کچھ لوگوں کے لیے کووڈ-19 کا موجودہ بحران کسی بڑے لاک ڈاؤن کی ریہرسل ہے۔ ساری دنیا میں پُرآسائش بنکر بنانے کی تیاری شروع ہو چکی ہے جہاں کسی بحران کی صورت میں کچھ خوش قسمت افراد پناہ لے سکیں گے۔

کینسس میں مکئی کے کھیتوں میں ایک مٹی کا ڈھیر نظر آرہا ہے۔ اس کے اردگرد فوجی طرز کی زنجیروں والی دیوار ہے اور اس کے سائے میں ایک بڑی ونڈ ٹربائن ہے۔ ایک سکیورٹی گارڈ بندوق اٹھائے پہرہ دے رہا ہے۔ اگر آپ غور سے دیکھیں تو آپ کو سیمنٹ کا بنا ہوا ڈبا اس ڈھیر کے اوپر نظر آئے گا جس کے چاروں طرف کیمرے نصب ہیں۔

لیکن اس کے نیچے ایک نہ تباہ ہونے والا ناقابل یقین بنکر ہے۔

باہر سے آنے والے کے لیے یہ کوئی خفیہ حکومتی تنصیب ہے۔ ایک وقت تھا جب یہ واقعی ایک خفیہ تنصیب ہی تھی لیکن اب یہ ایک بنکر ہے۔ لیکن یہ وہ بنکر نہیں جو سیاستدان کو بچانے یا شہریوں کو چھپانے کے لیے بنایا گیا تھا۔

یہ ایٹلس ایف میزائل کو رکھنے کا زیرِ زمین بنکر تھا جسے امریکہ نے سنہ 1960 کی دہائی میں 15 ملین ڈالر کی لاگت سے بنایا تھا۔ اس طرح کے 72 اور بنکر بھی تھے جو جوہری ہتھیاروں سے لیس بین البراعظمی میزائلوں کو رکھنے کے لیے بنائے گئے تھے۔

یہ عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل تھے لیکن سرد جنگ کے زمانے میں ان بین البراعظمی میزائلوں نے عالمی سیاست میں اہم کردار ادا کیا۔

لیکن اب یہ بنکر حکومت کی ملکیت نہیں ہے۔ اب اس کے مالک لیری ہال ہیں جو ایک وقت حکومتی ٹھیکے لیا کرتے تھے۔ اب وہ پراپرٹی ڈویلپر اور 'پریپر' ہیں یعنی تیاری رکھنے والوں میں سے ہیں۔ لیری ہال نے اس بنکر کو 2008 میں خریدا تھا۔

پریپرز ایسے افراد کو کہتے ہیں جنھیں یقین ہے کہ تباہی کا کوئی بڑا واقعہ ناگزیر ہے اور وہ اس سے بچاؤ کی تیاری کرتے ہیں۔

یونیورسٹی آف کینٹ کے کرمنالوجسٹ مائیکل ملز کے مطابق پریپرز ایسی صورتحال کے لیے خوراک اور بنیادی ضرورت کی چیزوں کو اکٹھا کرتے ہیں جن کی ہنگامی صورتحال میں کمی ہو سکتی ہے اور حکومت وقت بھی ضرورت کی ان اشیا کو بر وقت مہیا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوسکے گی اور انھیں اپنی بقا کے لیے انفرادی طور پر ان اشیا کو حاصل کرنا ہوگا۔

لیری ہال نے میزائلوں کے لیے تیار کردہ اس بنکر کو خریدنے کے بعد اسے انڈرگراؤنڈ 15 منزلہ عمارت میں بدل دیا ہے جسے انھوں نے ’سروائیول کونڈو‘ کا نام دیا ہے۔

اس 15 منزلہ انڈر گراؤنڈ ’سروائیول کونڈو‘ کو 75 لوگوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جہاں وہ پانچ برس تک باہر کی دنیا سے رابطہ رکھے بغیر پُرآسائش انداز میں رہ سکتے ہیں اور جب تباہی کا دور ختم ہو جائے تو یہ لوگ وہاں سے نکل کر ایک بار بھر انسانی معاشرے کی تشکیل کر سکیں گے۔

