گھریلو تشدد کے زیادہ تر واقعات کی شکایات خواتین کی جانب سے آتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق ایک تہائی خواتین اپنی زندگی میں جسمانی یا جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔

اس کے مقابلے میں شاذ و نادر ہی ایسا واقعہ سننے کو ملتا ہے جس میں کسی مرد پر جسمانی یا جنسی حملہ کیا گیا ہوتا ہے۔

مردوں کے ساتھ گھریلو تشدد کے واقعات اور ان کے بارے میں بات کرنا معاشرے میں معیوب سمجھا جاتا ہے اور اس کے شکار مردوں کو اکثر اپنی مشکلات اکیلے ہی جھیلنی پڑتی ہیں۔

یوکرین سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے شناخت نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی سے اپنی کہانی سنائی۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم نے چند ماہرین سے بھی اس موضوع پر بات کی کہ اگر کسی مرد کے ساتھ ایسا ہو رہا ہو تو وہ کیا کرے۔

پہلا واقعہ

مجھے نہیں معلوم میرے دوستوں کو اس بات کا شک ہوا تھا یا نہیں۔ باہر سے دیکھنے میں تو ہر چیز اچھی لگ رہی تھی۔ مسکراتے چہرے، دوست احباب، بہت سارا پیسہ، خوشیاں اور پر اعتمادی۔ ہم نے تو آدھی دنیا کا سفر بھی ساتھ کیا تھا۔

جب ہم سفر کر رہے ہوتے تھے تو مجھے اس سے ڈر محسوس نہیں ہوتا تھا۔ وہ مجھے دوسروں کے سامنے تکلیف نہیں دیتی تھی۔ مگر سب سے ضروری تھا کہ میں اس کے ساتھ اکیلے ہونے سے خود کو بچاؤں۔

مجھے اتنے طویل عرصے کے بعد اب جا کر احساس ہوا ہے کہ میری سابقہ بیوی نے مجھے دس سال تک ریپ کیا۔

میری زندگی میں پہلی عورت ارا ہی تھی۔ ہم دونوں کی ملاقات اس وقت ہوئی جب ہم 20، 22 برس کے تھے۔ اس نے ہی میری طرف محبت کا پیغام بھیجا تھا۔

میرے والدین نے کہا تھا کہ تم اگر کسی کے ساتھ تعلق قائم کرو گے تو تمہیں گھر چھوڑنا ہوگا۔

اس کا مطلب تھا کہ اگر میں کسی کے ساتھ ہوتا ہوں تو مجھے اپنے خاندان سے دور ہونا پڑے گا اور اپنے سر سے چھت کھونی پڑے گی۔ گویا ایک دن کے اندر میں اپنا سب کچھ کھو دوں گا۔

یہ میرے لیے بہت پریشان کن بات تھی۔ میں کسی کے ساتھ صرف اسی وقت تعلق قائم کر سکتا تھا جب میں مالی طور پر الگ رہنے کے قابل ہو جاؤں۔

احساسِ کمتری

اس سے بھی بڑھ کر مسئلہ تھا کہ میری ماں کو میری جسمانی ہیت پر شرمندگی تھی اور اس کی وجہ سے میں سخت احساس کمتری کا شکار تھا۔

میں نے پہلی بار جنسی تعلق ارا کے ساتھ ہی قائم کیا اور میں ایسا کرنا چاہتا تھا۔ لیکن وہ میرے لیے باعث تسکین نہیں تھا بلکہ جارحانہ اور تکلیف دہ تھا۔ جب ہم نے پہلی بار ہم بستری کی تو وہ پانچ گھنٹہ تک جاری رہا اور اس کے ختم ہونے پر میرے پورے جسم میں تکلیف تھی۔

سیکس کا مقصد ہوتا ہے تسکین حاصل کرنا لیکن میرے لیے ایسا کبھی نہیں ہوا۔ مجھے کوئی تجربہ بھی نہیں تھا اور مجھے لگا کہ یہ بس ایسے ہی ہوتا ہے تو میں نے بھی منع بھی نہیں کیا۔

لیکن پھر ایک وقت آیا جب میں نے منع کرنا شروع کیا، مگر وہ پھر بھی نہیں رکی۔ یہ وہ موقع تھا جب ہمارا تعلق ریپ میں بدل گیا۔

