شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک 'درمیانی میزبان' جانور کے واسطے سے کورونا وائرس چمگادڑ سے انسان میں آیا ہے۔

اگرچہ عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ تحقیق وائرس کے قدرتی پیدائش کی جانب اشارہ کرتی ہے، مگر بعض سائنسدان کہتے ہیں کہ شاید یہ کبھی معلوم نہ ہو سکے کہ یہ پہلے انسان کو کیسے لگا تھا۔

یہ واضح نہیں کہ آیا یہ میزبان جانور ووہان میں جنگلی جانوروں کی مارکیٹ میں فروخت کیا گیا تھا۔ مگر جنگلی حیات کے کاروبار کو اس وبا کے ممکنہ ذریعے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ یہ کاروبار مختلف انواع کے درمیان امراض کے انتقال کا ذریعہ ہے، اور جس سے پچھلی وبائیں بھی پھیلی ہیں اور اس عالمی وبا کا ذمہ دار بھی سمجھا جا رہا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت میں کووِڈ-19 پر تحقیق کی سربراہ ماریا وان کرخوف نے بی بی سی کو بتایا کہ 'ہم اس جیسی صورتحال کی تیاری کر رہے تھے کیونکہ مسئلہ اگر کا نہیں بلکہ کب کا تھا۔'

وائرس کی مختلف انواع کے درمیان منتقلی

متعدی امراض کے ماہرین متفق ہیں کہ دیگر انسانی امراض کی طرح اس وائرس نے بھی نظر میں آئے بغیر انواع کے درمیان پائی جانے والی رکاوٹ کو عبور کیا ہے۔

زولوجیکل سوسائٹی لندن کے پروفیسر اینڈرو کنگھم کہتے ہیں: 'درحقیقت ہم ایسا کچھ ہونے کے منتظر تھے۔‘

'ان امراض کے حالیہ برسوں میں زیادہ سامنے آنے کی وجہ جنگلی حیات کے مسکنوں میں بڑھتی ہوئی انسانی تجاوزات، ان سے رابطے میں آنا اور جنگلی جانوروں کا زیادہ استعمال ہے۔'

کووِڈ-19 کے وائرس کے ایک جاندار سے دوسرے کو منتقلی کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔

بلکہ یہ ایبولا، ہلکاؤ، سارس اور مرس کی قبیل کے امراض میں نیا اضافہ ہے۔ پہلے پہل ان امراض کا پتا جنگلی چمگادڑوں میں چلا تھا۔ اس سلسلے میں سب سے زیادہ شواہد 2003 میں پھوٹنے والی سارس کی وبا پر تحقیق کے دروان سامنے آئے تھے۔

سائنسدانوں نے کہیں 2017 میں جاکر چین کے ایک غار میں 'سارس سے متعلق چمگادڑوں کے جین سے مالا مال ذخیرہ' دریافت کیا۔

کورونا وائرس کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے بچیں؟

کورونا وائرس اور نزلہ زکام میں فرق کیا ہے؟

آخر کرونا وائرس شروع کہاں سے ہوا؟

کورونا وائرس: سماجی دوری اور خود ساختہ تنہائی کا مطلب کیا ہے؟

کورونا وائرس: ان چھ جعلی طبی مشوروں سے بچ کر رہیں

کورونا وائرس: چہرے کو نہ چھونا اتنا مشکل کیوں؟

ایک نئے میزبان میں منتقلی کے لیے وائرس کو اپنے ہدف کے خلیوں کا تالا توڑنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ سارس کی طرح چمگادڑ میں کوروناوائرس کے جدِ امجد کے پاس انسانی کی خلوی چابی تھی۔

گلاسگو یونیورسٹی میں ماہر وائرسیات، پروفیسر ڈیوِڈ رابرٹسن، اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں: 'Sars-CoV-2 کے معاملے میں کنجی ایک وائرس پروٹین یا لحمیہ ہے جسے سپائک کہتے ہیں اور خلیے میں داخل ہونے کے لیے بڑا قفل ACE2 کہلاتا ہے۔

'اے سی ای ٹو میں کورونا وائرس نہ صرف بالکل فِٹ بیٹھتا ہے، بلکہ سارس-1 کے مقابلے میں زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے۔'

اس کے مکمل فِٹ بیٹھنے کی صلاحیت سے ہی اس بات کی وضاحت ہو جاتی ہے کہ یہ اتنی آسانی سے کیسے ایک انسان سے دوسرے کو منتقل ہو رہا ہے اور اسے روکنے کی ہماری تمام کوششیں کیوں بارآور ثابت نہیں ہو رہی ہیں۔ مگر چمگادڑ کے وائرس کو انسانی خلیے کے دروازے تک لانے میں جنگلی حیات کا اہم کردار ہے۔

