پیر کو کورونا وائرس کی ویکسین سے متعلق ہونے والی فنڈنگ کانفرنس سے امریکہ اور روس غیر حاضر تھے جبکہ چین نے ویکسین کی تیاری اور علاج پر تحقیق کے لیے براہ راست مالی مدد کا کوئی وعدہ نہیں کیا۔ فارماسوٹیکل طاقت کے دو مراکز: امریکہ اور چین کی علیحدہ ویکسین تیاری کی کوشش ایک پریشان کن صورتحال کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔

یورپین ممالک کا خیال ہے کہ اس وائرس کے لیے تیار ہونے والی ویکسین پر تمام ممالک کی ملکیت کا حق تسلیم کیا جانا چائیے۔ یورپی ممالک کے اس خیال کی تائید کرنے والے ممالک کو تشویش ہے کہ اس وقت ویکسین کی تیاری کے لیے ایک مقابلہ نظر آ رہا ہے۔

ماہر جینیات کیٹ براڈیریک سائنسدانوں کی اس ٹیم کا حصہ ہیں جو دنیا بھر میں کووڈ 19 کے لیے ایک ویکسین تیار کرنے کی کوشش کرنے والے 44 منصوبوں میں سے ایک ہے۔

وہ امریکہ کی بائیو ٹیکنالوجی کمپنی اینویو میں محققین کی ایک ٹیم کا حصہ ہیں جو دسمبر تک اس ویکسین کی دس لاکھ خوراکیں تیار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ لیکن یہ ویکسین کہاں اور اور کن لوگوں کو ملے گی۔

یہ ایسا سوال ہے جو اکثر ڈاکٹر براڈیریک کے ذہن میں آتا ہے۔ سکاٹ لینڈ کی اس سائنسدان کی ایک بہن برطانیہ نیشنل ہیلتھ سروس میں بطور نرس کام کرتی ہیں۔

ڈاکٹر براڈیریک نے بی بی سی کو بتایا کہ’ میری بہن ہر روز اس بیماری کا مقابلہ کرنے میں لوگوں کی مدد کر رہی ہیں۔ تو ہاں میں ہر کسی کے لیے ویکسین کی فراہمی کے مسائل کے بارے میں پریشان ہوں۔‘

’ہمیں یہ ویکسین تیار کرنے کی ضرورت ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

کیا سائنسدان کورونا وائرس کی ویکسین ایجاد کر پائیں گے؟

ویکسینیشن یا حفاظتی ٹیکوں کی مختصر تاریخ

ویکسینیشن: سات غلط فہمیاں جنھیں دور کرنا ضروری ہے

ذخیرہ اندوزی

لیکن اس بارے میں پہلے ہی خدشات موجود ہیں کہ اینویو سے تیار ہونے والی ویکسین کی امیر ممالک ’ذخیرہ اندوزی‘ کر سکتے ہیں۔

امیر اور غریب ممالک میں ’حفاظتی ٹیکوں کی خلیج‘ کے اس خطرے سے متعلق خبردار کرنے والوں میں ایک آواز وبائی امراض کے ماہر سیٹھ برکلے کی ہے۔

وہ ’دی ویکسین الائنس‘ (گیوی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں، جو سرکاری اور نجی شعبے کے اداروں کی عالمی شراکت میں دنیا کے 73 غریب ممالک میں حفاظتی ٹیکوں تک رسائی بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔

اس ادارے کے ممبران میں عالمی ادارہ صحت بھی شامل ہے۔

ڈاکٹر برکلے نے بی بی سی کو بتایا: ’ہمیں یہ بات ابھی کرنا ہو گی، اگرچہ ابھی ویکسین دستیاب نہیں ہے۔‘

’چیلنج یہ ہو گا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ نہ صرف امیر ممالک میں جن لوگوں کو ویکسین کی ضرورت ہے، اس کی معقول مقدار موجود ہو بلکہ غریب ممالک میں بھی جنھیں اس کی ضرورت ہے، کو یہ دستیاب ہو۔‘