قید

مجھے ایک بار کام کے سلسلے میں بیرون ملک جانا تھا۔ مجھے ارا کو کھونے کا خوف تھا تو میں نے اس سے کہا کہ میرے ساتھ چلو۔ میں نے تو یہ بھی کہا کہ ہم شادی کر لیتے ہیں۔ اس نے شروع میں تو منع کیا لیکن پھر میرے ساتھ چلنے پر راضی ہو گئی۔

اس وقت سارا معاملہ شروع ہوا۔

میں تھکن سے چور تھا اور آرام کرنا چاہتا تھا لیکن اس نے سیکس کا مطالبہ کیا۔ میں ایک بار راضی ہوا، دو بار ۔۔۔

وہ کہتی 'مجھے اور چاہیے۔ مجھے اور طلب ہے، تمہیں کرنا ہوگا، میں کب سے انتظار کر رہی ہوں۔'

میں اس کو جواب میں کہتا کہ نہیں میں نہیں کر سکتا، مجھے آرام کرنا ہے، میں تھک گیا ہوں۔'

اس پر وہ مجھے مارتی اور میں اسے روکنے سے قاصر تھا۔ وہ میری جلد کو اپنے ناخن سے رگڑتی جب تک کے اس سے خون نہ نکل آتا۔ وہ مجھے مکے مارتی تھی، لیکن وہ کبھی میرے چہرے پر نشان نہیں چھوڑتی تھی۔

وہ صرف وہاں پر تشدد کرتی جو کپڑوں سے چھپ سکتا تھا۔

میں اسے روک نہیں سکا کیونکہ مجھے لگتا تھا کہ ایک عورت کو مارنا جارحیت ہے اور غلط ہے۔ میرے والدین نے میری ایسی تربیت نہیں کی تھی۔

میں خود کو کمزور محسوس کر رہا تھا اور اس کے چنگل سے نکلنے میں ناکام تھا۔ اس کو وہ سب مل رہا تھا جس کی اسے خواہش تھی اور وہ ہمیشہ مجھ پر حاوی ہوتی تھی۔

میں نے کوشش کی کہ اپنے لیے ہوٹل میں الگ کمرہ لوں لیکن میں وہاں کی مقامی زبان نہیں سمجھ سکتا تھا اور پھر میں پھنس گیا۔

میں کام مکمل ہونے کے بعد ہوٹل جاتے ہوئے خوفزدہ ہوتا تھا اور میں شاپنگ مال میں گھومتا رہتا جب کہ تک وہ بند نہ ہو جائیں۔ اس کے بعد میں شہر میں آوارہ گردی کرتا۔

وہ خزاں کا موسم تھا اور ٹھنڈ بڑھ رہی تھی اور بارش بھی ہو رہی تھی اور میں اپنے ساتھ گرم کپڑے بھی نہیں لایا تھا۔

ان تمام چیزوں کی وجہ سے پھر مجھے مثانے کی نالی میں انفیکشن ہو گیا اور بخار۔ لیکن اس کے باوجود ارا نہیں رکی۔ مجھے وہ سب کرنا تھا جو اس کا مطالبہ تھا۔

ہفتے کے آخری دن سب سے تکلیف دو ہوتے تھے۔ وہ ہفتے کے روز صبح شروع کرتی اور اتوار کی رات تک کرتی رہتی۔ میں نے گن گن کر دن گزارے کہ کب میں یوکرین لوٹوں گا۔

میں سمجھا کہ شاید اس سے ہمارا رشتہ ختم ہو جائے گا لیکن میں غلط تھا۔

میں نے چھوڑنے کی کوشش کی لیکن ہار گیا

میں اپنے والدین کے ساتھ رہنے واپس چلا گیا اور ایرا کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں رکھنے چاہتا تھا، اس کے ساتھ رہنا تو دور کی بات تھی۔ لیکن میری سارے بندھن توڑ کر آزاد ہوجانے کی کوششیں کئی سال تک چلتی رہی۔

ہم لڑتے، میں اپنا فون بند کر دیتا اور اسے ہر جگہ بلاک کردیتا۔ میں چھپ جاتا لیکن وہ آکر بند دروازے کے دوسری طرف بیٹھ جاتی۔ وہ مجھے فون کرتی اور وعدہ کرتی کہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔

اور میں ہر بار اس کے پاس واپس آجاتا۔ مجھے تنہا ہونے سے بہت ڈر لگتا تھا۔

میں نے شروع میں اسے چھوڑنے کی بہت کوشش کی، پھر کم، اور بالآخر میں نے کوشش کرنا بھی چھوڑ دیا۔ اس نے اصرار کیا کہ ہم شادی کر لیں، اور ہم نے شادی کر لی، حالانکہ میں اب یہ نہیں چاہتا۔

ایرا سب سے پر شک کرتی تھی: میرے دوست، میرے خاندان۔ میں جہاں بھی جاتا مجھے ہمیشہ اسے فون کرنا پڑتا۔ 'مجھے ان کانفرنسز میں کیوں شرکت کرنا ہے؟' 'مجھے دوستوں سے کیوں ملنا ہے؟ مجھے ہر وقت اس کی پہنچ میں رہنا تھا۔

وہ میرے بغیر کہیں نہیں جاسکتی تھی۔ میں اس کے لیے کوئی کھیل تھا کہ مجھے ہر وقت اس کی تفریح کا سامان کرنا ہے۔

ایرا کے پاس نوکری نہیں تھی، میں ہم دونوں کے لیے کماتا، کھانا پکاتا اور صفائی کرتا۔ ہم نے ایک بہت بڑا اپارٹمنٹ کرایہ پر لیا جس میں دو باتھ روم تھے۔ مجھے مین باتھ روم استعمال کرنے سے منع کر دیا گیا اور مجھے 'مہمان' والا باتھ روم استعمال کرنا پڑتا تھا۔ ہر صبح مجھے نو یا 10 بجے تک اس کے اٹھنے تک انتظار کرنا پڑتا ورنہ میں اس کی نیند میں خلل ڈالنے کا مرتکب ہو جاتا۔

اس نے فیصلہ کیا کہ ہمیں مختلف کمروں میں سونا چاہیے اور میرے کمرے میں کوئی تالا نہیں ہو۔ میں کبھی تنہا نہیں ہوسکتا تھا۔

جب بھی مجھ سے 'کوئی غلطی' ہو جاتی تو مجھ پر چیختی اور مجھے مارتی پیٹتی۔ اور ایسا روزانہ یا کم از کم دو دن میں ایک بار تو ضرور ہوتا تھا۔

جو کچھ بھی ہوتا وہ اس کے لیے مجھے مورد الزام ٹھہراتی۔ میں سنتا رہتا کہ اسے کس طرح کے مرد کی ضرورت ہے، اسے کیا اور کس طرح کرنا چاہیے۔ میں لاچار تھا اور وہ جو بھی کہتی وہ کرتا تاکہ اس کے غصے سے بچا رہوں کیونکہ وہ کبھی بھی پھوٹ پڑتا تھا۔

مجھے سیڑھیوں سے نیچے جاکر کار میں بیٹھ کر اپنا رونا یاد ہے۔ وہ وہاں سے گزری اور اس نے مجھے دیکھ لیا۔ جب میں گھر واپس آیا تو اسے میرے لیے بہت افسوس ہے لیکن وہ خود کو روک نہیں سکی تھی۔

لہذا اگلے دن سب کچھ دوبارہ سے شروع ہوجاتا۔ اس سے قطع نظر کہ میں نے کیا کیا اور کتنا خوفزدہ محسوس کیا کچھ بھی نہیں بدلا۔

میں بھی کامل نہیں ہوں۔ اس سب سے بچنے کے لیےمیں دن میں 10، 12، 14 گھنٹے کام کرتا تھا یہاں تک کہ سنیچر اور اتوار کو بھی کام کرتا۔ یہ آسان تھا کیونکہ کچھ لوگ پیتے ہیں اور کچھ کام کرتے ہیں۔

