کورونا وائرس کی وبا نے عالمی معیشت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے لیکن اس کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے لاک ڈاؤن کی وجہ سے کچھ کمپنیوں کا کاروبار غیرمتوقع طور پر چمکا بھی ہے۔

لیکن ان کامیابیوں میں بھی ناکامیوں کا ذائقہ موجود ہے۔

مثال کے طور پر یہ لاک ڈاؤن ای کامرس کے شعبے کے لیے ایک شاندار خبر ثابت ہوا کیونکہ گھروں میں بند لوگ خریداری کے لیے آن لائن ہوئے۔

اس کا فائدہ یقینی طور پر کچھ کمپنیوں کو ہوا لیکن اس شعبے کے بہت بڑے نام ایمازون کے تازہ اعدادوشمار کچھ اور کہانی سنا رہے ہیں۔

دنیا کی امیر ترین شخصیت جیف بیزوس کی یہ کمپنی اپریل کے وسط میں اس وقت شہ سرخیوں میں رہی جب ایک اندازے کے مطابق اس کی ویب سائٹ پر صارفین نے اوسطاً فی سیکنڈ 11 ہزار ڈالر کی خریداری کی۔

یہ بھی پڑھیے

کورونا بحران: گوگل، فیس بک، ایپل اور ایمزون کا کاروبار کس طرح چمکا

لاک ڈاؤن کے دوران اپنائی گئی عادتیں کیا قائم رہیں گی؟

آن لائن خریداری: ’ریویوز پر کبھی بھروسہ نہ کیا جائے‘

سماجی فاصلوں کا دورانیہ بڑھا تو زندگی کیسے تبدیل ہو گی؟

یہ خبر سامنے آتی ہی ایمازون کے حصص کی قدر آسمان پر پہنچ گئی۔

لیکن دو ہفتے بعد ہی ایمازون کے اکاؤنٹنٹ کچھ اور ہی کہانی سنانے لگے۔ یہ اعلان کیا گیا کہ جب اپریل سے جون کے درمیان کارکردگی کا جائزہ پیش کیا جائے گا تو ممکن ہے کہ پانچ برس میں پہلی مرتبہ کمپنی خسارے میں رہے۔

جنوری سے مارچ کے دوران زیادہ آمدن کے باوجود ایمازون کے اخراجات بھی بڑھے ہیں جیسے کہ اس نے طلب پورا کرنے کے لیے ایک لاکھ 75 ہزار نئے ملازمین کو نوکری دی ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ کورونا سے بچاؤ کے لیے حفاظتی ملبوسات کی فراہمی اور کمپنی کے دفاتر اور گوداموں کو جراثیم سے پاک رکھنے کے لیے چھڑکاؤ جیسے اقدامات کی مد میں اس کے اخراجات چار ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔

یہ رقم 2019 کی پہلی سہ ماہی میں ایمازون کے منافعے سے زیادہ ہے جو کہ ڈھائی ارب ڈالر تھا۔

ایمازون ایک عرصے سے کمپنی میں ملازمین کی یونینز کو تسلیم کرنے سے گریزاں رہا ہے اور ادارے کے مطابق وہ اپنے ملازمین کے خدشات پر ان سے براہِ راست رابطے کو ترجیح دیتا ہے۔

تاہم کووڈ-19 سے جڑے اخراجات کے اعلان سے قبل ایمازون پر وبا کے دنوں میں اپنے ملازمین کے تحفظ کے معاملے میں تنقید بھی ہوتی رہی ہے۔

سٹریمنگ کی دنیا میں نیٹ فلکس آگے

لاک ڈاؤن میں ہوم انٹرٹینمنٹ کی صنعت ایک کامیاب کاروبار کے طور پر ابھری ہے اور گھر پر رہ کر تفریح کا یہ رجحان جو کورونا کی وبا سے پہلے بھی موجود تھا اب مزید کھل کر سامنے آیا ہے۔

