ہمیں یہ تو معلوم ہے کہ موٹاپا امراضِ قلب سے لے کر کینسر اور ذیابیطس جیسے امراض کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔

تاہم نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ موٹاپے کا شکار کووڈ 19 کے مریضوں کو اس وائرس سے کسی عام شخص سے زیادہ خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

اس حوالے سے کیا ثبوت دستیاب ہیں؟

اس سوال پر متعدد مرتبہ تحقیق کی جا چکی ہے اور ماہرین اس کا جواب ڈھونڈ رہے ہیں۔

  • ایک تحقیق کے مطابق برطانیہ کے ہسپتالوں میں آنے والے ایسے 17 ہزار کے قریب کووڈ 19 کے مریضوں پر تحقیق کی گئی جو موٹاپے کا شکار تھے اور ان کا باڈی میس انڈیکس (بی ایم آئی) 30 سے زیادہ تھا۔ اس تحقیق میں یہ معلوم ہوا کہ ایسے افراد کا اس وائرس سے ہلاک ہونے کا خطرہ 33 فیصد بڑھ جاتا ہے۔
  • برطانوی ادارہ صحت این ایچ ایس کے اعداد و شمار پر کی گئی تحقیق کے مطابق موٹاپے کا شکار افراد میں کورونا وائرس کے باعث ہلاک ہونے کا امکان دگنا ہو جاتا ہے۔ محققین کے مطابق اگر موٹاپے کے علاوہ دیگر بیماریوں جیسے دل کا عارضہ اور ذیابیطس کو بھی شامل تحقیق کیا جائے تو یہ خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔
  • برطانیہ میں انتہائی نگہداشت کے یونٹس میں شدید بیمار افراد میں سے 34 اعشاریہ پانچ کا وزن ان کے جسم کے اعتبار سے زیادہ تھا، 31 اعشاریہ پانچ فیصد موٹاپے کا شکار تھے جبکہ سات فیصد بہت زیادہ موٹے تھے۔ اس طرح صحت مند بی ایم آئی والے افراد کی شرح 26 فیصد جبکہ اس کے موازنے میں موٹاپے کا شکار افراد کی شرح 73 فیصد تھی۔

اس طرح اگر برطانیہ کی کل آبادی کا جائزہ لیا جائے تو موٹاپے کا شکار افراد کی شرح 64 فیصد ہے یعنی 35 فیصد کا بی ایم آئی 25 سے 29 کے درمیان ہے جبکہ 29 فیصد کا 30 سے زیادہ ہے۔

باڈی ماس انڈیکس کا حساب لگانے کے لیے ایک شخص کے وزن (کلوگرام) کو اس کے قد (میٹر سکوائر) سے تقسیم کیا جاتا ہے۔

عالمی سطح پر موٹاپے کی شرح میں اضافے کے باعث ورلڈ اوبیسیٹی فیڈریشن نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے ایسے مریضوں کی شرح کہیں زیادہ ہو گی جو یا تو موٹاپے کا شکار ہیں یا جن کا بی ایم آئی 25 سے زیادہ ہے۔

امریکہ، اٹلی اور چین میں کی جانے والی ابتدائی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ موٹاپا یقیناً خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔

اس کے علاوہ عمر رسیدہ افراد، مردوں اور ایسے افراد جو اس سے قبل بھی مختلف عارضوں میں مبتلا ہوں ان پر کووڈ 19 کا زیادہ اثر پڑ سکتا ہے۔

کورونا وائرس کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے بچیں؟

کورونا وائرس کا ٹیسٹ کیسے ہوتا ہے اور کیوں ضروری ہے؟

مدافعتی نظام بہتر بنا کر کیا آپ کووِڈ 19 سے بچ سکتے ہیں؟

’امیونیٹی پاسپورٹ‘ کورونا کی وبا کو پھیلا سکتے ہیں: ڈبلیو ایچ او

کیا کورونا کے شدید علیل مریضوں کا علاج صحت یاب مریضوں کے خون سے ممکن ہے؟

کورونا وائرس کی ویکسین کب تک بن جائے گی؟

کورونا وائرس: ایبوپروفن اور پیراسیٹامول خطرناک یا کارآمد؟

موٹاپا کورونا وائرس کا خطرہ کیوں بڑھا دیتا ہے؟

آپ کا وزن جتنا زیادہ ہو گا آپ میں اتنی ہی زیادہ چربی ہو گی ہے اور آپ کے پھیپھڑے اتنے ہی کمزور ہوں گے۔

یعنی آپ کے پورے جسم میں خون میں آکسیجن فراہم کرنا بھی کٹھن ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ کے جسم کے لیے خون کی گردش کو یقینی بنانا زیادہ مشکل ہے اور یہ آپ کے دل پر بوجھ ڈالتا ہے۔