تشدد کا نشانہ بننے والے اپنا استحصال کرنے والے کو کیوں نہیں چھوڑتے؟

  • جو لوگ ایسے خاندان میں پرورش پاتے ہیں جہاں تشدد ہوتا ہے ان کا اس طرز عمل کو دہرانے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
  • تنہائی اور دقیانوسی تصورات کا خوف: 'پڑوسی کیا کہیں گے؟' یا 'کیا ایک بچے کو دو والدین کے ساتھ بڑا ہونا چاہیے۔'
  • پہلا مرحلہ نفسیاتی بدسلوکی کا ہے جسے سمجھنا مشکل ہے۔ لہذا ، بدسلوکی کا شکار شخص آہستہ آہستہ اس کا عادی ہوجاتا ہے اور صورتحال کا اندازہ کرنے اور کے خلاف رد عمل ظاہر کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتا ہے۔
  • تشدد کے شکار شخص کو مدد کے لیے کہیں جانے کی جگہ نہیں ملتی، وہ استحصال کرنے والے پر معاشی طور پر م انحصار کرتا ہے یا کسی کمزور حالت میں ہوتا ہے (جیسے حمل یا کم عمر بچوں کے ساتھ)۔
  • یہ جب حکام سے مدد مانگتے ہیں تو انھیں یہ سننے کو ملتا ہے کہ یہ 'خانگی مسئلہ' ہے اور اس لیے وہ چھوڑ دیتے ہیں۔

لا اسٹراڈا-یوکرین نیشنل ہاٹ لائن ڈپارٹمنٹ کی سربراہ الایونا کرایوولیاک اور صنفی بنیاد پر پیدا ہونے والے تشدد کی روک تھام اور ان کے تدارک سے متعلق اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کی مشیر اولینا کوچیومروسوکا نے مندرجہ بالا اور دیگر وجوہات کا ذکر کیا ہے

'میں نے بات کرنا شروع کی اور بس نہیں کیا'

جب آپ اس طرح کی صورتحال میں ہوتے ہیں تو آپ کو احساس نہیں ہوتا ہے کہ آپ کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ آپ کو راستہ نظر نہیں آتا ہے اور آپ کسی کی نہیں سنتے ہیں۔ آپ یہ تک نہیں سوچتے کہ آپ کے فرار ہونے کا راستہ ہے، یہ بالکل مایوسی ہے۔

میں نے وہ کام کیے جو میں نہیں کرنا چاہتا تھا کیونکہ مجھے اس کی عادت پڑ گئی تھی۔ میں ہمیشہ سب کا احسان مند رہا اور کبھی بھی خود کا نہیں ہو سکا۔ میں اپنے دادا دادی نانا نانی اور والدین کا فرمانبردار رہا میں ہمیشہ سوچتا تھا کہ آپ کو رشتے کی خاطر سب کچھ قربان کرنا پڑتا ہے۔

اور اس لیے میں نے اپنے مفادات اور خود کو بھی قربان کر دیا۔ اس وقت میرے لیے یہ معمول کی بات تھی۔ اور پھر سب کچھ اور بھی خراب ہوتا گیا۔

ابتدا میں ہی مجھے یہ پسند نہیں تھا لیکن بالآخر تعلقات کے آخری تین چار سالوں کے بعد سیکس کے خیال سے مجھے خوف کے دورے آنے لگتے۔ یہ اسی وقت ہوتا جب کبھی مجھے پکڑ لیتی اور زبردستی کرنے میں کامیاب ہوجاتی۔

جب میں گھبراتا تو میں اسے پیچھے دھکیل دیتا، چھپ جاتا، بھاگتا، گھر سے بھاگ جاتا، یا کم از کم کمرے سے تو بھاگ ہی جاتا تھا۔

ایرا نے کہنا تھا کہ میری وجہ سے ہم میں سیکس کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ اس لیے ہر ایک دو سال بد وہ مجھے ماہر جنسی امراض کے پاس لے جاتی۔

جب بھی میں کہتا کہ مجھے یہ چیز پسند نہیں اور میں اسے (سیکس کو) بالکل پسند نہیں کرتا تو مجھے کہا جاتا کہ میں ہی ساری پریشانی ہوں۔ میں زیادتی اور ریپ پر خاموش رہا۔

اور ایرا کے لیے ڈاکٹروں کے یہاں جانا اس کی بات کے ثبوت تھے۔ میں نے طلاق سے کچھ پہلے اس کے متعلق[تشدد کے بارے میں] بات کی۔ میں نے بات شروع کی تو رک ہی نہیں پا رہا تھا۔

'مجھے کس طرح مدد اور چھٹکارا ملا'

یہ خزاں کا موسم تھا۔ میں تقریباً دو ہفتوں تک کھانسی 39 -40 ڈگری بخار میں بستر پر پڑا رہا۔ اس دوران کسی نے بھی مجھ سے ملاقات نہیں کی۔ اس وقت میں نے محسوس کیا کہ میری زندگی بیکار ہے اور اگر میں مر بھی جاؤں تو کسی کو پتا نہیں چلے گا۔

