سعودی عرب کبھی ٹیکس سے پاک ہونے کے لیے مشہور تھا۔ لیکن اب اسی ملک نے اعلان کیا ہے کہ وہ ویلیو ایڈڈ ٹیکس کو پانچ فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کر رہا ہے اور اگلے ماہ سے ماہانہ رہائشی سبسڈی منسوخ کر رہا ہے۔

یہ اقدامات ایک ایسے وقت ہو رہے ہیں جب عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں گذشتہ ایک سال کے مقابلے میں نصف سے کم ہو کر رہ گئی ہیں جس سے حکومتی محصولات میں 22 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے اور بڑے پراجیکٹ رک گئے ہیں۔

سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو نے رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں ہی اپنے مجموعی منافع میں 25 فیصد کی کمی دکھائی تھی اور اس کی بنیادی وجہ خام تیل کی قیمتوں میں کمی بتائی گئی۔

مشرق وسطی کے امور کے تجزیہ کار مائیکل سٹیفنزکے مطابق 'ان اقدامات سے اخراجات کو لگام دینے اور تیل کی کم قیمتوں کو مستحکم کرنے کی کوششوں کی عکاسی ہوتی ہے۔ سعودی عرب کی معیشت نازک حالت میں ہے اور حالات کو معمول پر لانے میں کچھ وقت لگے گا۔'

سعودی عرب کی معیشت کا انحصار لاکھوں غیر ہنر مند ایشیائی تارکین وطن مزدوروں پر ہے۔ ان میں سے بیشتر بھیڑ اور خراب حفظان صحت والے حالات میں رہتے ہیں۔

شہزادہ ولی عہد اب بھی اپنے ملک میں بڑے پیمانے پر مقبول ہیں لیکن مغربی ممالک میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں ان کے مبینہ کردار پر شکوک و شبہات کی وجہ سے وہ اچھوت تصور کیے جاتے ہیں۔

سنہ 2018 میں ترکی کے شہر استنبول میں سعودی قونصل خانے کے اندر سرکاری ایجنٹوں کے ذریعے صحافی کے بہیمانہ قتل کے بعد سے سعودی عرب پر بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد کبھی پوری طرح بحال نہیں ہوا۔

اس کے علاوہ ہمسایہ ملک یمن میں جنگ نے پانچ سال سے زیادہ عرصے سے سعودی عرب کے خزانے کو بغیر کسی خاص فائدے کے نچوڑا ہے اور قطر کے ساتھ ہونے والے تنازعے نے چھ ممالک کی خلیج عرب تعاون کونسل (جی سی سی) کے ظاہری اتحاد کو بھی توڑا ہے۔

تو کیا سعودی عرب شدید پریشانی میں ہے؟

یہ بھی پڑھیے

سعودی کفایت شعاری مہم، ٹیکس میں اضافہ اور الاؤنس ختم

سعودی عرب کا اخراجات میں کمی اور ’تکلیف دہ فیصلے‘ کرنے کا اعلان

سعودی تیل کی کہانی، یہ دولت کب آئی اور کب تک رہے گی؟

'نا مساعد حالات سے نکلنے کی اندرونی صلاحیت'

پہلے کچھ پس منظر۔ کورونا وائرس کی وبا نے دنیا کی سب ہی معیشتوں کو بُری طرح متاثر کیا ہے اور سعودی عرب اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔

اس کے پاس پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کے نام سے تقریباً 320 ارب ڈالر مالیت کا سوورن ویلتھ فنڈ موجود ہے جس پر وہ اب انحصار کرے گا۔

اس کے پاس سرکاری ملکیت والی تیل کمپنی آرامکو بھی ہے جس کی قیمت گذشتہ سال 17 کھرب ڈالر لگائی گئی تھی جو کہ اُس وقت گوگل اور ایمیزون کی مشترکہ قیمت کے برابر تھی۔

حال ہی میں کمپنی کا صرف ڈیڑھ فیصد حصہ فروخت کر کے سعودی عرب نے شیئر لسٹنگ کی تاریخ میں سب سے بڑا فنڈ، 25 ارب ڈالر، اکٹھا کیا تھا۔