میں پچھلے تین برسوں میں پریپرز پر ریسرچ کی غرض سے دس ملکوں، جن میں آسٹریلیا، برطانیہ، جرمنی، تھائی لینڈ، کوریا اور امریکہ میں سو ایسے لوگوں سے ملا جو سمجھتے ہیں کہ کوئی بڑی تباہی آنے والی ہے اور وہ خود کو اس سے بچانے کی منصوبہ بندی کر ہے ہیں۔ میں نے ان کے حفاظتی پراجیکٹوں کو بھی دیکھا ہے۔

میں نے دیکھا کہ بعض پریپرز نے آرمڈ گاڑیاں تیار کر رکھی ہیں اور کچھ نے جنگوں میں خوراک اگانے کے خفیہ ٹھکانے بنا رکھے ہیں، جبکہ کچھ مذہبی گروہوں نے خوراک اکٹھی کر رکھی ہے جو مشکل کی گھڑی میں لوگوں میں اسے تقسیم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ان پریپرز کی نظر میں کووڈ-19 کی وبا ایک درمیانی درجے کا واقعہ ہے اور یہ دراصل بڑے بحران کا پیش خیمہ ہے۔

پریپرز ہم جیسے عام لوگوں کے برعکس کورونا وائرس کی آمد سے حیران نہیں ہوئے بلکہ وہ اس بحران کے لیے تیار تھے۔

زیادہ تر پریپرز بڑی تباہی سے بچنے کی تیاری میں مصروف نہیں ہیں وہ ہم جیسے عام لوگ ہیں جو کسی چیز کا اندازہ لگا کرخود کو حالات کے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔ ان کا یقین ہے کہ انسانی تکبر اور ٹیکنالوجی پر بے تحاشا انحصار کی وجہ سے تباہی آنا لازمی ہے۔

زیادہ تر پریپرز کسی ایسے حادثے سے بچاؤ کی تیاری نہیں کر رہے، جیسے بڑے پیمانے پر ایٹمی جنگ، یا سورج سے نکلنے والی کوئی الیکٹرومیگنیٹک لہر جو تمام الیکٹرانکس کو بھسم کر کے رکھ دے۔

بلکہ پریپرز کی اکثریت کووڈ-19 جیسے درمیانے درجے کے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے ضروری اشیا کا ذخیرہ کرتے ہیں۔

لیری ہال کے سروائیول کانڈو کی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ ان کے فلٹرز جو بایولوجیکل، نیوکلیئر اور کیمیکل ہتھیاروں کے مضر ذرات کو روکنے کے علاوہ کورونا وائرس کے جراثیم کو بھی روک سکتے ہیں۔

ہم سے اکثر لوگ، اگر ان کے پاس موقع ہو بھی تو وہ کسی ایسی صورتحال سے نمٹنے کی تیاری کرنے پر مائل نہیں ہوں گے لیکن ہم پھر بھی ان پریپرز سے کچھ سیکھ سکتے ہیں۔

سروائیولزم یعنی اپنی ذات یا گروہ کی بقا کی تاریخ

سرد جنگ کے زمانے میں بھی ایٹمی جنگ کی صورت میں کچھ عملی اقدامات کی تیاری کی جاتی تھی۔ اسی زمانےمیں سروائیولزم (اپنی بقا کی کوشش) کی سوچ پروان چڑھی۔

سروائیولسٹوں کا خیال تھا کہ جوہری جنگ کی وجہ سائنسدان، اشرافیہ اور سیاستدان ہیں جو عوام کو عالمی سیاست کی بھینٹ چڑھانے کے لیے تیار ہیں۔

اسی لیے بہت سے سروائیولسٹ گلوبلائزیشن اور مضبوط حکومتوں کے مخالف تھے۔ وہ اکثر امریکی آئین میں دی گئی آزدیوں کا سہارا لے کر ٹیکس بچانے اور قانون سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔

کرٹ سیکسن نے سروائیولزم کی اصطلاح کو وضع کیا۔ انھوں نے حکومتوں کے خلاف مسلح جہدوجہد کا پرچار کیا۔ انھوں نے اس مقصد کے حصول کے لیے اسلحہ اور بارود بنانے کے طریقوں کو عام کرنے کی کوشش کی۔

کئی سروائیولسٹوں نے کرٹ سیکسن سے متاثر ہو کر شدت پسندی کا راستہ اختیار کیا اور قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خود انحصاری حاصل کرنے کی کوشش کی۔ ان میں اوکلوہوما بمبار ٹموتھی میکوے اور ڈیوڈ قریش بھی شامل تھے۔

سنہ 80 اور 90 کی دہائیوں میں امریکی حکومت نے ایسے سروائیولسٹوں کو نشانہ بنایا اور ان میں سے کئی کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے۔

ایک اندازے کے مطابق اس وقت امریکہ میں سروائیول کے نظریے کو ماننے والوں کی تعداد 30 لاکھ کے قریب تھی۔ رینڈی ویوور، بو گریٹز، اور ولیئم سٹینٹن گھر گھر پہچانے جانے لگے۔

موجودہ زمانے کے پریپرز خود کو پرانے سروائیولسٹوں سے دورکرنے کے لیے کافی نرم موقف رکھتے ہیں اور وہ نظریاتی بحثوں کی بجائے عملی اقدامات کی بات کرتے ہیں۔

لیری ہال کا سروائیول کانڈو کینسس ریاست کی منظوری سے تیار کیا گیا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ چند عشروں میں بہت کچھ بدل چکا ہے۔

سروائیول کونڈو

لیری ہال جب مجھے سنہ 2018 میں سروائیول کونڈو دکھانے کے لیے لے گئے تو انھوں نے بتایا کہ آئیدیا یہ ہے کہ ایک ایسا ڈھانچہ تیار کیا جائے جسے دوسرے گھر کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکے اور گھر بھی ایسا جو نیوکلیئر بنکر بھی ہو۔

لیری ہال اسے محفوظ، دیرپا، خود کفیل عمارت کا تجرباتی فن تعمیر کا نام دیتے ہیں جو ایروزونا سٹیٹ یونیورسٹی کے زیرِ زمین ڈھانچے 'بائیو سوفیئر ٹو' کا ہم پلہ ہے۔

بائیو سوفیئر ٹو کو 'گرین ہاؤس آرک' بھی کہا جاتا ہے۔ اس منصوبے کو سماجی علیحدگی کا سب سے بڑا منصوبہ مانا جاتا ہے۔

سنہ 1991 میں تین مرد اور چار عورتوں نے تجرباتی طور پر خود کو دو سال کے لیے اس گرین ہاؤس آرک میں بند کر لیا تھا۔

اس تجربے میں شریک ایک شخص کے مطابق سائنسدانوں، خوراک کی کمی اور دوسرے سماجی اور ماحولیاتی مشکلات کی وجہ سے ان کا تجربہ ناکام رہا تھا۔ لیکن لیری ہال سمجھتے ہیں کہ وہ اس ماڈل میں تبدیلی لا کر اسے بہتر کرسکتے ہیں۔

لیری ہال کہتے ہیں: 'یہ مکمل طور پر بند نظام ہے۔ لوگ اپنے فارمز پر ایسے نظام بنانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ان میں بارش کا پانی، کیڑے مکوڑے بھی گھس جاتے ہیں۔ لیکن ہم نے ان تمام چیزوں کو ہٹا دیا ہے۔'

لیری ہال کا کہنا ہے کہ ان کا بنکر خلا میں سفر کے لیے ضروری کسی بند نظام کے لیے ایک بہترین تربیت ہے۔ سروائیول کونڈو جیسے بنکر کو خریدنا کوئی آسان نہیں ہے۔

