اپنے گھروں کے اندر محصور ہونے کے بعد بعض لوگوں کو شراب کی بوتل میں زیادہ کشش نظر آ سکتی ہے، مگر یہ ترنگ پیدا کرنے کے بجائے ہمیں نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔

کووِڈ 19 کی وبا نے دنیا کو بے یقینی کے گرداب میں دھکیل دیا ہے۔ ایسے میں جب وبا کو روکنے کی خاطر لوگوں کو گھروں کے اندر رہنے کی تلقین کی جا رہی ہے اور آنے والے کچھ وقت تک لاک ڈاؤن کے کسی نہ کسی صورت میں موجود رہنے کا امکان ہے، لوگ اس ’نئے معمول‘ کا عادی ہونے کے طریقے ڈھونڈ رہے ہیں۔

اس اثنا میں ایسی خبریں آ رہی ہیں کہ لوگ اپنی بیزاری کو جام میں ڈبونے کے لیے شراب کا سہارا لے رہے ہیں جس سے شراب کی فروخت بڑھ گئی ہے۔ مارچ میں برطانیہ میں شراب کی فروخت میں 22 فیصد جبکہ اسی عرصے میں امریکا میں 55 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔

تو اس بحران کے نتیجے میں لوگ زیادہ پینے لگے ہیں؟

ہنسی مذاق ایک طرف، بوتل کی جانب لوگوں کے رجحان کی ایک اہم وجہ یہ بحران بھی ہے۔ لوگ غیریقینی کی وجہ سے ایک طرح کے اجتماعی اضطراب میں مبتلا ہو گئے ہیں۔

دنیا بھر میں لوگ اس وبا کا شکار ہو رہے ہیں اور کئی جان سے جا رہے ہیں۔ ہسپتالوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے اور لوگ اپنے پیاروں سے ملنے کو ترس رہے ہیں۔ لوگ واضح طور خوف، مایوسی اور پریشانی کا شکار ہیں۔

مریضوں کی دیکھ بھال، گھر سے کام کرنا، کام کے ساتھ بچوں کی پڑھائی، اکیلے رہنا، نوکری ختم ہونا یا کسی عزیز کی موت، وجہ کوئی بھی ہو بعض لوگ اپنا غم مٹانے کے لیے شراب کا سہارا لیتے ہیں۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ یہ جسمانی اور نفسیاتی سرور زیادہ دیر نہیں رہتا۔

شراب کے بارے میں کتاب کی مصنفہ اینی گریس کا کہنا ہے کہ ’اس وقت تو ہمیں کچھ سکون ملتا ہے۔ ہمارے خون میں شراب کا تناسب بڑھنے کی وجہ سے ہمیں اپنے اطراف چیزوں کی رفتار مدھم نظر آتی ہے، ہمارا ذہن پرسکون ہو جاتا ہے اور ہم پر بے خودی طاری ہونے لگتی ہے اور ہم بشاشت محسوس کرتے ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ یہ کیفیت عارضی ہوتی ہے،’20 سے 30 منٹ کے بعد جسم شراب کو خارج کرنے لگتا ہے کیونکہ مضر صحت مادوں کو نکالنا ہی جسم کا کام ہے، اور جیسے جیسے شراب ہمارے خون سے نکلنے لگتی ہے ہم بے چینی محسوس کرنے لگتے ہیں۔‘

مدہوش دماغ

شراب دماغ کے اندر نیوروٹرانسمیٹرز یا پیغام رساں مادوں، گابا اور گلومیٹ پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہ مادرے ہمارے بدن میں چستی لاتے ہیں۔

شراب ان مادوں کی پیداوار کم کر دیتی ہے جس سے دماغ کی سرگرمی کم ہو جاتی ہے اور ہم بے خودی کی کیفیت میں چلے جاتے ہیں۔