سنہ 2010-11 کے درمیان ریاض میں تعینات برطانوی سابق سفیر سر ولیم پیٹی کہتے ہیں کہ سعودی عرب میں بہت زیادہ بوجھ سہنے کی صلاحیت ہے۔ ان کے ذخائر بہت بڑے ہیں اور تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود وہ شاید اس بحران سے بچ نکنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔'

گذشتہ سال ستمبر میں سعودی تیل کی تنصیبات پر میزائل کے حملے اور پھر اس کے بعد رواں سال جنوری میں ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی امریکہ کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد ریاض کو ایران سے لاحق بیرونی خطرہ کم از کم فوری طور پر دب گیا ہے۔

امریکی پینٹاگون نے بھی رواں ماہ ہنگامی صورتحال میں دفاع لیے نصب کیے جانے والے پیٹریئٹ میزائل واپس منگوا لیے۔ نام نہاد دولت اسلامیہ اور القاعدہ سے وابستہ جہادیوں کی جانب سے دہشت گردی کا خطرہ اگرچہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے لیکن بہت حد تک کم ضرور ہو گیا ہے۔

اس کے باوجود سعودی عرب کو ابھی بھی کچھ سنگین اور بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔

معیشت

رواں ہفتے ہونے والے کٹوتی کے اعلانات بہت سارے ایسے سعودی شہریوں کے لیے بُری خبر تھے جو امید کر رہے تھے کہ ملکی معیشت کا انحصار تیل سے ہٹ جائے گا اور اس طرح سعودی عرب کا مستقبل بھی مستحکم ہو جائے گا۔

ملک کے وزیر خزانہ تک نے انھیں 'تکلیف دہ اقدامات' کے طور پر بیان کیا۔ حکومت کا مقصد 26 ارب ڈالر کی بچت کرنا ہے لیکن کووڈ 19 وائرس اور تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے سعودی عرب کے مرکزی بینک کو تقریبا اتنا ہی نقصان محض مارچ کے مہینے میں اٹھانا پڑا ہے۔

رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں بجٹ کا خسارہ نو ارب ڈالر بتایا گیا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں جب سعودی عرب نے کفایت شعاری کے بٹن کو دبایا ہو۔ سنہ 1998 کے مئی میں، میں نے ابوظہبی میں جی سی سی کے اجلاس میں شرکت کی تھی جب اس وقت کے ولی عہد شہزادہ عبداللہ نے اپنے حلیف خلیجی عرب حکمرانوں کو ایک سخت پیغام دیا تھا۔

انھوں نے کہا تھا: 'تیل کی قیمت نو ڈالر فی بیرل ہے۔ اچھا وقت جا چکا ہے اور اب وہ واپس نہیں آنے والا۔ یہ ہم سب کے لیے کمر کس لینے کا وقت ہے۔'

دراصل اس کے بعد تیل کی قیمت بڑھ کر 100 ڈالر فی بیرل سے بھی زیادہ ہوگئی لیکن اس کے لیے حکومت کو ملک بھر میں نئی نوکریوں پر پابندی عائد کرنی پڑی اور منصوبوں کی رفتار کم بھی کم کرنی پڑی۔

اس بار یہ مسئلہ زیادہ سنگین ہوسکتا ہے۔

کورونا کی وبا اور تیل کی قیمتوں میں کمی نے ملک بھر میں ترقیاتی پراجیکٹس کو تار تار کر دیا ہے جس سے یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ کیا ولی عہد کا انتہائی سرچڑھا ’وژن 2030 پروگرام‘ اب بھی حاصل کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔

اس پروگرام کا مقصد ملک کو تیل کی آمدنی اور غیر ملکی مزدوری، دونوں پر سے اپنے تاریخی انحصار سے باز رکھنا ہے اور اس کے تحت 500 ارب ڈالر کا صرفہ کر کے ایک مستقبل کا شہر بنانا ہے جسے ’نيوم‎‘ کہا جائے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ اب بھی آگے بڑھ رہا ہے لیکن زیادہ تر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس کے لیے پیسے کی کمی اور تاخیر اب ناگزیر ہوچکی ہے۔

