اسرائیل میں ایک عدالت نے ایک یہودی آباد کار کو غرب اردن میں سنہ 2015 میں ایک فلسطینی خاندان کے تین افراد کو قتل کرنے کا مجرم قرار دیا ہے۔

ججوں نے ایمرن بن یولل کو غرب اردن کے گاؤں دوما میں ایک آتشی بم ایک گھر پر پھینکنے کا مجرم قرار دیا اس بم حملے میں سعد، ان کی کی بیوی ریحام دوابشا اور ان کا 18 ماہ کا بچہ علی ہلاک ہو گئے تھے۔

علی کا چھوٹا بھائی جو اس وقت صرف چار ماہ کا تھا اس حملے میں شدید زخمی ہو گیا تھا۔

بن یولل کو اقدام قتل کا مجرم بھی ٹھہرایا گیا لیکن اسے دہشت گردوں کے گروہ سے تعلق کے الزام میں بری کر دیا گیا۔

مجرم کے وکلا کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کریں گے اور ان کا کہنا ہے کہ تفتیش کاروں نے انھیں ان الزامات کا اعتراف کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔

دوابشا خاندان کے گھر پر رات کے وقت کیے جانے والے اس حملے کی دنیا بھر نے مذمت کی تھی اور اس کے بعد فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان تشدد بھی شروع ہو گیا تھا۔

مزید پڑھیے:

اسرائیلی شہریوں کو سعودی عرب جانے کی اجازت

لاکھوں اسرائیلی فلسطینی علاقوں میں کیوں رہتے ہیں؟

اسرائیلی فوج کی قید میں گزرا بچپن

اسرائیلی ’جارحیت‘کی تحقیقات کا اعلان

سعد اور ریحام اپنے بچوں کے ساتھ سو رہے تھے جب ان کی کھڑکی سے ایک نقاب پوش نے ان کے گھر کے اندر بم پھینک دیا تھا اور ان کے گھر کی دیوار پر عبرانی زبان میں انتقام کا لفظ لکھ دیا تھا۔

بم سے لگنے والی آگ میں علی ہلاک ہو گیا تھا جبکہ اس کے والدین سعد اور ان بیوی ہسپتال میں دم توڑ گئے تھے۔ علی کے چھوٹے بھائی احمد کو کئی ماہ ہسپتال میں زیر علاج رہنا پڑا تھا۔

سنہ دو ہزار سولہ میں اسرائیل پولیس نے بن یولل پر قتل کا الزام لگایا تھا اور اس کے ساتھ ایک اور مشتبہ ساتھی بھی تھا لیکن کم عمر ہونے کی وجہ سے اس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔

عدالت کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یہ حملہ ایک یہودی آباد کار کو چلتی گاڑی سے فائرنگ کر کے ہلاک کر دینے کے چند دن بعد انتقام کے طور پر کیا گیا تھا۔

گزشتہ سال عدالت نے ایک بچے کی طرف سے دواشبا خاندان پر حملے کرنے کے جرم کا اعتراف کیے بعد ان سے نرمی برتنے کا فیصلہ کیا تھا۔

بن یولل جن کی عمر پچیس سال ہے اور جن کا تعلق سلحو کی یہودی بستی سے ہے فیصلہ سنائے جاتے وقت ضلعی عدالت میں سر جھکائے بیٹھے رہے۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق بن یولل نے تین مرتبہ اپنے جرم کا اعتراف کیا تھا۔ ایک اسرائیلی اخبار کے مطابق ان میں سے دو اقبالی بیانات کو مسترد کردیا گیا تھا کیونکہ وہ جسمانی طاقت استعمال کیے جانے کے دوران یا اس کے فوری بعد لیے گئے تھے۔

لیکن تیسرے اقبالی بیان کو عدالت نے تسلیم کر لیا تھا اور کہا تھا کہ اس کے ساتھ تفصیلی شواہد موجود ہیں اور اس میں وقوعہ کی بھی تمام تفصیل دی گئی تھی۔

فیصلہ سنائے جانے کے بعد بن یولل کے وکلا کا کہنا تھا کہ یہ اسرائیل کی تاریخ میں ایک سیاہ دن ہے جب عدالت نے ایک بے گناہ شخص کو مجرم قرار دیا ہے جس کے بے گناہ ہونے کی پکار آسمان سے بھی آ رہی ہے۔

احمد دوابشاہ کے نانا حسین کا کہنا تھا 'کہ یہ مقدمہ دوسروں کے لیے ہے ان کے لیے نہیں۔'

انہوں نے کہا کہ 'اس سے ان کی بیٹی اور اس کا شوہر اور ان کا نواسہ واپس نہیں آئیں گے۔ لیکن میں احمد کی جگہ کسی اور کی جان لینا نہیں چاہوں گا۔' ایک اسرائیلی اخبار کے مطابق حسین نے مزید کہا کہ 'ہم نے بہت بڑا صدمہ برداشت کیا ہے میں اسے سو سال بعد بھی نہیں بھول سکتا۔ میں نہیں چاہتا کہ ایسا کسی اور خاندان کے ساتھ ہو۔'

اسرائیل کے اندرونی خفیہ ادارے سین بیت کی طرف سے غیر متوقع طور پر ایک بیان جاری کیا گیا جس میں اس فیصلے کو یہودی دہشت گردی کے خلاف ایک سنگ میل قرار دیا گیا۔ اس بیان میں کہا گیا کہ بن یولل کا جرم حد سے گزر جانے کے مترادف ہے۔