کورونا وائرس: انڈیا کے یہ دو سائنسدان کیا کمال کرنے والے ہیں؟

کورونا وائرس کا ٹیسٹ کیسے ہوتا ہے اور کیوں ضروری ہے؟

’کورونا وائرس انڈیا کی معیشت کو تباہ کر کے رکھ دے گا‘

کورونا وائرس دنیا کی ثقافتوں کے متعلق کیا بتاتا ہے؟

وہ پانچ وبائیں جنھوں نے دنیا بدل کر رکھ دی

لاک ڈاؤن کے دوران اپنائی گئی عادتیں کیا قائم رہیں گی؟

اسی دوران شراب دماغ میں سرور پیدا کرنے والے ہارمون ڈوپامین میں اضافہ کر دیتی ہے۔ نتیجتاً شراب کی طلب بڑھ جاتی۔ یہی سبب ہے کہ ایک جام پر ہی اکتفا کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔

سڈنی میں منشیات اور شراب کے تحقیق کے مرکز سے وابستہ ڈاکٹر مائیکل فیرل کا کہنا ہے کہ ’لوگ اپنے اضطراب کو ختم کرنے کے لیے شراب پیتے ہیں۔ مگر نشہ اترنے کے بعد ان کا اضطراب بڑھ جاتا ہے۔‘

مگر کووِڈ 19 ہی واحد محرک نہیں

بقول فیرل، 'دراصل بہت سے لوگ شراب نوشی کو سماجی مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لیے بطور ایک حکمت عملی کے کام میں لاتے ہیں۔ ہم میں سے بہت سے نشے کی حالت میں کسی غیر مانوس صورتحال میں بہتر محسوس کرتے ہیں۔'

مگر یہ بحران کہیں زیادہ بڑا ہے جو ہمیں پے در پے جام لنڈھانے پر راغب کر سکتا ہے۔

وقت بے وقت ہوگیا ہے

لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگ بہت چھوٹی جگہوں تک محدود ہو کر رہ گئے اور اشیا کی قلت کے خوف کی وجہ سے انھوں نے دھڑا دھڑ خریداری شروع کر دی۔

فیرل کہتے ہیں کہ اس سے ’ذخیرہ اندوزی کی نفسیات‘ نے جنم لیا اور دوسری اشیائے ضرورت کے ساتھ شراب بھی خوب خریدی گئی۔ اور جب یہ گھر میں موجود ہو تو اس کے پیے جانے کا امکان بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔

اس صورتحال کو اس حقیقت سے بھی مہمیز ملتی ہے کہ اب ہمارا معمول بدل چکا ہے۔

کام کے لیے گھر سے نکلنا بند ہوگیا ہے۔ ہفتہ وار چھٹی اور ہفتے کے دوسرے دنوں میں فرق مٹ سا گیا ہے۔ اور شراب نوشی کے لیے لوگوں نے جو ضوابط بنائے تھے کہ کب اور کہاں پینی ہے اور کتنی پینی ہے وہ سب ٹوٹ گئے ہیں۔

سٹیفنی (فرضی نام) انگلینڈ میں سرکاری ملازم ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میں خود کو معقول اور ذمہ دار شخص سمجھتی ہوں۔ میں اختتام ہفتہ پر ایک یا دو جام پیتی ہوں۔‘

مگر کئی لوگوں کی طرح وہ بھی اس صورتحال میں خود کو بے بس محسوس کر رہی ہیں: ’12 گھنٹے کام کرنے کے بعد میرا دل چاہ رہا ہے کہ پیاس بجھانے اور تھکن دور کرنے کے لیے میں بیئر کا ایک گلاس پیوں، حالانکہ آج تو منگل کی شام ہے۔‘

ضابطوں کی خلاف ورزی

یہ ضابطے بالکل ذاتی ہیں، مثلاً اختتام ہفتہ پر پینا، اکیلے نہ پینا یا گھر میں نہ پینا۔ اینی کہتی ہیں کہ خود کو قائل کرنا مشکل نہیں۔

