ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے سیاسی بحران کے بعد اور کورونا وائرس کی وبا کے دوران اسرائیل کی اتحادی حکومت نے حلف اٹھا لیا ہے۔

اپریل میں ہونے والے اقتدار میں شراکت کے معاہدے کے بعد دائیں بازوں کی جماعت کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو مزید 18 ماہ کے لیے ملک کے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالے گے جبکہ ان کے سیاسی حریف بینی گانز 18 ماہ تک ڈپٹی وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالے گے۔

دونوں سیاست دانوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ متنازع منصوبے کے تحت یکم جولائی تک مقبوضہ مغربی کنارے کے حصے کو اسرائیل میں شامل کرلیں گے۔ فلسطینی سیاستدانوں نے اس قدم کو غیر قانونی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو لیکوڈ پارٹی کے سربراہ ہیں اور ان کے حریف ینی گانز بلو اینڈ وائٹ پارٹی کے سربراہ ہیں۔ دونوں رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت کی نئی ترجیح کورونا وائرس کے سبب ہونے والے معاشی بحران سے نمٹنا ہے۔

اقتدار میں شراکت کے اس معاہدے نے اسرائیل میں حکومت کی تشکیل سے متعلق ایک برس سے زیادہ تک جاری رہنے والے سیاسی بحران کو ختم کر دیا ہے۔ اس دوران اسرائیل میں تین بار انتخابات ہوئے لیکن کوئی بھی جماعت اکثریت نہ حاصل کرسکی اور نہ ہی کوئی سیاسی معاہدہ ہوسکا جس سے ملک میں نئی حکومت تشکیل کی جاسکتی۔

یہ بھی پڑھیے

نیتن یاہو: ’میں جھوٹ کو جیتنے نہیں دوں گا‘

ترکی اور اسرائیل کے درمیان تلخ بیانات کا تبادلہ

یہودی بستی کی منظوری، نیتن یاہو کو امریکہ آنے کی دعوت

اسرائیل کا سیاسی بحران، ایک سال میں تیسرے عام انتخابات

نئی حکومت کی تشکیل ایک ایسے وقت میں ہوئی جب پیر کو وزیر اعظم نیتن یاہو پر عائد رشوت خوری اور بدعنوانی کے مقدمات کی سماعت شروع ہونی ہے۔ وہ اسرائیل کے پہلے وزیر اعظم ہیں جن کو اس طرح کے سنگین الزامات کا سامنا ہے۔ حالانکہ نیتن یاہو ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہیں۔

اسرائیل میں اتوار کو کیا ہوا؟

اتوار کو وزیر اعظم نیتن یاہو نے اسرائیلی پارلیمان میں اپنی حکومت پیش کی۔ انھوں نے پارلیمان کے سیشن کے افتتاحی خطاب میں کہا ’عوام ایک اتحادی حکومت چاہتی ہے اور عوام کو آج وہی مل رہی ہے۔‘

مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودیوں کی آبادکاری کے معاملے پر ان کا کہنا تھا ’وقت آ گیا ہے کہ اسرائیلی قانون کا نفاذ کیا جائے اور صیہونیت کی تاریخ میں ایک نیا باب لکھا جائے۔‘

ان کا یہ منصوبہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اسرائیل اور فلیسطین کے درمیان ’امن کے اس نظریے‘ سے مماثلت رکھتا ہے جس کو گذشتہ جنوری میں دنیا کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔ صدر ٹرمپ کے پلان کے مطابق مجوزہ فلسطینی ریاست تقریباً 70 فی صد غرب اردن اور مکمل غزہ پٹی پر مشتمل ہو گی اوراس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم کے مضافات ہو گا۔

فلسطینی جو پورے غرب اردن، غزہ اور مشرقی یروشلم پر اپنا دعوی پیش کرتے ہیں انھوں نے اس منصوبے کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کا یہ منصوبہ اسرائیل کے حق میں ہے اور ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