’بلاشبہ میں پریشان ہوں۔ نایاب اشیا کو ہمیشہ برے رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہمیں یہاں صحیح کام کرنے کی ضرورت ہے۔‘

ان کا یہ خوف بے بنیاد نہیں: سب کے لیے ایک طرح میسر نہ ہونا پہلے آنے والی ویکسینز کی بھی خصوصیت رہی ہے۔ ابھی حال ہی میں، جرمنی کے اخبار ویلٹ ایم سونٹاگ نے سینئر سرکاری افسران کے حوالے سے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جرمن بائیوٹیکنالوجی کمپنی کیور ویک کی تیار کردہ ایک ویکسین تک امریکیوں کے لیے خصوصی رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی اور ناکام رہے۔

ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین

حفاظتی ٹیکوں کے اس خلیج کی ایک اہم مثال ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہ ایک ایسا وائرس ہے جو جگر کے سرطان کی بڑی وجہ بن سکتا ہے اور ایچ آئی وی سے 50 گنا زیادہ متعدی مرض ہے۔

ایک اندازے کے مطابق سنہ 2015 میں دنیا بھر میں تقریباً 25.7 کروڑ افراد کو ہیپاٹائٹس بی تھا۔

اس بیماری سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکے سنہ 1982 میں امیر ممالک میں دستیاب ہو چکے تھے لیکن سنہ 2000 تک دنیا کے دس فیصد سے بھی کم غریب ممالک کو اس تک رسائی حاصل تھی۔

سنہ 2000 میں بل اور میلنڈا گیٹس کی بنائی گئی گیوی نے حکومتوں اور دوا ساز کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں کی بدولت دیگر ویکسین کے ساتھ اس خلا کو نمایاں طور پر کم کرنے میں مدد کی ہے۔

ایک اور اہم کھلاڑی ناروے کی ایک ایجنسی سیپی (سی ای پی آئی) ہے، جو سرکاری اور نجی عطیات سے رقم کا استعمال کر کے ویکسین کی تیاری میں مالی اعانت کے لیے سنہ 2017 میں تشکیل دی گئی تھی۔

سی ای پی آئی کھلے عام ویکسین تک مساوی رسائی کی حمایت کرتی ہے۔

اس کمپنی نے اپنے ایک بیان میں کہا: ’جیسا کہ کووڈ 19 ظاہر کرتا ہے کہ متعدی امراض سیاسی سرحدوں کو مکمل طور پر نظرانداز کرتے ہیں۔‘

’ہم ویکسین کی منصفانہ تقسیم کے بغیر عالمی سطح پر متعدی بیماری کے خطرے کو نہیں روک سکتے ہیں۔‘

دو طرفہ رسائی

تاہم حقیقیت ابھی بھی دو طرفہ ہے۔

اس کی ایک مثال گارڈیسل ہے، جو سنہ 2007 میں امریکی لیبارٹری میرک نے ہیومن پیپیلوما وائرس (ایچ پی وی) سے نمٹنے کے لئے بنائی تھی، سنہ 2014 میں امریکی حکام نے اسے استعمال کرنے کی اجازت دی تھی۔

دنیا بھر میں سروائیکل کینسر کے زیادہ تر کیسز کے پیچھے ایچ پی وی ہے لیکن سنہ 2019 تک اس کی ویکسین صرف 13 کم آمدن والے ممالک میں دستیاب تھی۔

دنیا بھر میں سروائیکل کینسر سے ہونے والی 85 فیصد ترقی پذیر ممالک میں ہو رہی ہیں۔

تو اس کا اصل ذمہ دار کون؟ بڑھتی ہوئی طلب کی وجہ سے پیدا ہونے والی عالمی قلت۔ یہ قلت کیوں پیدا ہوتی ہے، یہ سمجھنے کے لیے ہمیں ویکسین کے کاروبار کو دیکھنا ہو گا۔

