکا ہِل کہتی ہیں کہ اب ٹھوس ثبوت مل گئے کہ کس طرح بی سی جی ویکسین نہ صرف ٹی بی سے بچاتی ہے بلکہ دیگر کئی جان لیوا بیماریوں سے محفوظ رکھتی ہیں اور یہ سب کچھ امنیاتی خلیات کی زائد پیداوار کی وجہ سے ہوتا ہے۔

عین اسی وجہ سے امریکہ اور یورپ میں لوگوں کو کورونا وائرس سےبچانے کے لیے بی سی جی ویکسین دی جارہی ہے تاکہ وہ کووڈ 19 سے محفوظ رہ سکیں۔