کراچی: سابق پاکستانی اداکارہ صاحبہ افضل ریمبو نے ترک ڈراما سیریل ’’ارطغرل غازی‘‘ کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانیوں نے ثابت کردیا کہ وہ اچھی کہانی اور باپردہ عورت دیکھنا چاہتے ہیں۔

اسلامی تاریخ اور فتوحات پر مبنی ترک ڈراما سیریل ’’ارطغرل غازی‘‘ نے پاکستان میں مقبولیت کے ریکارڈ توڑ دئیے ہیں۔ اس ڈرامے کو ناصرف  عوام کی جانب سے بے حد پزیرائی مل رہی ہے بلکہ فنکار بھی اس کے سحر میں مبتلا ہوگئے ہیں۔

پاکستان فلم انڈسٹری کی ماضی کی نامور اداکارہ صاحبہ افضل ریمبو نے ڈرامے کی تعریف اور پاکستان میں اس کی بے پناہ مقبولیت کے بارے میں کہا ہے کہ پاکستانیوں نے ثابت کردیا کہ وہ ایک اچھی مضبوط کہانی، عورت کو باپردہ  اور مرد کو بہادر دیکھنا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: حلیمہ سلطان نے جب پریانکا چوپڑا کو سبق سیکھایا

صاحبہ سے قبل ان کے شوہر اور پاکستان کے مشہور اداکار افضل خان عرف جان ریمبو نے بھی ڈرامے کی کہانی اور اداکاری کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ میرے پاس الفاظ نہیں ہیں ’’ارطغرل‘‘ ڈرامے کے لیے۔ ایسا کام دیکھ کر ایک حسرت ہوتی ہے کہ کاش ہم سے بھی کام لیا جاتا یہاں تو ایک جیسا کام دے دے کر اداکار پر چھاپ لگادیتے ہیں۔ جان ریمبو نے پوسٹ کرتے ہوئے کہا مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ کچھ لوگ اس ڈرامے (ارطغرل) کے خلاف کیوں ہیں؟

واضح رہے کہ جہاں ’’ارطغرل غازی‘‘ کو پاکستانیوں کی جانب سے بے حد محبت مل رہی ہے وہیں کچھ فنکاروں نے اس پر تنقید بھی کی ہے جن میں اداکار شان اور ریما شامل ہیں۔ شان نے ترک ڈراما نشر کرنے پر پی ٹی وی پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہماری تاریخ اور ہمارے ہیروز کو تلاش کرنے کی کوشش کریں۔

یہ بھی پڑھیں: خلیل الرحمان قمر کا ’ارطغرل غازی‘ کی طرز پر ڈراما لکھنے کا اعلان

اس کے علاوہ ایک اور ٹوئٹ میں شان نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس معاشی بحران میں ہم بیرون ممالک کی چیزیں امپورٹ نہیں کرپارہے تو کیوں ثقافتی امپورٹ کھلی ہوئی ہے۔ پی ٹی وی کیوں بیرون ملک سے لایا گیا ڈراما دکھا رہا ہے۔ اپنی صلاحیت اور تاریخ پر یقین رکھیں۔ آپ کی مثبت پالیسیوں کے ساتھ ہم پاکستان کو دنیا بھر میں پہچان دلاسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ’’ارطغرل‘‘ کو نشر کرنے پر شان کی پی ٹی وی پر تنقید

اداکارہ ریما نے شان کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا تھا یہ غلط ہے کہ ہم پاکستان میں غیر ملکی پراجیکٹس کی تشہیر کریں۔ خاص طور پر تب جب یہاں کے فنکار گھروں پر بیٹھے ہیں جن کے پاس کام نہیں ہے۔