سٹریمنگ گذشتہ چند برس کے دوران بہت مقبول ہوئی ہے۔

جہاں دنیا میں سنیما جانے والے افراد کی تعداد گذشتہ دو برس میں 18 فیصد بڑھی وہیں نیٹ فلکس جیسی سٹریمنگ سروس کے صارفین میں 47 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

یہ کوئی حیران کن بات نہیں تھی کہ ہوم انٹرٹینمنٹ کا شعبہ لاک ڈاؤن کے دوران پھلا پھولا کیونکہ بہت سے لوگوں کے پاس گھر پر رہنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔

رجحانات کا تجزیہ کرنے والے بلیک مورگن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’اٹلی اور سپین میں مثال کے طور پر پہلی مرتبہ نیٹ فلکس استعمال کرنے والوں کی تعداد میں بالترتیب 57 اور 34 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ان حالات میں لوگ تفریح اور حقیقت سے فرار کی نئی راہیں تلاش کر رہے تھے۔‘

نیٹ فلکس نے 22 اپریل کو اعلان کیا کہ جنوری سے مارچ کے دوران ایک کروڑ 60 لاکھ نئے صارفین نے سروس کا استعمال شروع کیا ہے۔

پیداواری خدشات

لیکن اس کہانی کا ایک اور پہلو بھی ہے جو کہ اتنا روشن نہیں۔

لاک ڈاؤن نے زیادہ تر نئی فلموں اور ڈراموں کی تیاری رکوا دی ہے۔

اس کے علاوہ وبا کی وجہ سے کئی ممالک میں کرنسی کی قدر کم ہو رہی ہے سو اس کا مطلب نیٹ فلکس کے عالمی صارفین کی جانب سے دی جانے والی رقم کی قدر میں بھی کمی ہے۔

انٹرٹینمنٹ کی دنیا کے ایک اور بڑے نام ڈزنی نے اس وبا کے دوران کہاں کچھ فائدہ اٹھایا وہیں انھیں نقصان بھی ہوا۔

کمپنی کو لاک ڈاؤن کے نفاذ کے بعد اپنے تھیم پارک بند کرنے پڑے اور کمپنی کے چیف ایگزیکٹو باب چاپک کے مطابق اس فیصلے سے کمپنی کو ایک ارب 40 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا۔

تاہم اسی دوران ڈزنی کی سٹریمنگ سروس کی مانگ میں بہت اضافہ دیکھا گیا ہے۔

نومبر میں شروع کی جانے والی ڈزنی پلس سٹریمنگ سروس کے اب دنیا میں پانچ کروڑ 50 لاکھ کے قریب صارفین ہیں۔ نیٹ فلکس کو اتنے صارفین تک پہنچنے میں سات برس کا عرصہ لگ گیا تھا۔

لاجسٹکس کے مسائل

آپ یقینی طور پر سوچ سکتے ہیں کہ اگر آن لائن خریداری کا رحجان بڑھا تو اس کا نتیجہ سامان کی ترسیل کرنے والی ان کمپنیوں کے لیے بھی بہتر کاروبار کی صورت میں نکلا ہو گا جو یہ سامان آپ کی دہلیز تک لاتی ہیں۔

لیکن حقیقت میں صورتحال خاصی پیچیدہ ہے۔

امریکہ کی کمپنیاں فیڈرل ایکسپریس یا فیڈ ایکس اور یو پی ایس دنیا میں سامان کی ترسیل کی سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ہیں۔ انھوں نے اب امریکی حکومت سے مدد مانگی ہے کیونکہ لاک ڈاؤن کے تحت عائد پابندیوں کی وجہ سے انھیں لاجسٹکس کے مسائل کا سامنا ہے۔

اس کے علاوہ جہاں عام افراد کی جانب سے آن لائن خریداری میں اضافہ ہوا ہے وہیں اس کاروبار کا زیادہ منافع بخش پہلو یعنی کاروباری اداروں کے مابین سامان کی ترسیل رک سی گئی ہے کیونکہ کاروبار بند ہیں یا محدود سطح پر کام کر رہے ہیں۔