اگر آپ لیری ہال کے تیار کردہ سروائیول کونڈو کو خریدنا چاہیں تو آپ کو ساڑھے چار ملین ڈالر خرچ کرنے ہوں گے۔ چونکہ ابھی ایسے کونڈو خریدنے کے لیے بینکوں سے قرضہ بھی نہیں ملتا تو آپ کو کیش کا بندوبست کرنا ہو گا۔

لیری ہال کا پہلا سروائیول کونڈو مکمل طور پر فروخت ہو چکا ہے اور اب وہ دوسرا سروائیول کونڈو تیار کرنے میں مصروف ہیں۔ اس سے ایک چیز واضح ہوتی ہے کہ لوگ اب اپنے مستقبل کے بارے میں پریشان ہیں۔

میں نے ساؤتھ ڈیکوٹا میں ایکس پوائنٹ نامی جگہ کا کئی بار دورہ کیا ہے۔ یہاں ایک کھلے میدان میں پہلی جنگ عظیم کے دوران بنائے گئے بنکروں کو بیچا جا رہا ہے۔

یہاں 575 ایسے بنکر ہیں اور ایک بنکر 25 سے 30 ہزار ڈالر میں بیجا جا رہا ہے۔ ایکس پوائنٹ بہت تیزی سے پریپرز کی بڑی کالونی میں تبدیل ہو رہا ہے۔

میں لیری ہال کے ہمراہ سات اعشاریہ دو ٹن وزنی دروازے سے گزرتا ہوں جو ایک لمحے کے نوٹس پر بند ہو سکتا ہے۔ لیری ہال نے مجھے جوہری، حیاتیاتی، اور کیمیائی ایئر فلٹر دکھائے جو ان کے مطابق ایک منٹ میں دو ہزار کیوبک فٹ ہوا کو فلٹر کرتے ہیں۔ اس ایک فلٹر پر 30 ہزار پونڈ کی لاگت آتی ہے۔

لیری ہال نے یہ بنکر خریدنے کے لیے دو کروڑ ڈالر خرچ کیے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب آپ ملٹری گریڈ کی چیزوں کو خریدنا شروع کریں تو آپ کو اندازہ نہیں کہ ان پر کتنا خرچ آتا ہے۔

ہال کی ٹیم نے اس سروائیول کونڈو کو واٹر سپلائی کے لیے 45 تین سو فٹ گہرے کنویں کھودے ہیں اور پانی کو جراثیم سے پاک کرنے کے لیے کاربن پیپر فلٹرز لگائے ہیں۔

اس نظام سے روزانہ دس ہزار گیلن پانی فلٹر کیا جا سکتا ہے اور ان سروائیول کونڈو کے لیے تیار کردہ واٹر ٹینک میں 25 ہزار گیلن پانی رکھنے کی گنجائش ہے۔

اس سروائیول کانڈو کی کامیابی کے لیے سب سے اہم بجلی کی سپلائی کو یقینی بنانا ہے کیونکہ اگر بجلی کی سپلائی میں کوئی خلل آ گیا تو کانڈو میں رہائش پذیر تمام لوگ مر جائیں گے۔

بجلی کی سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے پانچ متبادل نظام تیار کیے گئے، اگر ایک نظام فیل ہوتا ہے تو دوسرا نظام حرکت میں آجائے گا۔

لیری ہال کہتے ہیں کہ ہمارے پاس 386 سب میرین بیٹریز ہیں جو پندرہ، سولہ برس تک کارآمد رہتی ہیں۔ اس وقت ہماری ضرورت 50 سے 60 کلو واٹ ہے جو ونڈ پاور سے آتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ہم یہاں شمسی توانائی سے بجلی حاصل نہیں کر سکتے کیونکہ اس کے پینل بہت کمزرو ہوتے ہیں اور کینسس میں طوفان بہت آتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس 100 کلو واٹ کے ڈیزل جنریٹرز بھی ہیں جو ڈھائی برس تک اس کونڈو کو بجلی مہیا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اس سروائیول کانڈو میں بلند رہائشی عمارتوں کی طرح پرائیویٹ اور کمیونٹی جگہیں بھی ہیں۔ لیکن لاک ڈاؤن کے دوران اس زیر زمین ٹاور میں کوئی بیرونی مدد نہیں ملے گی اور اسے ایک مکمل بند نظام کی طرح کام کرنا ہے جہاں رہائش پذیر لوگ صحت مند اور مصروف رہیں۔

