دنیا بھر میں جنسی استحصال کی روک تھام کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور کارکنوں نے کریڈٹ کارڈ کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ انھیں پورنوگرافک ویب سائٹس کو رقوم کی ادائیگی روک دینی چاہیے۔

بی بی سی نے 10 کارکنوں اور تنظیموں کا دستخط شدہ وہ خط دیکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پورن سائٹس جنسی تشدد، خونی رشتوں کے درمیان جنسی عمل اور نسل پرستی کو شہوت انگیز بنا کر پیش کرتی ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ یہ سائٹس بچوں کے ساتھ جنسی عمل اور سیکس ٹریفکنگ بھی دکھاتی ہیں۔

اپنے ردِعمل میں صفِ اول کی سائٹ پورن حب نے کہا ہے کہ اس خط میں نہ صرف معلومات غلط ہیں بلکہ یہ گمراہ کن بھی ہیں۔

ماسٹر کارڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ خط میں کیے گئے دعووں کی تحقیقات کر رہے ہیں اور اگر ان کے کسی صارف کی جانب سے کسی غیرقانونی کام کی تصدیق ہو جاتی ہے تو ہم اپنے نیٹ ورک کے ساتھ ان سائٹس کے کنیکشن کو ختم کر دیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

’پورن ہب انتقامی پورن سے منافع کما رہی ہے‘

پورن جو دیکھنے نہیں، سننے سے تعلق رکھتا ہے

ویب ٹیکنالوجی میں ترقی کے لیے فحش مواد آج بھی اہم؟

'ہمارے والدین خفیہ طور پر پورن کی سلطنت چلارہے تھے'

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ پانچ برِاعظموں میں جنسی استحصال کے خلاف کام کرنے والے کارکنوں اور تنظیموں نے مشترکہ طور پر دنیا کی بڑی بڑی کریڈٹ کارڈ کمپنیوں کو پورن انڈسٹری سے متعلق خط لکھا ہے۔

یہ خط 10 کمپنیوں کو لکھا گیا ہے جن میں ویزا، ماسٹر کارڈ اور امریکن ایکسپرس شامل ہیں۔ خط لکھنے والوں میں برطانیہ، انڈیا، یوگینڈا اور آسٹریلیا سمیت کئی دیگر ممالک کے کارکن شامل ہیں جنھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پورن سائٹس کو رقوم کی ادائیگیاں فوری طور پر معطل کی جائیں۔

خط میں الزام لگایا گیا ہے کہ ان سائٹس پر موجود ویڈیو سے متعلق یہ معلوم کرنا ناممکن ہے کہ اس میں نظر آنے والے لوگوں کی مرضی شامل ہے جبکہ ویب کیم کے ذریعے براہ راست نشر کیے جانے والا مواد تو لازمی طور پر پورنوگرافی کی ویب سائٹس کو سیکس ٹریفیکنگ اور بچوں کا جنسی استحصال کرنے والوں کے لیے مواقع فراہم کرتی ہیں۔

برطانیہ میں قائم جنسی استحصال سے متعلق انٹرنیشنل سینٹر کی ڈائریکٹر ہیلی میک نمارہ کہتی ہیں ’حالیہ مہینوں میں ہمیں پورنوگرافی دکھانے والی ویب سائٹس کے نقصانات کے بارے میں عالمی سطح پر مختلف انداز میں آوازیں اٹھتی نظر آ رہی ہیں۔‘

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کے حقوق اور جنسی استحصال کے خلاف کام کرنے والے لوگ مالیاتی اداروں سے اِس بات کا بغور جائزہ لیںے کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ کس طرح پورن انڈسٹری کو فائدہ پہنچا رہے ہیں اور یہ کہ وہ پورن انڈسٹری سے اپنا تعلق ختم کریں۔

پورنوگرافی کی سائٹس پر بچوں کے جنسی استحصال کی ویڈیوز کی مانگ کے بارے میں انڈیا چائلڈ پروٹیکشن فنڈ کی ایک رپورٹ اپریل میں شائع ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق انڈیا میں پورن سائٹس پر بچوں کے بارے میں ویڈیوز کی تلاش میں بڑا اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر کورونا وائرس کے پھیلنے کے بعد لاک ڈاون کے دوران ایسی ویڈیوز کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

سب سے مقبول سائٹ پورن حب کا ذکر بھی اِس خط میں کیا گیا ہے۔ سنہ 2019 میں اِس سائٹ کو 42 ارب مرتبہ دیکھا گیا۔ جس کا مطلب ہے کہ روزانہ 11 کروڑ 50 لاکھ مرتبہ لوگوں نے اِس ویب سائٹ پر جا کر جنسی مواد دیکھا۔