یہ بصیرت افروز لمحہ تھا: خوف، ناگواری اور ناقابل یقین حد تک خود پر ترس آ رہا تھا۔ میں کسی کو بتانا چاہ رہا تھا لیکن میں نہیں جانتا تھا کہ کسے بتاؤں اور کیسے بتاؤں۔

ایک بار میں اپنے والدین کے گھر اس وقت گیا تھا جب وہ وہاں نہیں تھے، صرف تنہائی کے لیے وہاں گیا۔

میں انٹرنیٹ پر سرفنگ کر رہا تھا اور ایک چیٹ میں شامل ہوگیا جو کسی اشتہار کی ونڈو سے نکل آيا تھا۔ وہاں سب کچھ بے نام تھا۔ جیسے آپ کو کوئی وجود ہی نہ ہو۔

یہ پہلا موقع تھا جب میں نے کبھی میرے ساتھ جو کچھ ہورہا تھا اس کے بارے میں کچھ کہا تھا۔ میں یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ وہ زیادتی ہے لیکن پھر میں نے زیادہ سے زیادہ 'نہیں' کہنا شروع کیا۔

جب بھی مجھے اپنے اندر قوت کی ضرورت محسوس ہوتی تو میں ان دنوں کو یاد کرتا جب میں بیمار تھا۔ آخر کار مجھے ایک فیملی تھراپسٹ ملا جس نے میری مدد کی۔ اس دوران مجھے اور ایرا دونوں کو بات کرنے کا موقع دیا جاتا اور اسے مجھے بیچ میں ٹوکنے سے باز رکھا جاتا۔ اسی دوران پہلی بار میں نے زیادتی کی بات کی۔

وہ اس قدر غصے میں تھی کہ وہ چیخ پڑی کہ یہ بالکل جھوٹ ہے۔

بہر حال اس کے فورا بعد اس نے طلاق کی تجویز دی۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہ یہ چاہتی تھیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ اس کی مجھے خاموش کرنے کی ایک کوشش تھی۔ میں جانتا تھا کہ مجھے دوسرا موقع نہیں ملے گا اور میں راضی ہوگیا۔

ایک دفتر میں قطار تھی لہذا ہم دوسرے دفتر گئے۔ میں سوچ رہا تھا کہ یہ مجھے کر گزرنا جب تک کہ میرے پاس موقع ہے۔

اور ہم نے وہ حاصل کیا۔

جب میں نے ایک ماہ بعد طلاق کے کاغذات اٹھائے تو وہ میری زندگی کا سب سے خوشگوار دن تھا۔

طلاق کے ایک دن بعد میں اس پر چیخ پڑا تھا: 'تم میرا ریپ کر رہی تھی!'

اس نے کہا: 'میں تمہار ریپ کر رہی تھی تو کیا ہوا؟'

مجھے اس کا جواب اس وقت نہیں ملا اور آج تک نہیں پتا ہے۔ ایک طرح سے اس نے اعتراف کیا کہ اس نے کیا تھا لیکن اس کو اس نے ہنسی میں اڑا دیا۔

میں اپنے والدین کے ساتھ واپس چلا گیا، نوکری چھوڑ دی اور کچھ ہفتوں تک گھر میں ہی رہا۔ مجھے ڈر تھا کہ وہ باہر کہیں میری تلاش کر رہی ہے۔

پھر ایک دن وہ آئی اور اس نے دروازہ کھٹکھٹانا، اس پر لات مارنا اور چیخنا شروع کر دیا۔ ماں نے کہا کہ وہ ڈر گئی تھیں۔ میں نے خود پر ہی مسکرایا اور کہا: 'ماں، آپ سوچ بھی نہیں سکتیں۔۔۔'

یہ سمجھنا ضروری ہے: یہ آپ کو مار ڈالتا ہے

میں نے شواہد جمع نہیں کیے اور کسی کو نہیں بتایا۔

میں شاید اپنے والدین کو بتا سکتا تھا لیکن بچپن سے ہی میں جانتا تھا کہ وہ کوئی راز رکھنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ مجھے یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ میں اپنے ساتھ ہونے والی چیزوں کے بارے میں اپنے دوستوں سے کس طرح بات کروں۔