’ہم ان لوگوں سے اپنا موازنہ کر سکتے ہیں جو ہم سے زیادہ پیتے ہیں۔ اس میں سوشل میڈیا کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ لوگ اپنے ارد گرد دیکھ کر اپنے لیے جواز ڈھونڈ لیتے ہیں کہ وہ جو کر رہے ہیں عام سی بات ہے۔

'جب ہمارے دماغ کا ایک حصہ کہہ رہا ہو کہ شراب پی کر ہم بہتر محسوس کرتے ہیں اور پھر فیس بک پر بھی دوستوں کی ایسی ہی پوسٹس سے سابقہ پڑے تو مزید پینے کا جواز خود بخود میسر آ جاتا ہے چاہے اس کا فائدہ نہ بھی ہو۔‘

اس کے بجائے وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ لوگوں کو چاہیے کہ وہ دیانتداری سے مے کشی کے لیے اپنی ترغیبات کا جائزہ لیں اور سوچیں کے اس کا ان پر حقیقی اثر کیسا ہوتا ہے۔ ان کا اپنا تجربہ تو ان کے اندرونی خلفشار کا گواہ ہے۔

اپنے دوسرے بچے کی پیدائش کے بعد ان پر افسردگی کا غلبہ ہوگیا اور اس کا علاج انھوں نے شراب نوشی میں ڈھونڈا۔ وہ بتاتی ہیں کہ ’ذہنی دباؤ سے شراب کی طلب بڑھی اور شراب نے ذہنی دباؤ میں اضافہ کیا۔ میرے سوچنے کی صلاحیت مفلوج ہو کر رہ گئی۔ میں جتنا پیتی دباؤ اتنا ہی زیادہ محسوس ہوتا جو مجھے مزید پینے پر مجبور کرتا۔‘

خود کو محفوظ سمجھنا

صحت پر شراب کے برے اثرات کے بارے میں خاصا کچھ لکھا جا چکا ہے، تاہم اس میں ایک اور اثر کا بھی اضافہ کر لیا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ وہ یہ کہ شراب جسم کے مدافعتی نظام کو کمزور کر دیتی ہے اور وہ امراض سے ٹھیک طور پر نبرد آزما نہیں ہو پاتا۔

اٹلی میں ہونے والی حالیہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر بادہ خواری میں اعتدال سے بھی کام لیا جائے تب بھی کووِڈ 19 سے متاثر ہونے کا خطرہ زیادہ ہو جاتا ہے اور شراب بیماری کو بڑھانے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

مذکورہ تحقیقی ٹیم میں شامل جیانی ٹیسٹینو کہتے ہیں، ’شراب وائرل انفیکشن کے خطرے کو بڑھاتی ہے اور نظام تنفس کے اندر بیکٹریا اور وائرس مل کر مرض کو پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔‘

ان کے بقول شراب ایس ٹو پروٹین کی سطح بلند کر دیتی ہے اور کورونا وائرس جسم میں داخل ہونے کے لیے اسی پروٹین کو استعمال میں لاتا ہے۔

شراب نوشی کے بارے میں خدشات اور یہ کہ شراب کووِڈ 19 سے تحفظ دیتی ہے جیسے دعوؤں نے عالمی ادارۂ صحت کو وضاحت پر مجبور کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ’شراب سے اجتناب برتیں تاکہ آپ کا مدافعتی نظام کمزور نہ پڑے اور آپ دوسروں کے لیے خطرے کا باعث نہ بنیں۔

’زیادہ شراب نوشی نظام تنفس میں ایک ایسی حالت پیدا کر دیتی ہے جس سے کووڈ 19 کی انتہائی پیچیدہ شکل سامنے آ جاتی ہے۔‘

لندن میں رائل کالج آف سائکیاٹرسٹس نے بھی خبردار کیا ہے کہ ہفتے میں 14 یونٹ یا وائن کے چھ پائنٹ سے زیادہ شراب خطرناک ہو سکتی ہے، خاص طور پر جب آپ کووڈ 19 کی خبر سے اپنا دھیان ہٹانا چاہ رہے ہوں۔