گزشتہ برس پورن حب زیرِ نگرانی آئی جب 'گرلز ڈو پورن' کے نام سے اسے مواد مہیا کرنے والی کمپنی کو ایف بی آئی کی ایک تفتیش میں شامل کیا گیا۔

ایف بی آئی نے کمپنی کے چار اہلکاروں پر فردِ جرم عائد کیا۔ ان پر الزام تھا کہ وہ دھوکہ دہی کے ذریعے خواتین کی پورن ویڈیو بناتے تھے۔ پورن حب نے ان الزامات کے سامنے آتے ہی 'گرلز ڈو پورن' چینل کو ویب سائٹ سے ہٹا دیا۔

برطانیہ کے ادارے انٹرنیٹ واچ فاونڈیشن نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ سنہ 2017 سے 2019 کے درمیان انھیں پورن حب پر 118 ایسی ویڈیو ملیں جن میں بچوں کا جنسی استحصال اور ریپ دکھایا گیا تھا۔

یہ ادارہ انٹرنیٹ پر غیرقانونی مواد کی نشاندھی کرتا ہے اور اِس سلسلے میں عالمی سطح پر پولیس اور حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔

بی بی سی کو جاری کیے گئے اپنے بیان میں پورن حب کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ غیر قانونی مواد کو ختم کرنے اور اس کے خلاف جنگ کے لیے ان کا عزم غیر متزلزل ہے۔ پورن حب کا کہنا ہے کہ اِس میں ایسا مواد بھی شامل ہے جو مرضی کے بغیر اور نا بالغ افراد سے متعلق ہو۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سائٹ پر آنے والے مواد کا جائزہ لینا اور اس کام کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کمپنی کی اولین ترجیح ہے۔ پورن حب کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مذکورہ خط ایسی تنظیموں کی جانب سے بھیجا گیا ہے جو لوگوں کی جنسی ترجیحات اور سرگرمیوں پر اپنے اصول لاگو کرنا چاہتے ہیں۔

امریکن ایکسپرس نے سنہ 2000 سے پورنوگرافی سے متعلق ادائیگیوں پر پابندی عائد کی ہوئی ہے۔ اس کے باوجود خط میں دعوی کیا گیا ہے کہ کچھ مخصوص پورن سائٹس پر امریکن ایکسپریس کے ذریعے ادائیگیاں ہو سکتی ہیں۔

دیگر بڑی کمپنیوں میں ویزا اور ماسٹر کارڈ شامل ہیں جو اپنے ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ دونوں کے ذریعے آن لائن پورنوگرافی کی ویڈیوز خریدنے کی اجازت دیتی ہیں۔

بی بی سی کو ایک ای میل میں ماسٹر کارڈ کے ترجمان نے کہا ہے کہ وہ مذکورہ خط میں کیے جانے والے دعووں کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

نومبر 2019 میں عالمی سطح پر آن لائن ادائگیاں کرنے والی کمپنی پے پال نے اعلان کیا تھا کہ وہ اب پورن حب کو سے متعلق ادائیگیاں نہیں کرے گی کیونکہ کچھ مخصوص جنسی مواد اس کی پالیسی کے خلاف ہے۔

پے پیل کے اس فیصلے کے بعد پورن حب نے اپنی سائٹ پر ایک بلاگ میں کہا تھا کہ وہ اس فیصلے سے بہت افسردہ ہیں اور اس سے پورن حب کے ہزاروں ماڈل اور اداکار معاوضے سے محروم ہو جائیں گے جو سبسکرپشن سے ہونے والی آمدنی پر انحصار کرتے ہیں۔

پورن حب پر کام کرنے والی ایک خاتون نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کہا کہ رقم کی ادائیگی رکنے سے ان کی آمدنی پر بہت برا اثر پڑے گا۔

'یہ تو ایک سخت چوٹ کی مانند ہے۔ اس سے تو میری پوری آمدنی ختم ہو جائے گی اور مجھے نہیں معلوم کہ میں پیسے کیسے کماؤں گی خاص طور پر آج کل لاک ڈاؤن کے دنوں میں۔‘

اِس سال مارچ میں کینیڈا میں مختلف سیاس جماعتوں سے تعلق رکھنے والے پارلیمنٹ کے نو ارکان نے وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو کو لکھا ہے کہ پورن حب کی مالک کمپنی 'مائنڈ گیک' کے خلاف تحقیقات کی جائیں جس کا ہیڈ کواٹر کینیڈا کے شہر مانٹریال میں ہے۔