صرف رواں برس میں ہی یو پی ایس کے منافع میں 26 فیصد کی کمی دیکھی گئی ہے۔

فوڈ ڈیلیوری

اسی طرح لاک ڈاؤن کھانے کی ترسیل کرنے والے اداروں کے لیے بھی ملے جلے اثرات لایا ہے۔

بہت سے ممالک میں ریستورانوں کو صرف ’ٹیک اوے‘ یا ڈیلیوری کے لیے ہی کھولنے کی اجازت ہے لیکن جہاں لاک ڈاؤن میں آن لائن سودا سلف کی خریداری کا رجحان دیکھا گیا ہے وہیں لوگ پکا پکایا کھانا منگوانے میں دلچسپی لیتے نہیں دکھائی دے رہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یورپ میں کھانے کی ترسیل کرنے والی کمپنیاں جیسے کہ جسٹ ایٹ یا اوبر ایٹس کو صارفین کی تعداد میں کمی کا سامنا ہے۔

سیکس کی طلب ہے لیکن سیکس ورکرز کے لیے بری خبر

کولمبیا سے لے کر ڈنمارک تک سیکس ٹوائز کی طلب میں کئی گنا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یہ ایک بڑا عالمی کاروبار ہے جس کا حجم 2019 میں تقریباً 27 ارب ڈالر تھا۔

کووڈ-19 کی وجہ سے جنسی کھلونوں کی صنعت کو تو فائدہ ہوا ہے لیکن سیکس ورکرز کے لیے نہ صرف یہ مالی طور پر گھاٹے کا سودا ثابت ہوا ہے بلکہ ان کی صحت کے بارے میں بھی خدشات بڑھے ہیں۔

بہت سے ممالک میں سیکس ورکرز کو قانونی حقوق حاصل نہیں اور وہ حکومت کے امدادی پروگرام سے فیضیاب ہونے کی حقدار نہیں جس کا نتیجہ غربت حتیٰ کہ وبا کے زمانے میں بےگھر ہونے کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے۔

تاہم جاپان ایک ایسا ملک ہے جس نے کورونا کی وبا کے دوران سیکس ورکرز کو مالی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔

لاک ڈاؤن میں فٹنس

لاک ڈاؤن میں نقل و حرکت اور سفر پر پابندیاں جہاں ورزش گاہوں کے لیے بری خبر بن کر سامنے آئیں وہیں اس صورتحال میں ورزش کے سامان کی فروخت بڑھی ہے۔

مثال کے طور پر آسٹریلیا میں لوگوں نے لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد یوگا میٹ سے لے کر ڈمبلز تک ورزش کے سامان کی خوب خریداری کی۔

اس کے علاوہ اس صورتحال میں ڈیجیٹل فٹنس سیکٹر بھی پھل پھول رہا ہے۔

2020 میں اب تک سمارٹ واچ کی فروخت میں گذشتہ برس کے مقابلے میں 22 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مشاورتی ادارے سٹریٹجی اینالیکٹس کے تجزیہ کار سٹیون والٹزر کا کہنا ہے کہ ’بہت سے صارفین سمارٹ گھڑیوں کو اپنی صحت اور ورزش کے عمل پر نظر رکھنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔‘

جہاں تک بات ورزش کروانے والے پرسنل ٹرینرز کی ہے تو انھوں نے بھی اپنا کام جاری رکھنے کے لیے آن لائن ویڈیو کا سہارا لیا ہے۔

لیکن لاک ڈاؤن کے منفی اثرات ایسی کمپنیوں پر پڑے ہیں جو بڑے پیمانے پر جم یا ورزش گاہیں چلاتی تھیں۔ مئی 2020 کے آغاز میں انڈیا کی مقبول کمپنی کلٹ ڈاٹ فٹ نے اعلان کیا کہ وہ اپنے 800 ملازمین کو نکال رہی ہے اور ملک بھر میں اپنی ورزش گاہیں بند بھی کر رہی ہے۔

کمپنی کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اپنے بقیہ ملازمین کی تنخواہ میں بھی 50 فیصد کمی کر رہی ہے۔