محدود جگہ پر مدہوشی بھی اچھی نہیں ہے۔ فیرل کہتے ہیں کہ شراب کی وجہ سے پیش آنے والے واقعات کے علاوہ جھگڑے کے امکانات بھی زیادہ ہو جاتے ہیں: ’اگر کسی کا فیوز پہلے ہی اڑا ہوا ہے اور باہمی تعلقات الجھے ہوئے ہیں تو شراب جلتی پر تیل کا کام کرتی ہے۔‘

اقوام متحدہ نے قرنطینہ کے زمانے میں خانگی تشدد میں اضافے کے بارے میں متنبہ کیا ہے۔

چین میں گھریلو تشدد کے واقعات رپورٹ کرنے کے لیے کی جانے والی کالز میں گذشتہ برس کے مقابلے میں تین گنا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ لبنان اور ملائشیا میں ایسی کالز کی تعداد میں دگنا اضافہ ہوا۔

برطانیہ، فرانس، سپین، جاپان، اٹلی اور دیگر ممالک میں گھریلو تشدد کی وجہ سے ہلاکتوں کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔

خدشہ ہے کہ مے کشی کی عادت میں اس تبدیلی کے اثرات آنے والے وقت میں بھی سامنے آئیں گے۔ فیرل کے بقول: 'فوری سماجی تغیر یہ ہوگا کہ ہمارا مزاج غیر مستحکم ہو جائے گا۔'

جس طرح سے ہماری معاشی، سماجی، نفسیاتی اور طبعی زندگی متاثر ہوئی ہے اس سے شراب نوشی کی ایسی عادت پڑ سکتی ہے جسے چھوڑنا آسان نہ ہو گا۔

شراب چھوڑنے کے اثرات سے نمٹنا

بعض ممالک، مثلاً جنوبی افریقہ، انڈیا، سری لنکا اور گرین لینڈ نے تو لاک ڈاؤن کے دوران شراب کی فروخت پر پابندی عائد کی دی تھی۔ مگر ایسا کرنے سے نئے مسائل پیدا ہوگئے۔ شراب کی لت میں مبتلا افراد میں جسم کی کپکپاہٹ، تشنج، اور ہذیان جیسی علامات پیدا ہوگئیں اور بعض لوگ تو ان کی وجہ سے ہلاک بھی ہوگئے۔

انڈیا میں بعض لوگوں نے شراب نہ ملنے کی وجہ سے خودکشی کرلی جبکہ کئی زہریلی شراب اور اور رنگ میں ملائے جانے والے تھینر پی کر ہلاک ہوگئے۔

مگر جہاں شراب دستیاب ہے وہاں کے اعداد و شمار بھی پوری تصویر واضح نہیں کرتے۔

برطانوی محقق پیٹ پارکر شراب اور ذہنی دباؤ کے باہمی تعلق پر تحقیق میں مصروف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ ایک تہائی میں تو شراب نوشی میں کمی آئی ہے مگر پانچ میں سے ایک میں اضافہ ہوا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ بات قابل تشویش ہے کیونکہ ’اس کا مطلب یہ ہوا کہ برطانیہ میں شراب کی فروخت میں جو ایک دم سے اضافہ ہوا ہے اس کا سبب مقابلتاً کم لوگ ہیں جنھوں نے زیادہ شراب پینا شروع کر دی ہے۔‘

پارکر کی تحقیق سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ جن لوگوں میں شراب کا عادی ہونے کی خصلت زیادہ پائی جاتی ہے ذہنی دباؤ کے سبب وہ اس کا زیادہ شکار ہو سکتے ہیں۔

ان کے خیال میں ’زیادہ فکر ان لوگوں کی ہے جو اس لت کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں یا جنھوں نے اس سے حال ہی میں یا ماضی میں چھٹکارا حاصل کیا کیونکہ وہ اس میں پھر سے مبتلا ہو سکتے ہیں۔‘