کیا قرنطینہ آپ کے اعصاب پر سوار ہو رہا ہے؟ حالیہ برسوں میں روس میں دسیوں ہزاروں افراد (سرکاری طور پر سنہ 2013 سے 2018 کے درمیان 60 ہزار سے زیادہ افراد) کو سیاسی یا دوسرے الزامات کے تحت حراست میں لیا گیا ہے اور انھیں گھروں میں نظربند کیا گیا ہے۔

چھ روسی باشندے جنھیں نظربند کیا گیا تھا انھوں نے بی بی سی روسی سروس سے بات کرتے ہوئے تنہائی میں ایام گزارنے کے دوران خود کو سنبھالنے کے بارے میں بتایا۔

غور کرنے کا وقت

روسی تھیئٹر ڈائریکٹر کیریل سیربرینکوف کو ماسکو میں ڈیڑھ سال تک نظربند رکھا گیا۔ انھوں نے ایک ویڈیو بنائی ہے کہ ’جب آپ گھر کے اندر پھنس جائيں تو پاگل ہونے سے کیسے بچیں۔‘

عام زندگی فون کالز، انسٹاگرام اور فیس بک جیسی دخل اندازی سے بھری ہوتی ہے۔ لیکن تنہائی آپ کو ان سب سے دور کر دیتی ہے اور ایک وقفہ فراہم کر سکتی ہے۔

کیریل سیربرینکوف کا کہنا ہے کہ ’اپنے آپ کو ان تمام طرح افراتفری سے دور کرنے کا یہ ایک بہت اچھا موقع ہے۔ آپ ان سوالوں پر توجہ دے سکتے ہیں جو اہمیت رکھتے ہیں۔ جیسے آپ کون ہیں اور آپ زندگی سے کیا چاہتے ہیں۔‘

وہ ایک ڈائری رکھنے اور اس میں چھوٹی سے چھوٹی چیز جو بھی آپ کے ذہن میں آتی ہے اسے قلم بند کرنے کی تجویز دیتے ہیں۔

سائبیریا میں ماہر حقوق نسواں اور بچوں کے تھیئٹر کی ڈائریکٹر یولیا تسویتکووا آن لائن پر خواتین اور ایل جی بی ٹی کے حقوق کی مہم چلانے کے الزام میں چار ماہ تک نظربند تھیں۔

وہ کہتی ہیں کہ 'یہ کچھ نہ کرنے اور مجرم بھی محسوس نہ کرنے کا ایک حیرت انگیز موقع تھا۔'

وبا کے دوران ذہنی صحت کا خیال کیسے رکھا جائے

کورونا کے خوف میں تنہائی کیسی ہوتی ہے؟

خود ساختہ تنہائی میں اپنے رشتوں کو کیسے بہتر بنایا جائے؟

کیا لوگ لاک ڈاؤن کی بیزاری شراب میں ڈبو رہے ہیں؟

اداسی کی توقع رکھیں

گذشتہ موسم گرما میں ماسکو میں مظاہرے میں حصہ لینے کے لیے سرگیئی فومن کو پہلے ایک ماہ تک قبل از مقدمہ حراست میں رکھا گیا اور پھر انھوں نے تین ماہ نظربندی کے گزارے۔ انھیں جب ٹرائل سے قبل جب حراست سے رہا کیا گیا تو انھوں نے جو منصوبے بنائے انھیں یاد کرتے ہوئے کہا: 'میں ورزش کروں گا، پش اپس اور سکویٹ کروں گا اور پڑھنے کے لیے ایک لائح عمل بناؤں گا۔'

لیکن ایک ماہ بعد ہی سرگئی کے منصوبے دم توڑ گئے۔ 'میرا روزانہ کا معمول بگڑ گیا۔ میں صبح دس بجے بیدار ہو جاتا لیکن شام تین بجے تک بستر پر پڑا رہتا۔ تین گھنٹے باتھ روم میں گزارتا اور پھر رینگ کر واپس بستر پر چلا جاتا۔'

یولیا نے بھی جدوجہد کی۔ وہ کہتی ہیں: 'میں پیوپا بن جانا چاہتی تھی اور نرم لحاف میں چھپ جانا چاہتی تھی اور خود کو دنیا اور تمام حقیقت سے دور کر لینا چاہتی تھی اور اس بات نے مجھے خوفزدہ کرنا شروع کر دیا۔'

ریاضی دان دیمتری بوگا توف سنہ 2018 میں تقریبا چھ ماہ گھر میں نظربند رہے۔

وہ کہتے ہیں: 'کسی بھی طرح کے ٹائم ٹیبل برقرار رکھنا واقعی مشکل ہوتا ہے کیونکہ عام طور پر ہمارے پاس وقت کا پاس رکھنے کی لیے چیزیں ہوتی ہیں جیسے دکانیں کب بند ہوتی ہیں اور وقت پر کام پر جانا ہے وغیرہ۔ لیکن (نظر بندی میں) یہ سب بے معنی ہوجاتا ہے۔'

لائبریری آف دی یوکرین لٹریچر کی سابقہ ڈائریکٹر نتالیہ شرینا کو سنہ 2015 میں حراست میں لیا گیا تھا اور انھیں اس کے بعد 18 ماہ سے زائد عرصے تک نظربند رکھا گیا تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ پولیس چھاپوں، پوچھ گچھ، تفتیش، قید تنہائی اور مقدمے کی سماعت کے بعد گھر میں نظربند رہنا آسمان جنت میں رہنے کی طرح لگا۔ لیکن یہ حالت زیادہ دیر تک نہیں رہی۔