گلاسگو یونیورسٹی کے پروفیسر نوید ستار کا کہنا ہے کہ ’کیونکہ ایسے لوگوں کے وزن زیادہ ہوتے ہیں اس لیے انھیں زیادہ آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے جسمانی نظام پر عام لوگوں سے زیادہ دباؤ ہوتا ہے۔‘

اگر ایسے کسی شخص کو کورونا وائرس کا انفیکشن ہو جائے تو صورتحال تشویشناک ہو سکتی ہے۔

یونیورسٹی آف ریڈنگ کے ڈاکٹر دیان سیلایا بتاتے ہیں کہ ایسے زیادہ تر مریضوں کا جسم خون کو مختلف اعضا تک پہنچا نہیں پاتا، جس کی وجہ سے ان کی موت واقع ہو سکتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جن کا افراد کا وزن زیادہ ہوتا ہے یا وہ موٹاپے کا شکار ہوتے ہیں انھیں سانس لینے اور گردوں کے استعمال کے لیے مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔

خلیوں کا اس میں کیا کردار ہے؟

سائنسدانوں کو ایک ایس ٹو نامی ایک اینزائم کے بارے میں پتا چلا ہے جو ہمارے خلیوں میں موجود ہوتا ہے اور یہ ایک وائرس کے جسم میں داخلے کی ایک بڑی وجہ بنتا ہے۔

اس مالیکیول کی جسم میں زیادہ مقدار ’ایڈیپوز ٹشو‘ میں پائی جاتی ہے اور یہ ٹشو ایسے افراد میں زیادہ پایا جاتا ہے جو موٹاپے کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ ٹشو جلد کے نیچے اور دوسرے اعضا کے گرد موجود ہوتا ہے۔

یہ ایک وجہ ہو سکتی ہے ان افراد کو یہ بیماری لگنے کا امکان زیادہ کیوں ہوتا ہے اور یہ شدید بیمار کیوں ہوتے ہیں۔

کیا موٹاپے سے آپ کی مدافعتی نظام متاثر ہوتا ہے؟

اس سب کے علاوہ جسم میں وائرس سے لڑنے کی صلاحیت جسے قوت مدافعت کہتے ہیں وہ موٹاپے کا شکار افراد میں قدرے کم ہوتی ہے۔

مدافعتی خلیے جنھیں میکروفیگس کہا جاتا ہے وہ ہماری چربی میں موجود ہوتے ہیں اور جب یہ ایکٹو ہوتے ہیں تو یہ بہت زیادہ مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق ان کے باعث ’سائٹوکین سٹورم‘ کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔ سائٹوکین سٹورم دراصل مدافعتی نظام کا ایک حد سے زیادہ ردِعمل ہوتا ہے جو بعض اوقات جان لیوا بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے باعث جسم میں انفیکشن بڑھ جاتا ہے جو خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر دیان سیلایا کے مطابق کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ اس وائرس کے مقابلے میں مدافعتی ردِ عمل غیر موثر ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ ایسے افراد جو سیاہ فام، ایشیائی یا دیگر اقلیتی نسلوں سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ موٹاپے کا شکار بھی ہوتے ہیں انھیں اس وائرس سے زیادہ خطرہ کیوں ہوتا ہے۔

کیا اس حوالے سے دیگر مسائل بھی موجود ہوتے ہیں؟

موٹاپے کے باعث صحت کے دیگر مسائل بھی ہو سکتے ہیں جن میں دل اور پھیپھڑوں کا کمزور ہونا اور گردوں کی خرابی یا ذیابیطس شامل ہیں۔

یہ سب علامات کووڈ 19 جیسے مہلک انفیکشن کے جسم پر اثر انداز ہونے کے بعد ہی سامنے آتی ہیں اور اس سے جسم پر مزید بوجھ پڑتا ہے۔

اس کے نتیجے میں خون جمنے یا کلاٹ بننے کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے لیکن یہ نہیں معلوم کہ ایسا کیوں ہے۔

ہسپتالوں کی سہولیات کتنی اہم ہیں؟

موٹاپے کا شکار افراد کا انتہائی نگہداشت میں علاج اس لیے مشکل ہوتا ہے کیونکہ ان کے زیادہ وزن کے باعث مختلف سکین کرنا مشکل ہوتا ہے اور ان کے جسم میں مختلف نالیاں ڈالنا بھی۔

زیادہ وزن والے افراد کو ہلانا بھی مشکل ہوتا ہے اسی لیے انھیں سانس کی تکلیف میں آسانی فراہم کرنا بھی۔

جسم کی چربی کم کرنے کے لیے آپ کیا کر سکتے ہیں؟

اس حوالے سے بہترین طریقہ ہے صحت مند اور متوازن غذا کا استعمال اور باقاعدگی سے ورزش کرنا۔

سماجی فاصلہ اختیار کرتے ہوئے تیز چلنا، دوڑنا اور سائیکل چلانا بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

اس کے علاوہ تھوڑی مقدار میں وقفے سے کھانے اور ایک ہی وقت میں زیادہ کھانا سے بچنے کی کوشش کرنا بھی وزن کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