سائسندانوں اور ملٹری کی طرف سے بند جگہوں پر رہنے کے حوالے سے ہونے والی تحقیقات میں سماجی پہلو کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ لیری ہال کا کہنا ہے کہ ان کے سروائیول کونڈو کے دیرپا ہونے کا معیار صرف ٹیکنیکل نہیں ہے۔

انھوں نے ایک اور دوازہ کھولا تو ہمارے سامنے ایک 50 ہزار گیلن کا انڈور سوئمنگ پول تھا جس کے قریب آرام دہ کرسیاں اور پنکنک ٹیبل بھی تھے۔ یہ ایک ہالیڈے ریزوٹ کا منظر پیش کر رہا ہے بس کمی صرف دھوپ کی ہے۔

اسی کونڈو میں تھیٹر بھی ہے جہاں ہم نے فورکے ریزولوشن میں جیمز بونڈ فلم سکائی فال بھی دیکھی۔ یہ سینیما بار سے بھی ملحقہ ہے اور مستقبل کے رہائشیوں کے لیے نیوٹرل گراونڈ ہے۔ وہاں بیئر کی سپلائی کا بھی انتظام ہے۔

لیری ہال جب یہ سب کچھ مجھے دکھا رہے تھے تو وہ اس چیز پر زور دے رہے تھے کہ سروائیول کونڈو کے ڈیزائن میں تفریح کی سہولیات کی بھی اتنی ہی اہمیت ہے جتنی ٹیکنیکل چیزوں کی۔

زیر زمین رہائش کی مجبوریوں کو مد نظررکھتے ہوئے سروائیول کانڈو کے رہائشیوں کو ایک اکائی کے طور برتاؤ کرنا ہو گا کیونکہ ایک شخص کا فعل تمام رہائشیوں کو متاثر کر سکتا ہے۔

اسی لیے یہ بنکر ایک آبدوز کی ماند ہو جاتا ہے جہاں کسی بڑے واقعے کے رونما ہونے پر اس کا بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع ہو جاتا ہے۔

ایسے دور میں جب شہریوں کی نگرانی ہو رہی ہے، ایسے میں زیر زمین رہائش شاید انسانوں کی پرائیویسی کی واحد امید رہ جاتی ہے۔

ایک پریپر جو مشرقی امریکہ میں اپنا بنکر بنا رہے ہیں انھوں نے مجھے ایک انٹرویو میں بتایا: ’ہم ایلون مسک کی طرح سپیس سٹیشن نہیں بنا سکتے، اور نہ ہی ہم زمین پر رہ سکتے ہیں، تو ہمارے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ ہم زمین کے اندر چلے جائیں اور میں زمین کے اندر سپیس سٹیشن تعمیر کر رہا ہوں۔'

لیری ہال بتاتے ہیں کہ ان کے سروائیول کونڈو کے رہائشی پانچ برسوں کے دوران باری باری مختلف کام کریں گے تاکہ وہ مصروف رہ سکیں۔ 'جب لوگ چھٹیوں پر ہوتے ہیں تو ان میں تخریبی رویے پروان چڑھنے لگتے ہیں۔'

خود کو مصروف رکھنےکے لیے سروائیول کونڈو کے رہائشی بنکر کے مختلف آپریشز کو سیکھیں گے۔ یہ سبق بایوسفیر ٹو کے تجرے کے دوران سیکھا گیا۔