آمدن کے کیک کا ایک باریک مگر مزیدار ٹکڑا

ویکسینز دوا سازی کی صنعت کی بنیادی آمدن کا ذریعہ نہیں، سنہ 2018 میں جب دواسازی کی عالمی منڈی کی مالیت 12 کھرب ڈالر تھی، تو اسی مدت میں ویکسینز سے آنے والی آمدن صرف 40 ارب ڈالر تھیں۔

یہ فرق اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ویکسین تیار کرنے کا کاروبار علاج معالجے کی دوائیوں سے زیادہ مشکل ہے۔

ویکسینز میں جانچ کے سلسلے میں زیادہ تحقیق اور ترقیاتی لاگت درکار ہوتی ہے اور ٹیسٹنگ کے قواعد و ضوابط بہت زیادہ پیچیدہ ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ صحت عامہ کے ادارے، جو ان کے بنیادی خریدار ہوتے ہیں، نجی خریداروں کے مقابلے میں کم قیمت پر خوراک خریدتے ہیں۔

اس کی وجہ سے عام طور پر ویکسین عام دوائیوں کے مقابلے میں کم منافع بخش ہوتی ہے، خاص طور پر وہ ویکسین جو زندگی میں صرف ایک بار ہی لگائی جاتی ہے۔

امریکہ میں ویکسین بنانے والی کمپنیوں کی تعداد سنہ 1967 میں 26 سے کم ہو کر سنہ 2004 میں پانچ ہو گئی کیونکہ ان کمپنیوں نے روک تھام کے بجائے علاج پر زیادہ سے زیادہ توجہ دینا شروع کردی۔

تاہم چیزیں بدل چکی ہیں۔ بل اور میلنڈا گیٹس جیسے لوگوں اور اداروں کی مالی اعانت کا شکریہ، جنھوں نے پچھلے کچھ برسوں میں ویکسینز کے لیے اربوں ڈالر کا عطیہ کیا۔

’دھماکہ خیز‘ ویکسینز

اس صنعت نے نئی ایجادات جیسے کہ پریوینار کے ذریعے قابل ذکر تجارتی کامیابی بھی حاصل کی، پریوینار بچوں اور بڑوں کو نمونیا کا باعث بننے والے بیکٹیریا سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔

سائنسی جریدے نیچر کے مطابق سنہ 2019 میں پریوینار عالمی سطح پر سب سے زیادہ فروخت ہونے والی دس ادویات میں ایک تھی۔

ملٹی نیشنل دوا ساز کمپنی پیفائزر کی تیار کردہ یہ ’دھماکہ خیز‘ ویکسین اس کمپنی کی مبینہ طور پر سب سے مشہور پیداوار ویاگرا سے بھی زیادہ فروخت ہوئی۔

جبکہ گیوی کے دائرہ کار میں آنے والے غریب ممالک میں پیشگی خریداری کے معاہدوں (ویکسین کی بڑی مقدار میں خریداری کا عہد، جس سے فی خوراک قیمت کم ہوجاتی ہے) کی بدولت پریوینار کی ایک خوراک تین ڈالر سے بھی کم میں خریدی جا سکتی ہے،جبکہ امریکہ میں یہ قیمت 180 ڈالر تک بڑھ جاتی ہیں۔

برطانیہ میں ایچ پی وی ویکسین کی دو خوراکوں کے کورس کی قیمت، جو عام طور پر 12 اور 13 برس کے لڑکے اور لڑکیوں کے لیے ہوتا ہے، 351 ڈالر ہے۔ اس کے مقابلے گیوی کی ہر خوراک کی قیمت پانچ ڈالر کم ہے۔