'آپ کو لگتا ہے کہ آپ پڑھ سکتے ہیں اور موسیقی سن سکتے ہیں، لیکن ایسا نہیں ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ میں قصوروار نہیں اس لیے ناانصافی نے مجھے مشتعل اور گھیرے رکھا۔ آپ ایک کتاب اٹھاتے ہین لیکن آپ اس پر توجہ مرکوز نہیں کرسکتے، آپ ٹی وی کو آن کرتے ہیں لیکن سب چیز آپ سے گزر جاتی ہے۔'

آزادی کے غیر متوقع لمحات

کئی ماہ تک گھر میں قید رہنے کے بعد نتالیہ کو پولی کلینک (ڈاکٹر کے کلینک) جانے کی اجازت دی گئی۔ انھیں ریڑھ کی ہڈی میں انجری کے علاج کی ضرورت تھی جو انھیں پولیس وین میں سفر کے دوران ہوئی تھی۔

ان دوروں سے ان کی طبیعت کے بحال ہونے میں مدد ملی۔ انھوں نے بتایا: 'میں صرف پولی کلینک جاتی تھی لیکن دوسرے لوگوں کو اپنی زندگی میں مشغول دیکھ کر مجھے بہتر محسوس ہوتا۔'

یولیا تسویتکوفا نے یاد کرتے ہوئے کہا: 'جب انھوں نے مجھے 500 میٹر کی چہل قدمی کے لیے جانے دیا تو وہ بہت ہی جذباتی لمحہ تھا۔ وہ ایک چھوٹی سی آزادی کی طرح لگا لیکن اس نے اس بات کا اور بھی احساس دلایا کہ میں باقی اوقات کتنی غیر آزاد ہوں۔'

سرگیئی کو سیر کے لیے جانے سے منع کیا گیا لیکن انھوں نے دو بار اس پابندی کو توڑا۔

انھوں نے بتایا: کبھی کبھی رات کے وقت میں نے اپنے سر پر ہڈی کو کھینچ لیتا اور نیچے کی دکان پر بیئر خریدنے کے لیے بھاگ جاتا۔ جب میں باہر نکلتا تو میرے اندر یہ ناقابل بیان احساس ابھرتا کہ جیسے میں جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گيا ہوں۔'

اپنے پیاروں سے بات کریں

نظربندی کے تحت عدالت اکثر آپ کو اپنے سب سے قریبی رشتہ داروں سے بات چیت کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ نتالیہ کے شوہر اور ان کی بیٹی نے انھیں دور تنہائی میں سہارا دیا۔

بعد میں انھیں فون پر بات کرنے کی اجازت دی گئی اور پھر دوست بھی ملنے آنے لگے۔ وہ بتاتی ہیں کہ 'پالتو جانوروں سے بھی بہت سکون ملتا ہے۔'

ماہر ٹیکنالوجی اور حزب اختلاف کے کارکن الیگزینڈر لیٹرییف نے پر سکون اور غیر متشدد مظاہرین کی پٹائی کرنے والے پولیس اہلکاروں کی شناخت ظاہر کرنے کے لیے ڈی-انونیمائز نامی ایک آن لائن پروجیکٹ بنایا۔

ابھی ان کی نظر بندی شروع ہوئی ہے۔ ان کی دوست دیریا روز ان سے ملنے آتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ 'وہ میرے پاس کھانے کی اچھی چیزیں لاتی ہیں اور مجھے خوش کرتی ہیں۔'

زخیم کتابیں پڑھیں اور اپنے دماغ کو مشغول رکھیں

تقریبا ہر شخص نے پڑھنے کی صلاح دی ہے۔ کیریل سیربرینیکوف نے وار اینڈ پیس، ڈان کوئیکزوٹ اور دی کائنڈلی ونس' جیسی کتابیں پڑھنے کا مشورہ دیا ہے۔

وہ اپنی یادداشتیں لکھنے یا نئی زبان سیکھنے کا مشورہ بھی دیتے ہیں۔

الیگزینڈر لیٹرییف شعر کہتے ہیں اور وہ ایک نیا بزنس پلان تیار کر رہے ہیں۔

سرگیئی کہتے ہیں: 'جس چیز نے مجھے بچایا وہ ڈراٹ (چوہر کھیل) تھا۔ میرے والد نے مجھے ڈرافٹ کھیلنے اور جیتنے کے طریقہ کے بارے میں ایک کتاب دی تھی۔ میں اپنے کھیل کو بہتر کرنے کے لیے دن میں پانچ گھنٹے خرچ کرتا۔'

یہ سوچیں کہ کچھ لوگ آپ سے بدتر حالات میں تھے

یولیا کا کہنا ہے کہ سیاسی قیدیوں کے بارے میں سوچو۔ 'میں جانتی ہوں کہ غیر معینہ مدت تک قید میں رہنا کیا ہوتا ہے۔ قرنطینہ اس کی طرح خوفناک نہیں ہے۔'

الیگزینڈر کے وکیل ایلیکسیئی بشماکوف کہتے ہیں کہ خود ساختہ تنہائی کے دوران سب سے اہم بات یہ جاننا ہے کہ آپ تنہا نہیں ہیں اور جلد یا بدیر یہ سب ختم ہوجائے گا، اور آپ آزاد ہوجائیں گے۔