ڈیوِڈ ہیرِس کی دنیا ایک کمرے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

سات ہفتے قبل ان میں کووِڈ 19 کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوئی تھیں جو ان کے بقول شدید زکام کی سی تھیں۔

برطانوی شہر برِسٹل کے رہائشی 42 سالہ ماہرِ تعمیرات ڈیوِڈ نے اسی وقت خود کو اپنے گھر میں بیوی اور شیرخوار بیٹی سے الگ تھلگ کر لیا۔

تقریباً ہفتے بھر بعد انھوں نے بہتر محسوس کرنا شروع کر دیا، مگر دو ہفتے بعد حیران کن طور پر ان میں پھر سے علامات نمودار ہو گئیں۔

یہ بھی پڑھیے

کورونا وائرس کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے بچیں؟

کورونا وائرس: پاکستان میں پلازما تھیراپی سے علاج کا پہلا تجربہ

امریکہ کا چین پر وائرس پھیلانے کا الزام اور چینی میڈیا کا جواب

انھوں نے بتایا کہ 'علامات کے دوبارہ ظاہر ہونے کی مجھے بالکل توقع نہیں تھی۔ یہ دوسری لہر زیادہ شدید تھی۔ اس بار زکام کی علامات کے ساتھ سانس بھی پھول رہا تھا، اور اسی لیے مجھے یقین ہو گیا کہ یہ کوروناوائرس ہی ہے۔‘

'پھر دو ہفتے تک مجھے لگا کہ میں ٹھیک ہو رہا ہوں۔ میں بہت تھکن محسوس کر رہا تھا۔‘

'اور پھر ساتویں ہفتے میں علامات پھر سے نمودار ہو گئیں۔ خوش قسمتی سے علامات اس بار اتنی شدید نہیں تھیں۔'

پچھتاوے سے احتیاط بہتر ہے کے اصول پر کارفرما رہتے ہوئے ڈیوِڈ نے خود ساختہ تنہائی یا سیلف آئسولیشن جاری رکھی۔ وہ بس باتھ روم جانے کے لیے کمرے سے نکلتے۔

ان کی بیوی اور 10 ماہ کی بیٹی مِلی کو کھڑکی کے قریب لاتیں تاکہ ڈیوِڈ شیشے کے باہر اپنی بیٹی کو دیکھ سکیں۔

بیماری نے انھیں بہت کمزور کر دیا اور انھیں پتا نہیں تھا کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔

ان کہنا ہے کہ 'ان کے لیے سب سے تکلیف دہ عمل یہ فیصلہ کرنا تھا کہ کب انھیں طبی مدد طلب کرنی چاہیے۔‘

'میں بلا وجہ این ایچ ایس (برطانیہ میں صحت عامہ کا سرکاری ادارہ) پر بوجھ نہیں ڈالنا چاہتا تھا کیونکہ ایسے لوگ ہیں جن کی حالت مجھ سے زیادہ خراب ہے۔‘

'مگر یقیناً میں ایسی صورتحال سے بھی نہیں دوچار ہونا چاہتا تھا کہ میری حالت بہت بگڑ جاتی جس کا نتیجہ اس لیے برا نکلتا کہ میں نے بر وقت مدد نہیں مانگی۔‘

شدید اذیت

لندن کی انچاس سالہ فیلیسیٹی کا کووِڈ 19 میں مبتلا ہونے کے بعد اب صحتیابی کا چھٹا ہفتہ ہے۔

ڈیوڈ کی طرح ان کا تجربہ بھی تکلیف دہ ہے۔

انھوں نے بتایا 'سب سے مشکل پہلے 10 روز تھے جب میں بہت بیمار تھی اور میں سوچ رہی تھی کہ اب ٹھیک ہو رہی ہوں تو حالت پھر سے بگڑنا شروع ہو گئی۔

'مجھے بیمار ہوئے پانچواں ہفتہ تھا جب میرے پارٹنر نے ایمرجنسی کو فون کیا کیونکہ میرے پیٹ میں اتنا شدید درد اٹھا تھا کہ میں چِلّا اٹھی تھی۔

'یہ پتا لگانا اتنا مشکل تھا کہ کیا یہ وائرس کی وجہ سے ہے، یا مدافعتی نظام کا ردعمل ہے یا سوزش کا نتیجہ ہے؟‘

'بیمار پڑنے سے پہلے مجھے کبھی پیٹ میں تکلیف نہیں ہوئی تھی، مگر پانچواں ہفتہ تو بہت ہی ہولناک تھا۔'

ٹیسٹ ندارد

ڈیوڈ اور نہ ہی فیلیسیٹی کا کووِڈ 19 ٹیسٹ ہوا، البتہ دونوں کو ڈاکٹروں نے بتایا کہ غالباً وہ وائرس کا شکار ہیں۔

انھیں یہ بھی بتایا گیا کہ وہ یہ وائرس کسی دوسرے کو منتقل نہیں کر سکتے۔

مگر فیلیسیٹی کی علامتیں جانے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں اور اتنے ہفتوں تک بیمار رہنے کا ان کی صحت پر اثر بھی نمایاں تھا۔

ان کا کہنا تھا 'میں نے صحتیاب ہونے کی کوشش میں بستر پر بہت وقت گزارا۔ بیماری اور شفایابی کے اس تجربے نے مجھے ذہنی طور پر نڈھال کر دیا۔'

اکثریت میں جلد شفایابی

مشکل یہ ہے کہ ہم کوروناوائرس کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے، مثلاً بعض لوگوں میں اس کی علامات درمیانے درجے اور محض چند دنوں کے لیے کیوں نمودار ہوتی ہیں، اور بظاہر کئی بالکل صحتمند افراد میں کیوں لمبے عرصے تک ان علامات میں مبتلا رہتے ہیں؟

لندن ہسپتال سے وابستہ ڈاکٹر فیِلپ گوتھارڈ کا کہنا ہے کہ زیادہ تر مریض بہت جلد اور مکمل طور پر شفایاب ہو جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا 'بعض مریضوں کو مسلسل کھانسی جاری رہتی ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ بہت سے چار، پانچ اور چھ ہفتے تک نکاہت محسوس کرتے ہیں۔‘

'اگر آپ ویسے صحتمند ہیں تو یہ بہت تکلیف دہ مرحلہ ہے کیونکہ آپ اس کے عادی نہیں ہوتے۔‘

لمبی چلنے والی علامات

کِنگز کالج لندن کے پروفیسر ٹِم سپیکٹر کہتے ہیں کہ اب تک کی معلومات سے پتا چلتا ہے کہ کووِڈ 19 کی علامات 12 دنوں میں ختم ہو جاتی ہیں اور لوگ ٹھیک ہونے لگتے ہیں۔

ان کے بقول، 'مگر بعض کیسوں میں بعض علامات 30 روز تک بھی دیکھنے میں آئی ہیں۔

'ہم جیسے جیسے زیادہ معلومات اکھٹی کریں گے اور مصنوعی ذہانت کو استعمال میں لائیں گے تو ہمیں پتا چلا گا کہ علامات کے کون سے مجموعے کن لوگوں کو زیادہ متاثر کرتے ہیں۔'

ڈیوِڈ اور فیلیسیٹی کو اب امید ہو چلی ہے کہ وہ ٹھیک ہو رہے ہیں اور جلد معمول کی طرف لوٹ جائیں گے۔

مگر کووِڈ 19، جس کی اپنی عمر چند ماہ سے زیادہ نہیں ہے، ہمیں روز نِت نئے اور ناخوشگوار انداز سے حیران کر رہا ہے۔