لیری ہال نے بائیوسفیر پراجیکٹ پر کام کرنے والے کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کی ہیں جو سروائیول کونڈو کے ڈیزائن میں دیواروں کے رنگ سے لے کر ایل ای ڈی لائٹنگ تک کی ہر چیزوں کی نگرانی کی ہے

لیری ہال بتاتے ہیں کہ لوگ جب اس کے سروائیول کونڈو کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہاں، سینما، ٹیبل ٹینس، ویڈیو گیمز، سونا باتھ اور لائبریری جیسی آسائشوں کی کیا ضرورت ہے۔

'لوگوں کو یہ بات سمجھ نہیں آتی ہے کہ یہاں مسئلہ آسائشیں نہیں ہیں بلکہ یہ چیزیں زندہ رہنے کے لیے اہم ہیں۔'

ہال کہتے ہیں کہ اگر یہ سہولیات نہ تیار کی جائیں تو انسانی دماغ غیر معمولی چیزوں کو اکٹھا کرتا ہے اور پھر وہ ڈیپریشن یا بند جگہوں کا خوف کی گرفت میں آنے لگتا ہے۔

لیری ہال کہتے ہیں:' خواہ آپ کوئی لکڑی کا کام کر رہے ہیں یا اپنے کتے کو واک کروا رہے ہوں یہ بہت اہم ہے کہ آپ یہ محسوس کریں کہ آپ ایک نارمل زندگی گذار رہے ہیں خواہ آپ کے گرد و نواح میں تباہی ہی کیوں نہ مچی ہوئی ہو۔'

لوگوں کو اچھا محسوس کرنے کے لیے اچھی خوراک، پانی اور تحفظ کے احساس کے علاوہ کسی اجتماعی کام میں شرکت کا احساس ضروری ہے۔ اس (سروائیول کونڈو) کو ایک چھوٹا کروز شپ کے طور پر کام کرنا ہے۔

سرد جنگ کے زمانے میں مختلف حکومتوں نے ایسے تجربے کیے کہ اگر لوگ زیر زمین پھنس جائیں تو وہ کس طرح اکٹھے اس صورتحال کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔

سنہ 1999 میں پلیزینٹ ہل، کیلیفورنیا میں ہونے والے ایک تجربےمیں 99 قیدیوں کو دو ہفتوں کے لیے زیر زمین بند کر دیا گیا۔ جب انھیں وہاں سے نکالا گیا تو تمام کی ذہنی اور جسمانی صحت برقرار تھی۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ اگر لوگوں کو معلوم ہو کہ صورتحال عارضی ہے تو وہ اپنے آپکو حالات کےمطابق ڈھال لیتے ہیں۔

یہ ایسے ہی ہے جیسے سیلر آبدوزوں کی تنگ جگہوں میں رہ لیتے ہیں جب انھیں زیر آب رہنےکی مدت معلوم ہو۔ لیری ہال ان سروائیول کونڈو میں پانچ برس تک رہنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

ہم نے دو سو فٹ زیر زمین میں دیکھا کہ شیلف ایسے کھانے سے بھرے ہوئے جو پچیس برس تک کھانے کے قابل ہوں گے۔

وہیں پاس ہی باسکٹ بھی پڑی ہیں، کاونٹر کے پیچھے ایسپریو مشین بھی لگی ہے۔ ہال بتاتے ہیں کہ انھیں کالی چھت، ٹائیلوں والا فرش اور دیواروں کو ہلکا بادامی رنگ اس لیے کروانا پڑا کہ اگر لوگ اس عمارت میں بند ہیں اور انھیں یہاں نیچے آکر ڈبوں میں سے خوراک کو ڈھونڈا پڑے گا وہ جلد ہی مایوسی کا شکار ہو جائیں گے۔

لیری ہال کہتے ہیں کہ یہاں یہ ضابطہ بنایا گیا کہ چونکہ کھانے کی ضروری اشیا کی خریدای ایک سماجی عمل ہے لہذا اس عمارت کا کوئی شخص تین دن سے زیادہ کی خوراک اپنے پاس جمع نہیں کرے گا۔