اسرائیل نے 1967 کی مشرقی وسطیٰ جنگ سے ان علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔ غرب اردن اور مشرقی یروشلم کی 140 بستیوں میں کم از کم چھ لاکھ یہودی آباد ہیں۔ بیشتر عالمی برادری عالمی قوانین کے تحت ان بستیوں کو غیر قانونی قرار دیتی ہے۔ حالانکہ اسرائیل ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

اقتدار میں شراکت کے معاہدے میں کن باتوں پر اتفاق ہوا؟

اسرائیل کی تاریخ میں کم ہی دیکھنے کو ملنی والی اتحادی حکومت کے وجود میں آنے کے محرکات گزشتہ ایک برس کے دوران میں تین بار انتخابات ہونے کے باوجود تیتن یاہو اور بینی گينز کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے اکثریت حاصل نہ کر پانا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے سیاسی حریف بینی گانز جو کہ فوج کے سابق سربراہ ہیں، انھوں نے اس سے پہلے کہا تھا کہ وہ کسی بھی صورت میں نیتن یاہو کی حکومت کا حصہ نہیں بنے گے کیونکہ نیتن یاہو پر مجرمانہ نوعیت کے مقدمات ہیں۔

لیکن ملک میں جیسے جیسے کورونا وائرس کی وبا پھیلی گانز نے اپنا موقف تبدیل کر لیا، ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی معمول کے حالات نہیں ہیں اور ملک کو ایک ہنگامی اتحادی حکومت کی ضرورت ہے۔

ان کے اس قدم سے ان کی پارٹی کے اتحادیوں میں پھوٹ پڑ گئی اور ان کے اتحادیوں نے مسٹر گانز پر الزام عائد کیا کہ وہ بک چکے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم پر بیش قیمت تحائف، رشوت اور میڈیا میں مثبت کوریج کے بدلے میں اقربا پروری سے کام لینے کے الزامات عائد ہیں۔ جبکہ نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ان کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار برائے مشرقی وسطیٰ یولاندا نیل نے اپنا تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کے دور میں اسرائیلی پارلیمان بہت مختلف جگہ لگتی ہے کیونکہ ممبران پارلیمان ماسک لگائے دور دور بیٹھے ہیں۔ لیکن بعض چیزیں پہلے جیسی ہی ہیں۔ بنیامن نیتن یاہو اپنے اہم حریف بینی گینز کے ساتھ سیاسی معاہدہ کرنے کے بعد ابھی بھی وزیر ا‏عظم ہی ہیں۔ اس معاہدے کے بعد ملک میں جاری سیاسی بحران کا خاتمہ ہو گیا ہے

نیتن یاہو کی سوانح عمری لکھنے والے صحافی انشل فیفر کا کہنا ہے کہ’یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔‘

’کورونا وائرس نے اس میں اہم کردار ادا کیا ہے کیونکہ اس وبا کی وجہ سے ایک ہنگامی صورتحال پیدا ہوئی ہے اور اس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ نیتن یاہو اور گانز کو اپنے اختلافات علیحدہ رکھ کر ایک اتحادی حکومت کی تشکیل پر غور کرنا چاہیے۔‘

بعض اسرائیلی اس بات پر سخت نالاں ہیں کہ موجودہ وزیر اعظم کو اس وقت سنجیدہ نوعیت کے مقدمات کا سامنا ہے اور وہ اس کے خلاف وسیع پیمانے پر ہونے والے احتجاج میں شامل ہو گئے ہیں۔ لیکن بعض کا کہنا ہے کہ انھیں اس بات کی خوشی ہے کہ ہنگامی صورتحال میں انھوں نے اپنے حکمرانوں کا امتحان لیا جس میں وہ پاس ہو گئے۔

یروشلم میں ایک خاتون کارمی کا کہنا ہے ’مجھے خوشی ہے اب ہمارے ہاں ایک حکومت ہے۔ تعلیم اور تجارت ہے۔ میرے خیال اس وقت انھیں مسائل پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔‘