فیس بک پر ایک پوسٹ تھی 'کیا وہ جتنے ممکن ہو سکے اتنے لوگ ہلاک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔'

ایک اور فیس بک پیغام میں لکھا تھا ' آخر یہ قبیح لوگ کوئی ایسی انتہائی مہلک شے چھوڑیں گے جس سے ہم سب ختم ہو جائیں لیکن پہلے انھیں ہمیں سعادت مند غلام بنانا ہو گا۔'

ایک اور پیغام میں کہا گیا کہ 'کورونا وائرس ایک نیا اسلامی ہتھیار ہے۔'

عالمی ادارۂ صحت نے معاشرے میں پھیلائی جانے والی ایسی افواہوں کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'ہم میں سے بہت سے لوگوں نے اب افواہوں کی وبا دیکھ لی ہو گی۔۔۔۔'

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

* سوشل میڈیا پر کورونا وائرس سے بچنے کے طریقے؟

* جعلی خبروں کے سیلاب سے کیسے نمٹا جائے؟

* کورونا وائرس: غلط معلومات کو وائرل ہونے سے کیسے روکا جائے

چاہے یہ آپ کو ایسی خبریں ای میل کے ذریعے موصول ہو یا آپ کا کوئی دوست یا رشتہ دار بھیجے، یہ ایک ایسی افواہ یا اطلاع ہو گی جو اتنی حیران کن اور سنگین نوعیت کی ہو گی کہ آپ کے لیے اس کو نظر انداز کر دینا مکمن نہیں ہو گا۔

کورونا وائرس کے بارے میں جھوٹے دعوؤں کا نظر سے بچنا مشکل ہے لیکن ان کے پیچھے چھپے نظریات اور مفادات کو سمجھنا آسان نہیں ہے۔

بی بی سی کے پروگرام کلک اور انسداد شدت پسندی کے ادارے انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک اسٹڈیز کی مشترکہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کس طرح دائیں بازو کے انتہا پسند سیاسی عناصر اور بعض طبی حلقوں نے کورونا وائرس کی عالمی وبا سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔

امیگریشن پر الزام

کلوئی کولیور نے اس تحقیق کی نگرانی۔ انھوں نے بتایا کہ 'ہم نے یہ تحقیق اس لیے شروع کی کیونکہ ہم جاننا چاہتے تھے کہ کیا آئن لائن پر پھیلائی جانے والی غلط معلومات اور شدت پسندی میں کوئی تعلق ہے۔'

انھوں نے کہا کہ 'ہم یہ بھی معلوم کرنا چاہ رہے تھے کہ کورونا وائرس کی وبا ان ٹرینڈ یا رجحانات پر کس طرح اثر انداز ہو رہی ہے۔'

تحقیق کرنے والوں نے پہلے ڈیڑھ لاکھ کے قریب فیس بک کی ایسی پوسٹ جمع کیں جو اس سال جنوری سے انتہائی دائیں بازو کے گروپوں نے جاری کی تھیں۔

اس تحقیق کے دوران پہلے ہر پوسٹ میں شامل ایسے کلیدی یا اہم الفاظ کی نشاندہی کی گئی اور پھر ٹیکنالوجی کو استعمال کر کے اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کی گئی کہ یہ گروپ کیا پیغام دینے کی کوشش کر رہا ہے۔

تحقیق کاروں نے پانچ کمیونٹیز کی نشاندہی جن میں موضوع کے اعتبار سے ہم آہنگی تھی۔

  • ترک وطن یعنی امیگریشن
  • اسلام
  • یہودیت
  • ایل بی جی ٹی
  • اشرافیہ

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان موضوعات پر ہونے گفتگو سے پوری تصویر تو شاید ابھر کر سامنے نہیں آتی لیکن اس بات کا اشارہ ضرور ملتا ہے کہ جب سے لاک ڈاؤن شروع ہوا ہے ان پر بھیجے جانے والے پیغامات پر کوئی زیادہ فرق نہیں پڑا ہے۔

مثال کے طور پر امیگریشن کے معاملے پر زیادہ پوسٹ نہیں کی گئیں لیکن اس پر ہونے والی بحث کو زیادہ سے زیادہ کووڈ 19 سے جوڑا جانے لگا ہے۔

اسلام کے موضوع پر بھی ایسا ہی ہے۔ پیغامات کی تعداد میں تو فرق نہیں پڑا ہے لیکن اب وائرس کو مسلمانوں سے جوڑنے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔

کہا یہ جا رہا ہے کہ مسلمان لاک ڈاؤن سے مستثنیٰ تھے اور انھیں اس وبا کے پھیلنے کا مورد الزام قرار دیا جا رہا اور ساتھ ہی اس خواہش کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ یہ وبا مسلمانوں کو لگ جائے۔

لیکن پانچویں بڑی کمیونٹی کا موضوع اشرافیہ تھا جس میں لاک ڈاؤن کے دوران بہت زیادہ سرگرمی نظر آئی ہے۔

اس بارے میں بھیجے جانے والے پیغامات میں اشرافیہ مثال کے طور پر جن میں جیف بیزو، دی راتھس چائلڈ، جارج سوروز، اور بل گیٹس شامل ہیں ان کے ریاست سے تعلقات اور وبا کو پھیلانے میں ان کے مبینہ کردار پر رائے زنی کی جا رہی تھی۔