’یہاں چونکہ ہر چیز کی قیمت پہلے ہی ادا ہو چکی ہے، آپ کو لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنی ہے کہ وہ نیچے آئیں، بریڈ کی خوشبو کو سونگھیں، کافی بنائیں، آپس میں بات چیت کریں، کچھ چیزوں کا تبادلہ کریں۔'

ہم نے 1800 مربع فٹ تیار کونڈو دیکھا جو کہ ایک ہوٹل روم کی طرح صاف ستھرا تھا۔ میں نے ایک کھڑکی میں دیکھا تو میں حیران رہ گیا کہ باہر تو رات ہے، حالانکہ ہمیں اس وقت کانڈو میں داخل ہوئے صرف چند گھنٹے ہی ہوئے تھے۔

میں مکمل طور بھول گیا تھا کہ میں زیر زمین ہوں۔ لیری نے ریموٹ کنٹرول اٹھایا اور ویڈیو فیڈ کا بٹن پریس کیا تو ہمیں باہر کا موسم بڑی ٹی وی سکرین پر آنے لگا۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ جہاں ہماری گاڑی کھڑی ہیں وہاں اوک کے درخت سے پتے گر رہے ہیں اور دور سنتری بھی اسی جگہ کھڑا ہے جہاں وہ اس وقت کھڑا تھا جب ہم یہاں آئےتھے۔

ہال ہمیں بتاتے ہیں کہ انھیں کنسلٹنٹ نے یہ بات ذہن نشین کرائی ہے کہ بطور ڈویلپر میرا فرض ہے کہ میں اس جگہ کو جتنا نارمل بنا سکتا ہوں بناؤں۔

’ہم یہاں رہائش پذیر لوگوں کو ہر وقت یہ یاد نہیں کرانا چاہتے کہ وہ کسی سپیس شپ یا سب میرین میں رہ رہے ہیں۔'

کونڈو سے باہر آنا

یہ ساری تیاریاں لاک ڈاؤن میں رہنے کی ہیں۔ لیکن جب کانڈو کے دروازے کھلیں گے تو پھر کیا ہو گا؟

اوگی نامی ایک پریپر جس کا تھائی لینڈ میں سروائیول بنکر تیار ہو رہا ہے، اس نے بتایا: 'میرا خیال ہے کہ جب لاک ڈاؤن ختم ہو گا تو بنکر سے باہر نکلتے وقت گھبراہٹ میرے بدن سے نکل جائے گی، میں سوچوں گا کہ میں نے یہاں اپنے خاندان کے ساتھ بحفاظت وقت گزارا ہے اور ایک اچھے والد کا میرا روپ سامنے آئے گا۔'

ساؤتھ ڈیکوٹا کے ایک اور پریپر سے جب میں پوچھا کہ وہ اپنے بنکر میں کیا کریں گے تو ان کا جواب تھا: 'آپ کچھ بھی کر سکتے ہیں، آپ مراقبہ کرنا سیکھ سکتے ہیں، یا روح کی طاقت سے ہوا میں اڑ سکتے ہیں، آپ یہ بھی سیکھ سکتے ہیں کہ دیواروں سے کیسے گزرا جائے۔ جب آپ اردگرد کی پریشانیوں، اضطراب سے چھٹکارا پا لیں، کس کو معلوم آپ کیا حاصل کر سکتے ہیں۔'

بعض لوگ بنکر کو ایسا خول سمجھتے ہیں جس میں داخل ہو کر آپ اپنے کو بدل سکتے ہیں۔ ہم سے کئی لوگوں نے کووڈ-19 کی وبا کے بعد لاک ڈاؤن میں جانے کے ابتدائی ہفتوں میں ایسا ہی محسوس کیا ہے۔

کووڈ -19 کے لاک ڈاؤن کے دوران کئی لوگ غیر ضروری سفر سے نجات پا کر اطمینان سے گھر بیٹھے۔ لاک ڈاؤن کچھ کے لیے تو جنت ہے لیکن ایسے لوگوں کے لیے یہ عذاب سے کم نہیں جن کی نوکریاں ختم ہو گئیں، یا بیمار ہو گئے۔

