امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں کہ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کورونا وائرس کے چین میں سامنے آنے کے بعد اس سے نمٹنے میں بدانتظامی کا ثبوت دیا اور اس کے پھیلاؤ کو پوشیدہ رکھنے میں مدد کی تھی۔

لیکن ڈبلیو ایچ او نے وبا کے شروع کے مراحل میں اس سے نمٹنے کے اپنے طریقے کا دفاع کیا ہے۔

بی بی سی نے صدر ٹرمپ کے ڈبلیو ایچ او پر لگائے جانے والے کچھ الزامات کا جائزہ لیا ہے۔

پہلا دعویٰ

’ڈبلیو ایچ او معلومات کو درست طریقے سے حاصل کرنے، پرکھنے اور وقت پر اور شفاف طریقے سے شیئر کرنے میں ناکام رہا ہے۔‘

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ چین نے اسے جو بھی معلومات دیں اس نے ان پر درست طریقے سے عمل کیا اور دنیا کے طبی اور سائنسی ماہرین، بشمول امریکہ، سے ان کا تبادلہ کیا ہے۔

لیکن ڈبلیو ایچ او کے پاس وہ طاقت نہیں ہے جس سے وہ کسی ملک پر یہ نافذ کر سکتا ہے یا اسے مجبور کر سکتا ہے کہ وہ معلومات دے۔

اور اس کے متعلق ڈبلیو ایچ او کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر 4 جنوری کو بتایا گیا تھا۔

اس کے بعد 5 جنوری کو ڈبلیو ایچ او نے سرکاری بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ اس نے چینی حکام کو کہا ہے کہ وہ بیماری کے متعلق اسے مزید معلومات فراہم کریں۔

12 جنوری کو چین نے باضابطہ طور پر نئے کورونا وائرس کی جینیاتی ترتیب کو شیئر کیا۔

20 اور 21 جنوری کو ڈبلیو ایچ او کی علاقائی ٹیم نے وہان کا دورہ کیا۔

اور 22 جنوری کو ایک تفصیلی بیان میں یہ بتایا گیا کہ انھوں نے وہان میں کیا دریافت کیا۔

28 جنوری کو ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر ٹیڈروس ادہانوم غیبریسیئس چینی رہنماؤں سے کورونا وائرس کی وبا کے متعلق بات کرنے کے لیے بیجنگ گئے۔

دنیا میں کورونا کہاں کہاں: جانیے نقشوں اور چارٹس کی مدد سے

کورونا وائرس کی ویکسین کب تک بن جائے گی؟

کورونا وائرس اور نزلہ زکام میں فرق کیا ہے؟

آخر کرونا وائرس شروع کہاں سے ہوا؟

کورونا وائرس: سماجی دوری اور خود ساختہ تنہائی کا مطلب کیا ہے؟

کورونا وائرس: ان چھ جعلی طبی مشوروں سے بچ کر رہیں

اور جنوری کے اختتام تک ڈبلیو ایچ او نے وبا کو عالمی تشویش والی ایک پبلک ہیلتھ ایمرجنسی قرار دے دیا۔

اگرچہ ایک رپورٹ کے مطابق 15 ملکوں سے ڈبلیو ایچ او کے ماہرین جن میں چینی ماہرین بھی شامل تھے، عالمی الرٹ جاری کرنے کے معاملے پر اس سے ایک ہفتہ قبل بھی ملے تھے، لیکن ان میں کوئی اتفاقِ رائے نہ ہو سکا۔

دوسرا دعویٰ

’جنوری کے وسط میں اس (ڈبلیو ایچ او) نے اس خیال کو بار بار دہرایا کہ کہ یہ ایک انسان سے دوسرے انسان کو نہیں لگتا جبکہ ثبوت اس کے الٹ تھے۔‘

14 جنوری کو ڈبلیو ایچ او نے ٹویٹ کیا کہ چینی حکام کی طرف سے کی جانے والی ابتدائی تحقیقات سے یہ سامنے آیا ہے کہ انھیں اس بات کے کوئی واضح ثبوت نہیں ملے کہ اس کی ٹرانسمیشن ایک انسان سے دوسرے انسان میں ہو سکتی ہے۔

لیکن اسی دن، ڈبلیو ایچ او کی ایمرجنگ ڈیزیز یونٹ کی قائم مقام سربراہ ماریہ وین کرکہوو نے صحافیوں کو بتایا کہ وہان میں ’انسان سے انسان تک محدود ٹرانسمیشن دیکھی گئی ہے۔‘