’بڑی دواساز کمپنیاں ویکسین کی 80 فیصد عالمی فروخت کی ذمہ دار‘

لہذا بہتر مارکیٹوں میں زیادہ پرکشش منافع ہوتا ہے جس سے کم از کم ویکسین کی تیاری میں کی جانے والی تحقیق اور ترقیاتی اخراجات کو پورا کیا جا سکتا ہے۔

برٹش فارماسوٹیکل انڈسٹری ایسوسی ایشن کے اندازے کے مطابق ایک نئی ویکسین بنانے میں 1.8 ارب ڈالر خرچ آتا ہے۔

لندن سکول آف ہائیجین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن کے ایک پروفیسر مارک جٹ نے بی بی بی کو بتایا: ’اگر ہم یہ فیصلہ مارکیٹ پر چھوڑ دیں تو صرف امیر ممالک کو ہی کووڈ 19 کی ویکسین تک رسائی حاصل ہو گی۔‘

’ہم نے ماضی میں بہت سی ویکسینز کے ساتھ ایسا ہوتے دیکھا ہے لیکن اس بار اگر دوبارہ ایسا ہوا تو یہ بہت بڑا سانحہ ہو گا۔‘

عالمی ادارہ صحت کے مطابق کم منافع کے باوجود بڑی دواساز کمپنیاں جیسے کہ پیفائزر اور مرکک ویکسین کی 80 فیصد عالمی فروخت کی ذمہ دار ہیں۔‘

تو یہ ممکن ہے کہ پھر ’بڑی دوا ساز کمپنیاں‘ ہی آخر میں کورونا وائرس کی ویکسین میں کردار ادا کریں گی۔

اکونومسٹ اینٹیلجنس یونٹ میں دوا ساز صنعت کی تجزیہ کار اینا نیکولس نے بی بی سی کو بتایا: ممکن ہے کہ بنیادی آئیڈیا ان کا نہ ہو لیکن وہ ویکسین لانے کے معاشی قوت رکھتی ہیں۔‘

اتفاق رائے

اگر ڈی این اے پر مبنی کووڈ 19 کی ویکسین کامیاب ثابت ہو جاتی ہے تو، مثال کے طور پر، اینویو کو کسی دوا ساز کمپنی کے ساتھ شراکت کرنا ہو گی تاکہ لاکھوں کی تعداد میں خوراک کی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکے۔

اس شعبے کی بڑی کمپنیوں نے پچھلے کچھ برسوں میں ویکسین کی عالمی سطح تک رسائی پر کام کرنے کے لیے عوامی سطح پر وعدہ کیا ہے۔

گلیکسو سمتھ کلائن (جی ایس کے) جس کا شمار دنیا کی بڑی دوا ساز کمپنیوں میں ہوتا ہے، کووڈ 19 کی ویکسین تیار کرنے کے لیے متعدد پارٹنرشپس کا حصہ ہے۔

گلیکسو سمتھ کلائن کی چیف ایگزیکٹو ایما والمسلے نے ایک بیان میں کہا: کووڈ 19 کو شکست دینے کے لیے صحت عامہ میں کام کرنے والے ہر فرد کے ساتھ مل کر اجتماعی کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔‘

’ہم اس بار پر مکمل یقین رکھتے ہیں کہ سائنسدانوں، دوا سازی کی صنعت، حکومتوں اور صحت سے متعلق کارکنوں میں تعاون ہی لوگوں کو تحفظ اور اس وبا کا حل تلاش کرنے میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔‘

گیوی کے سیٹھ برکلے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ’حفاظتی ٹیکوں کی خلیج‘ سے بچنے میں اتفاق رائے ہی کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

’یقینا عالمیگر رسائی فوری طور پر نہیں ہونے والی ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’لیکن یہ ایسی صورتحال نہیں ہو سکتی جہاں لوگ صرف ادائیگی کرنے کی اہلیت کی بنا پر ویکسین لیتے ہیں۔‘

’اگر ہم اس جگہ کے ساتھ کام نہیں کرتے جہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے تو پھر یہ وبا جاری رہے گی۔‘