مجھے تحقیق کے دوران معلوم ہوا کہ برے وقت کی تیاری، اگر تھوڑی خود غرضانہ ہو تو، کافی امید افرا فعل ہے۔ خود غرضانہ اس لیے کہ پریپرز اپنا خیال خود رکھ رہے ہیں اور انھیں حکومت پر اعتماد نہیں ہے۔

البتہ کچھ پریپرز نے کووڈ-19 کی وبا کے دوران بتایا کہ ان کا خود کفیل ہونا دراصل دوسروں کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ مثال کے طور پر اگر انھوں نے صحت عامہ کے وسائل کو استعمال نہیں کیا تو اس سے دوسروں کو فائدہ ہوا۔ سروائیولسٹوں کے برعکس پریپرز معاشرے سے نکلنا نہیں چاہتے بلکہ خود کو تیار کر کے معاشرے کو اور مضبوط کرتے ہیں۔

مجھے کیلیفورنیا میں ایک بنکر تعمیر کرنے والے نے بتایا کہ کوئی بنکر میں جانے کو اتنا پسند نہیں کرتا جتنا وہ اس سے نکلنے کو پسند کرتا ہے۔

لہذا بنکر نقل و حمل کا ایک ذریعہ ہے۔ خلا میں انسانوں اور اشیا کو لے جانے کے بجائے، انھیں برے وقت سے نکالنے کا ذریعہ۔

امید اور خوف

پریپرز کے لیے بنکر ایک ایسی کنٹرولڈ لیبارٹری ہے جس میں جا کر وہ اپنی بہتر تعمیر کر سکتے ہیں۔ ان کے لیے بنکر ایسی جگہ ہے جہاں وہ اپنے خول سے نکل کر اس پیچیدہ اور نازک دنیا میں نئی شروعات کر سکتے ہیں۔

کووڈ -19 وبا کے پیشِ نظر یہ واضح ہو جاتا ہے کہ پریپرز سماج کے باغی نہیں ہیں بلکہ حالیہ انسانی حالت کو سمجھنے کے لیے مدد گار ہیں۔ ایسے ہی جیسے ماضی کے بعض افراد سرد جنگ کے اضطراب کی عکاسی کرتے تھے۔

سروائیول کانڈو جیسی جہگوں کی تیاری اگر نامکمن نہیں ہے تو مشکل ضرور ہے اور اسے تعمیر کرنے کا اختیار اہم ہے کیونکہ خوف سے امید جنم لے سکتی ہے۔

جس طرح سروائیول کانڈو کے دورے کے اختتام پر لیری ہال نے کہا: 'یہ امید کی جگہ نہیں تھی۔ یہ بنکر ہتھیاروں کے نظام کا حصہ تھا جہاں جوہری اسلحے سے لیس میزائلوں کو حفاظت سے رکھا جاتا تھا لیکن ہم نے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے اس ڈھانچے کو حفاظتی ڈھانچے میں بدل دیا ہے۔‘

لیکن اہم بات یہ نہیں ہے کہ پریپرز کیا تعمیر کر رہے ہیں بلکہ اہم بات یہ سجھنے کی ہے کہ وہ معاشرے کی عدم مساوات، حکومت پر کم ہوتے ہوئے اعتماد، عالمگیریت سے پیدا ہونے والی مایوسی، برق رفتار سماجی اور ٹیکنالوجی کی تبدیلیوں سے جنم لینے والی پریشانیوں کی عکاسی کر رہے ہیں۔

کووڈ-19 کی وبا سے لوگوں میں خوف بڑھے گا جس سے بقا کے لیے انفرادی تیاریاں عام ہو جائیں گیں۔ شاید انسانیت کا مستقبل دور ستاروں میں نہیں بلکہ زمین کی سطح کے نیچے ہے۔