تحقیق کاروں کو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وبا کو اشرافیہ سے جوڑنے کے علاوہ اس کمیونٹی کے افراد کو باقی لوگوں سے اس بات پر زیادہ یقین تھا کہ یہ وائرس انسانوں نے تخلیق کیا ہے اور اسے صرف بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے اور یہ کہ اس کا علاج موجود ہے۔

کلوئی کولیور نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بڑا فرق تھا۔

اشرافیہ کے خلاف ہونے والی بحث جس میں ڈرامائی اضافہ ہوا اس میں یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی تھے کہ لاک ڈاؤن کو سماجی کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ایک حربے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

'افواہوں کا وسیع پیمانے پر پھیلاؤ'

جب تحقیق کاروں نے ان پیغامات کا اور غور سے جائزہ لینا شروع کیا تو ان میں سے ہزاروں میں ایسے لنکس دیے گئے تھے جو صارف کو سیاسی اور صحت کی ان ویب سائٹس پر لے جاتے ہیں جو کہ زیادہ مصدقہ اطلاعات نہیں دیتیں۔

ویب سائٹس کے معتبر ہونے کو جانچنے والے ادارے نیوز گارڈ نے ان ایسی 34 ویب سائٹس کی نشاندہی کی جن پر کورونا وائرس کے حوالے سے بالکل غلط خبریں تھیں۔

کلوئی کولیور نے بتایا کہ ان ویب سائٹس پر موجود مواد سے یہ ظاہر تھا کہ یہ زیادہ معروف ویب سائٹس نہیں تھیں۔

لیکن محققین کے لیے یہ بات بہت حیران کن تھی کہ ان کا نیٹ ورک کتنا وسیع تھا۔

فیس بک پر ان 34 ویب سائٹس کی جانب سے کیے گئے پیغامات پر سامنے آنے والے رد عمل یعنی 'انٹر ایکشن' کا جب حساب لگایا گیا تو یہ اعداد سامنے آئے۔

•عالمی ادارہ صحت کی ویب سائٹ پر 62 لاکھ انٹر ایکشن ہوئے۔

•امریکہ کے قومی ادارہ برائے امراض کی ویب سائٹ پر 64 لاکھ انٹرایکشن ہوئے۔

•ان 34 میں سے ایک ویب سائٹ ' TheEpochTimes.com' جس کے فیس بک نے اشتہارات پر پابندی لگائی ہوئی تھی، اور اسے گذشتہ سال فیس بک اور ٹوئٹر نے جعلی طریقے سے کام کرنے کے طور پر شناخت کیا تھا، اس ویب سے کے تقریباً پانچ کروڑ انٹرایکشن تھے۔

ان 34 ویب سائٹس کے مجموعی طور پر آٹھ کروڑ انٹر ایکشن تھے۔

فیس بک سے جب اس حوالے سے سوالات کیے گئے تو انھوں نے بتایا کہ بی بی سی کلک کی جانب سے دی گئی معلومات کی روشنی میں انھوں نے ایسی کئے لنکس کو ہٹا دیا ہے جو فیس بک کی فیک نیوز اور نفرت انگیز پیغامات کے بارے میں پالیسی کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔

فیس بک نے مزید کہا: 'جہاں کوئی پوسٹ ہماری پالیسی کی خلاف ورزی نہیں کرتا لیکن خود مختار طور پر حقائق جاننے والے یعنی فیکٹ چیکرز اگر ان پوسٹس کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ غلط خبروں پر مبنی پوسٹ ہے تو ہم اس پر نشان لگا دیتے ہیں کہ یہ غلط خبر ہے اور 95 فیصد لوگ وہ نشان دیکھنے کے بعد اس مواد کو نہیں دیکھتے۔

بڑھتے ہوئے خدشات

سی ڈی سی اور ڈبلیو ایچ او کے لیے معلومات کی ترسیل کرنے کے لیے دیگر طریقے بھی ہیں۔

برطانیہ کے میڈیا کے نگراں ادارے آف کام کی حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ لوگ وائرس کے بارے میں معلومات ان ذرائع سے جاننا چاہتے ہیں جو مرکزی دھارے میں ہوں۔

البتہ ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ یہ ایک 'انفو ڈیمک'یعنی غلط اطلاعات کی وبا ہے، اور نظر یہ آتا ہے کہ اس وبا سے کئی لوگ متاثر ہیں۔

اور اس میں یہ دیکھا گیا ہے کہ ان ویب سائٹس پر ایسے عناصر اس مواد کا پرچار کر رہے ہیں جس میں بتایا یہ جا رہا ہے کہ لاک ڈاؤن کا مقصد صحت عامہ اور لوگوں کی حفاظت نہیں ہے بلکہ یہ عوام کو 'قابو' کرنا ہے، اور یہ ویب سائٹس اور یہ عناصر وعدہ کرتے ہیں کہ 'ہم آپ کو اس سے آزادی دلائیں گے۔'

اور اس کے پھیلاؤ اور حجم کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ نہ صرف لاک ڈاؤن کے لیے خطرہ ہیں بلکہ اس طبی اور سیاسی حکمت عملی کے لیے بھی خطرہ ہیں جس کے تحت لاک ڈاؤن کا فیصلہ لیا گیا ہے۔