خرید و فروخت اور مرض لگانا

ہم میں سے زیادہ تر لوگوں نے سن رکھا ہے کہ یہ وائرس ووہان میں جنگلی حیات کی ایک منڈی سے شروع ہوا۔ مگر اس وائرس کی جڑ، یعنی جس جانور کے جسم میں اس نے جنم لیا، کی نشاندہی نہیں ہو سکی۔

یونیورسٹی آف کیمبرج کے پروفیسر جیمز ووڈ کا کہنا ہے کہ 'ابتدائی طور پر یہ لوگوں میں یہ وائرس سامنے آیا ان کا تعلق اس مارکیٹ سے تھا، مگر یہ واقعاتی شواہد ہیں۔

'ہو سکتا ہے کہ انفیکشن کہیں اور سے آیا ہو اور یہ محض اتفاق ہو کہ اس نے اس ایک جگہ پر اتنے لوگوں کو متاثر کیا ہو۔ مگر حیوانی وائرس ہونے کے ناطے، اس مارکیٹ سے اس کا تعلق ایک نمایاں سراغ کا پتا دیتا ہے۔'

پروفیسر کنگھم اس بات سے متفق نظر آتے ہیں کیونکہ بقول ان کے جنگلی حیات کی مارکیٹیں جانوروں کے امراض کی وہ آماجگاہیں ہیں جہاں ان امراض کو نئے میزبان ملتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: 'حفظانِ صحت کی ابتر حالتوں میں بہت ساری انواع کا یکجا ہونا، وہ بھی ایسی اقسام کا قریب آنا جو عام طور پر ایک دوسرے سے رابطے میں نہیں آتیں، جراثیم کو ایک نوع سے دوسری نوع میں منتقلی کے وافر مواقع فراہم کرتا ہے۔'

ماضی میں ایسے کئی وائرس دوسری انواع سے انسانوں کو لگے ہیں، وہ انواع جن کی یا تو فارمنگ کی جاتی ہے یا انھیں شکار کرنے بازاروں میں فروخت کیا جاتا ہے۔

پروفیسر ووڈ کا کہنا ہے کہ 'سارس سب سے پہلے انسانوں میں پام مشک بلاؤ سے منتقل ہوا تھا، جنھیں جنوبی چین میں کھانے کے لیے فروخت کیا جاتا تھا۔

'یہ جاننا اس لیے ضروری ہے کہ اس وقت پام مشک بلاؤ بھی وبا کا شکار تھے اور انسانی کو اس مرض کی منتقلی کو روکنے کے لیے ان جانوروں میں وبا کو روکنا بہت اہم تھا۔'

اس انتقال کی گم گشتہ کڑیوں کی تلاش میں سائنسدانوں کو میزبانی کچھ اہم سراغ آبی نیولوں، سفید نیولوں، حتٰی کہ کچھووں تک میں ملے ہیں۔

ایسے ہی وائرس کمیاب اور سمگل شدہ پینگولین (چیونٹی خور) کے جسموں میں بھی پائے گئے ہیں۔ مگر حالیہ وبا کے انتقال میں ان انواع پر کسی طرح کا شبہ نہیں ہے۔ البتہ یہ بات طے ہے کہ جنگلی جانوروں کے کاروبار اور ان سے رابطے میں آنا انسانوں اور ان جانوروں دونوں کے لیے خطرناک ہے۔

پروفیسر ووڈ کا کہنا ہے کہ 'جنگلی جانوروں کو اپنے یا پالتوں جانوروں سے دور رکھنے کی کوشش اس معاملے میں بہت اہم ہے۔'

مگر جنگلی حیات کی تجارت کے لیے ضابطے بنانا ایک پیچیدہ عمل ہے۔

پروفیسر ووڈ کے بقول 'جنگلی حیات کی تجارت اور اس سے رابطے پر پابندی کے لیے کئی کوششیں کی گئی ہیں۔ مگر ہوتا یہ ہے کہ چند غریب لوگ ہی ان کی زد میں آتے ہیں۔ کئی بار ایسے ضوابط لاگو کرنے کے بعد یہ کاروبار زیر زمین چلا جاتا ہے اور پھر اس کے بارے میں آپ کچھ نہیں کر پاتے۔'

عالمی ادارۂ صحت نے چین میں جنگلی حیات کے بازاروں میں حفظان صحت اور اسے محفوظ بنانے کے لیے سخت تر معیارات مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مگر اکثر اس طرح کے کاروبار غیر رسمی طور پر چلائے جاتے ہیں اس لیے انھیں ضابطے میں لانا مشکل ہو جاتا ہے۔

پروفیسر ووڈ کہتے ہیں: 'آپ ان پر لندن یا جنیوا میں بیٹھ کر عملدرآمد نہیں کروا سکتے، اس کے لیے ہر ملک میں مقامی سطح پر کام کرنا ہوگا۔'

یہ ایک عالمگیر مگر پیچیدہ کام ہوگا۔ مگر کووڈ-19 نے ثابت کر دیا ہے کہ ایسا نہ کرنے کی قیمت بہت بھاری ہے۔