میں امدادی گروپس کی تلاش میں تھا لیکن یوکرین میں وہ صرف خواتین کے لیے ہیں۔ آخر میں مجھے سان فرانسسکو سے تعلق رکھنے والے مردوں کو باہمی تعاون فراہم کرنے والا ایک آن لائن گروپ ملا۔

میں یوکرین میں جس پہلے ماہر نفسیات سے ملا اس نے میرا مذاق اڑایا: 'یہ اس طرح نہیں ہوتا - وہ لڑکی ہے اور تم لڑکے ہو۔' لہذا میں نے چھ ماہرین کو تبدیل کیا اور اب آخر کار مجھے مدد مل رہی ہے۔ آٹھ مہینے لگے اس سے پہلے کہ میں کسی کو اپنا ہاتھ پکڑنے دوں۔

مرد نفسیاتی مدد کیسے حاصل کرتے ہیں؟

سماجی کارکن میکس لیون نے بتایا کہ یوکرین میں فادرز کلب کی برادری میں نفسیاتی مدد کے گروپ قائم کیے گئے تھے لیکن یہ پہل زیادہ دیر تک جاری نہیں رہ سکی۔ ان کے مطابق مرد ماہر نفسیات کے پاس جانے کو تیار نہیں تھے۔

لا اسٹراڈا یوکرین سے تعلق رکھنے والی الایونا کرییوولیاک کا کہنا ہے کہ مردوں نے اسی وقت مدد کے لیے کال کرنا شروع کیا جب لا اسٹراڈا ہاٹ لائن نے چوبیس گھنٹے کام کرنا شروع کیا۔ روایتی کاروباری اوقات میں مرد کال نہیں کر سکتے تھے۔

لیکن اب بھی مرد بنیادی طور پر گمنامی چاہتے ہیں اور وہ عوامی اداروں جیسے عدالتوں یا قانون نافذ کرنے والے اداروں میں اپنے حقوق کا دفاع کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

بحران کی ماہر نفسیات اور سیکولوجسٹ یولیا کلائمینکو کہتی ہیں کہ مرد متاثرین کے لیے بدسلوکی سے نفسیاتی طور پر نکلنے کا عمل طویل ہوسکتا ہے۔ بہر طور معاشرہ 'لڑکے نہیں روتے' یا 'مرد جسمانی طور پر مضبوط ہیں' جیسے جملے سے مدد نہیں کرتا۔

جنسی، نفسیاتی یا جسمانی زیادتی کا شکار مرد معاشرے کے لیے غیر معمولی لگتا ہے۔ مز کلائمینکو کے مطابق پیچیدہ صدمے میں مبتلا مؤکلوں کو ان کی صنف یا عمر سے قطع نظر زیادہ عرصے تک کے لیے ان کے 'اوسان بحال کیے جانے' کی ضرورت ہے۔

میں نے اسے عدالت لے جانے پر غور کیا۔ لیکن وکیلوں کا کہنا تھا کہ اس میں تدارک کے طور پر روک تھام کا حکم ملنے کا امکان ہے۔ لیکن مجھے اب اس کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک لمبے عرصے سے میں صرف یہ چاہتا تھا کہ وہ اس کا اعتراف کرے اور معافی مانگے۔

میں ابھی بھی کام پر نہیں جاتا ہوں اور میرے لیے ہر صبح بستر سے باہر نکلنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ میرے پاس جینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ میں اتنے سال کیا کرتا رہا۔

میں بس یہ جانتا ہوں کہ میرا کبھی رشتہ نہیں ہوگا اور کبھی اولاد نہیں ہوگی۔ میں نے خود سے ہار مان لی ہے۔

لیکن لعنت ہو کہ میں اتنے عرصے تک خاموش رہا اور اس کی وجہ سے اس طرح کی گڑبڑ ہوئی! ہوسکتا ہے کہ ابھی اسی طرح کی صورتحال میں کوئی شخص پھنسا اور وہ میری کہانی پڑھے۔

اس کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ: یہ ختم نہیں ہوگا، کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوگا، یہ ایک حقیقی گندگی ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگی اور یہ آپ کی جان لے لے گی۔ اگر آپ اسے سمجھ لیتے ہیں، تو کم از کم آپ کے پاس اب بھی ایک موقع ہے۔