آن لائن رابطے

اس صورتحال میں جب کہ دنیا بھر میں کروڑوں افراد اپنے گھروں سے کام کرنے پر مجبور ہوئے ہیں، آن لائن کمیونیکیشن کی مقبولیت آسمان کو چھو رہی ہے۔

ان حالات کا بظاہر سب سے زیادہ فائدہ ویڈیو کانفرسنگ کی سہولت فراہم کرنے والے ادارے زوم کو ہوا ہے۔

تحقیق کرنے والے ادارے سینسر ٹاور کے مطابق صرف اپریل میں زوم کی ایپ 13 کروڑ سے زیادہ مرتبہ ڈاؤن لوڈ کی گئی جو کہ گذشتہ برس کے مقابلے میں 60 گنا زیادہ ہے۔

سینسر ٹاور کے مطابق ان ڈاؤن لوڈز میں سے 18 فیصد انڈیا میں ہوئے جبکہ 14 فیصد کے ساتھ امریکہ دوسرے نمبر پر رہا۔

زوم اب کاروباری اور صحافتی اداروں کے علاوہ عوام کے لیے بھی باہمی رابطے کا چنندہ ذریعہ بن چکا ہے۔

ٹیلی کمیوٹنگ

جہاں زیادہ تر افراد زوم کی ایپ کا مفت ورژن استعمال کر رہے ہیں جس میں کال کی مدت اور ایک کال میں شامل افراد کی تعداد کی قید ہوتی ہے، کمپنی ایسے صارفین سے پیسہ کماتی ہے جو اس کی پریمیئم سروس استعمال کرتے ہیں اور 2020 کے ابتدائی تین ماہ میں کمپنی نے ان سے 12 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کمائے جو گذشتہ برس اسی عرصے کے دوران کی آمدن سے دوگنے ہیں۔

ٹیلی کمیوٹنگ کے شعبے میں ایک اور کامیابی ’سلیک‘ تھی۔

اس انسٹنٹ میسیجنگ پلیٹ فارم کا، جسے کاروباری ادارے اندرونی بات چیت کے لیے استعمال کرتے ہیں، کہنا ہے کہ جنوری سے مارچ کے دوران اس کے صارفین میں دو گنا اضافہ ہوا ہے۔

پے پال کے حصص

ڈیجیٹل ادائیگیوں کے شعبے میں دنیا کی سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ایک پے پال بھی کووڈ-19 سے متاثر ہوئی ہے اور 2020 کے ابتدائی تین ماہ میں اس کا منافع کم ہو کر آٹھ کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہ گیا جو گذشتہ برس اسی عرصے کے مقابلے میں آٹھ گنا کم ہے۔

لیکن اسی دوران سات مئی کو بازارِ حصص میں پے پال کے حصص کی قیمت اپنی بلند ترین سطح پر بھی پہنچی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟

مبصرین کا کہنا ہے کہ جہاں لوگ مالی مشکلات کی وجہ سے کم خریداری کر رہے ہیں وہیں ایسے لوگ بھی ڈیجیٹل ادائیگیوں کا طریقہ اپنا رہے ہیں جو پہلے ایسا نہیں کر رہے تھے اور یہی پے پال میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے امید کی کرن ہے۔

رواں برس جنوری سے مارچ کے دوران پے پال کے پاس ایک کروڑ نئے اکاؤنٹ کھلے اور اس دوران کمپنی نے جس رقم کی ترسیل کی وہ 199 ارب ڈالر تھی جو 2019 کے مقابلے میں 30 ارب ڈالر زیادہ ہے۔

پے پال کے چیف ایگزیکٹو افسر ڈین شلمان نے چھ مئی کو سرمایہ کاروں کی ایک کانفرنس کے شرکا کو بتایا کہ ’ہمارے خیال میں دنیا بھر میں لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ڈیجیٹل ادائیگی کا طریقہ کس قدر آسان اور سادہ ہے۔‘

ان کے مطابق یہ صرف لاک ڈاؤن کے اثرات نہیں بلکہ اب دنیا بھر میں عام لوگ ویسے بھی اس طریقے کی جانب مائل ہو رہے ہیں۔