کوروناوائرس کے بڑھتے ہوئے اقتصادی اثرات نے 2015 کے بعد پہلی بار جاپان کو معاشی بحران کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ دنیا کی تیسری بڑی معیشت میں 2020 کی پہلی سہ ماہی میں 3.4 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

کوروناوائرس نے عالمی معیشت کو تباہی سے دوچار کر دیا ہے اور اس سے ہونے والے نقصان کا اندازہ 8.8 ٹرِلین ڈالر لگایا گیا ہے۔

گزشتہ ہفتے جرمن معیشت بھی بحران کا شکار ہوگئی تھی جبکہ دیگر بڑی معیشتیں متواتر لاک ڈاؤن کی گرفت میں ہیں۔

جاپان نے قومی سطح پر مکمل لاک ڈاؤن نہیں کیا تھا تاہم اپریل میں ہنگامی حالت نافذ کر دی تھی جس نے تجارت پر انحصار کرنے والے اس ملک میں کاروبار اور مال کی فراہمی کو بری طرح متاثر کیا۔

جاپان کی مجموعی قومی پیداوار میں 2020 کے ابتدائی تین ماہ میں 3.4 فیصد کی اس کمی سے پہلے 2019 کی آخری سہ ماہی میں بھی ملکی معیشت میں 6.4 فی صد کی کمی واقع ہو چکی تھی، جس نے مل کر جاپانی کو اصولی طور پر معاشی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔

مزید پڑھیے:

چینی معیشت میں سست روی عالمی معیشت کے لیے خطرہ

پاکستان کا ’ہاٹ منی‘ کا تجربہ کیوں ٹھنڈا پڑ گیا

جاپان اپنے ہوٹل کس طرح از سر نو ایجاد کر سکتا ہے؟

مغربی معاشرے کے زوال کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟

جاپانی صارفین کو کوروناوائرس کے مالی اثرات اور سیلز ٹیکس میں اضافے کی وجہ سے دوہری مشکل کا سامنا ہے۔ اکتوبر میں سیلز ٹیکس 8 فیصد سے 10 فیصد کر دیا گیا تھا۔

جاپان نے ملک کے 47 میں سے 39 ڈویژنوں میں ہنگامی حالت ختم کر دی ہے مگر جاری سہ ماہی کے اندر معاشی امکانات روشن نہیں ہیں۔

خبر رساں ادارے رؤٹرز کے مطابق معاشی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اپریل-جون کی سہ ماہی میں جاپانی معیشت مزید 22 فیصد تک سکڑ جائے گی جو ایک ریکارڈ ہوگا۔

جاپان کی حکومت نے معاشی بحالی کے لیے ایک ٹرِلین کے امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے، اور بینک آف جاپان نے بھی اپریل میں مسلسل دوسرے ماہ معیشت کو سہارا دینے والے اقدامات کا اعلان کیا۔

جاپانی وزیراعظم شِنزو ایبے نے عالمی وبا سے ہونے والے معاشی نقصان کے پیش نظر اس ماہ دوسرا بجٹ پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔

جاپانی معاشی بحران سے کیسے نکل سکتا ہے؟

جاپانی معیشت امریکی اور چینی معیشتوں کے مقابلے میں کئی دہائیوں سے جمود کی شکار تھی۔

جاپان کا انحصار برآمدات پر ہے اور بیرون ملک صارفین کی مانگ پر اس کا کنٹرول نھیں جو لاک ڈاؤن کے سبب بری طرح سے متاثر ہوئی۔ بڑے جاپانی برانڈ مثلاً ٹویوٹا اور ہنڈا کی فروخت میں بہت زیادہ کمی واقع ہوئی ہے۔

ایک دوسری صنعت سیاحت کی ہے جو جاپانی معیشت میں بہت اہم تھی وہ بھی عالمی وبا کی وجہ سے مجروح ہوئی ہے کیونکہ عالمی وبا کی وجہ سے غیرملکی سیاح وہاں نہیں جا رہے ہیں۔

جاپان میں کوروناوائرس کے 16 ہزار مصدقہ واقعات پیش آئے ہیں اور اس سے مرنے والوں کی تعداد 740 ہے۔

دیگر بڑی معیشتوں سے تقابل

جاپان سمیت دوسری بڑی معیشتوں کے لیے مستقبل قریب میں حالات اچھے نہیں ہیں۔ مگر دنیا کی چھوٹی کی معیشتوں کے مقابلے میں جاپان کے معاشی بحران سے پہلے دوچار ہونے کے باوجود اس کی حالت دوسرے ملکوں سے بہتر ہیں۔

ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اپریل جون کی سہ ماہی میں جہاں جاپان کی معیشت میں 22 فیصد تک سکڑاؤ آ سکتا ہے وہاں امریکا کی معیشت میں 25 فیصد کمی آنے کا خدشہ ہے۔

اس سال کی پہلی سہ ماہی کے اندر جاپان میں 3.4 فیصد سالانہ کی شرح سے معاشی کمی واقع ہوئی مگر اسی عرصے میں امریکی میں یہ شرح 4.8 فیصد رہی۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت میں 1930 کی کساد بازاری کے بعد سب سے بڑی ابتری ہے۔

چین میں، جو دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے، پہلی سہ ماہ کے دوران شرح نمو میں 6.8 فیصد کمی واقع ہوئی۔

تاہم اب تک امریکی اور چینی معیشتوں کو اصولی طور پر بحران سے دوچار قرار نہیں دیا گیا ہے۔ ایسا اس صورت میں کیا جاتا ہے کسی ملک کی معیشت میں متواتر دو سہ ماہیوں تک منفی شرح نمو واقع ہو۔ تاہم ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اگلے چند ماہ میں اس کا قوی امکان ہے۔