تاہم اس وقت تک اس کی ٹرانسمیشن انسان سے انسان تک جاری رہنے کا کوئی واضح ثبوت نہیں ملا تھا۔

لیکن یہ ممکن تھا کہ وائرس دور تک پھیل سکتا ہے۔

اس کے بعد 22 جنوری کو ایک بیان میں ڈبلیو ایچ او نے تصدیق کی کہ اس بات کا واضح ثبوت ملا ہے کہ وہان میں وائرس ایک انسان سے دوسرے انسان کو منتقل ہوا ہے۔

اور اس نے جرمنی کے جریدے ڈیئر سپیگل کی اس رپورٹ کی تردید کی کہ اس نے انسان سے انسان تک ٹرانسمیشن کی خبر کو چین کی درخواست پر روکا ہوا تھا۔

تیسرا دعویٰ

’ڈبلیو ایچ او کو زیادہ تر فنڈ امریکہ سے ملتے ہیں، لیکن اس کی توجہ زیادہ چین پر مرکوز ہے۔‘

امریکہ ڈبلیو ایچ او کو چندہ دینے والے بڑے معاونین میں سے ایک ملک ہے اور گذشتہ مالی سال اس نے ڈبلیو ایچ کی کل فنڈنگ میں سے 15 فیصد دیے تھے۔

لیکن بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن بھی ایک بڑی معاون تنظیم ہے اور اسی طرح برطانیہ اور جرمنی بھی۔

ڈبلیو ایچ او نے چین کورونا وائرس کے متعلق ردِ عمل اور اس کی ’شفافیت کے عزم‘ کی تعریف کی تھی۔

ڈبلیو ایچ او ڈاکٹر مائیکل ریان کہتے ہیں کہ ان کی تنظیم چین کے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوششوں کے وقت اس کے ساتھ مواصلات کے رابطے کھلے رکھنا چاہتی تھی۔

لیکن پبلک ہیلتھ کے ماہر لارنس گوسٹن نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ’ڈبلیو ایچ او کی چین کی تعریف پر تعمیری تنقید جائز ہے۔‘

ڈبلیو ایچ او پر یہ بھی الزام لگتا رہا ہے کہ وہ تائیوان کے مسئلے پر بیجنگ سے غیر ضروری طور پر متاثر ہے۔

تائیوان ڈبلیو ایچ او کا رکن نہیں ہے، کیونکہ اس جزیرے کو اقوامِ متحدہ نے تسلیم نہیں کیا ہے۔

لیکن ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ وہ اس سے معلومات کا تبادلہ نہیں کرتا۔

تائیوان کہتا ہے کہ اس نے وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کے متعلق دسمبر کے اختتام پر اس وقت خبردار کیا تھا جب اس کے کچھ سائنسدانوں نے وہان کا دورہ کیا تھا۔

لیکن ابھی تک ڈبلیو ایچ او اور تائیوان کے درمیان سامنے آنے والی گفتگو سے پتہ چلا ہے کہ تائیوان نے خصوصی طور پر انسان سے انسان تک ٹرانسمیشن کا ذکر نہیں کیا تھا۔

تائیوان کہتا ہے کہا اس کی وارننگ پر توجہ نہیں دی گئی۔ جبکہ ڈبلیو ایچ او اس کی تردید کرتا ہے۔

چوتھا دعویٰ

ڈبلیو ایچ او کے سب سے خطرناک فیصلوں میں سے ایک سفری پابندیوں کی مخالفت تھا۔ وہ حقیقت میں ہمارے ساتھ لڑے تھے۔‘

امریکہ نے چین اور دوسرے ممالک کے ساتھ سفر پر 2 فروری کو پابندیاں لگا دی تھیں۔

لیکن اس بات کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے کہ ڈبلیو ایچ او نے کھلے عام اس پر تنقید کی ہو۔

اور اس کا ایسا کرنا نہایت غیر معمولی بھی ہو گا۔

لیکن اس نے 10 جنوری کو ایک ہدایت نامے میں کہا تھا کہ وہ وائرس کی وجہ سے بین الاقوامی سفری پابندیاں تجویز نہیں کرتا۔

اور فروری کے آخر میں ایک بیان میں یہ کہہ کر تصدیق کی گئی تھی کہ سفری پابندیاں عموماً اتنی موثر نہیں ہوتیں اور ان کا سماجی اور اقتصادی اثر اس کے بالکل الٹ ہو سکتا ہے، اگرچہ یہ بات وبا کے ابتدائی مرحلے میں تھوڑے عرصے کے لیے جائز ہو سکتی ہیں۔