مائیکل سٹیفنز کا کہنا ہے کہ کفایت شعاری کے اقدامات سے 'خاص طور پر نجی شعبے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔‘

'ریاست کے ہنگامی اقدامات ملازمت پیدا کرنے والوں کو زک پہنچا رہے ہیں جس کی وجہ سے طویل مدتی بنیاد پر اس کی بحالی اور بھی مشکل ہو جائے گی۔

عالمی برادری میں مقام

صحافی جمال خاشقجی کے قتل اور ابتدا میں اس کو چھپانے کی کوشش سے سعودی عرب کی عالمی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا، یہاں تک کہ لندن میں سعودی عرب کے سفیر نے کہا کہ 'یہ ہماری ساکھ پر داغ' ہے۔

اس کے بعد ہونے والے مقدمے کی سماعت اور سزاؤں کے نتیجے میں کچھ انتہائی مشتبہ افراد کو چھوڑ دیے جانے پر انسانی حقوق کے گروہوں اور اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ کی جانب سے ماورائے عدالت قتل پر مزید تنقید کی گئی۔

لیکن سعودی عرب دنیا کے لیے اتنی بڑی اور اتنی اہم معاشی طاقت بن گیا ہے کہ اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔

حال ہی میں اس نے نیو کاسل یونائیٹڈ فٹ بال کلب کے 80 فیصد حصص کے حصول کے لیے اعلی سطح پر سرمایہ کاری میں دلچسپی دکھائی ہے تاہم خاشقجی کی بیوہ خدیجہ چنگیز نے اس کی اخلاقی بنیادوں پر سخت مخالفت کی ہے۔

یمن جنگ، جس میں امریکہ اور برطانیہ کے فراہم کردہ سعودی جنگی طیاروں کے ذریعہ بمباری جاری ہے، کی وجہ سے تمام سارے فریقین کی جانب سے جنگی جرائم کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

لیکن ان فضائی حملوں کی وجہ سے شہریوں کی ہلاکتوں کو واشنگٹن اور دیگر جگہوں پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

اس جنگ میں بہت محدود کامیابیاں حاصل ہوئیں لیکن اس کی وجہ سے جزیرہ نما عرب کا غریب ترین ملک تباہ ہو گیا جس کے ساتھ ساتھ ریاض کے لیے امریکی سیاست دانوں کی حمایت بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔

سعودی ولی عہد اور اصل حکمران محمد بن سلمان (جو ایم بی ایس کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں) جن دو بڑے اتحادیوں پر اعتماد کرسکتے تھے وہ صدر ٹرمپ اور پوتن تھے۔

لیکن رواں سال تیل کے نلکوں کو کھول کر جان بوجھ کر بازار میں تیل کی فراہمی بڑھانے سے انھوں نے دونوں رہنماؤں کی مقامی معیشتوں کو نقصان پہنچایا ہے اور انھیں ناراض کیا ہے۔

ایران کے ساتھ تعلقات سرد جنگ کی حالت میں ہیں اور ہمسایہ ملک قطر کے ساتھ بھی تعلقات کوئی بہتر نہیں ہیں۔

اندرون ملک شہزادہ ولی عہد معاشرتی لبرلائزیشن کے پروگرام کو پر عملدرامد کے لیے غیر معمولی رفتار کے ساتھ آگے بڑھے ہیں اور انھوں نے ایسی ایسی آزادیاں دی ہیں جن کے بارے میں پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ان میں خواتین کے گاڑی چلانے پر پابندی کو ختم کرنا، سینما گھروں کا کھلنا، مخلوط جنسی محافلِ موسیقی کا انعقاد اور کار ریلیوں کی اجازت شامل ہیں۔

سعودی عرب آج بظاہر پہلے کے مقابلے میں بہت کم بے کیف جگہ ہے۔

لیکن پردے کے پیچھے سیاسی جبر میں تیزی آئی ہے اور جو کوئی بھی اس کی پالیسیوں پر سوال کرنے کی جرات کرتا ہے اس کو 'قومی سلامتی کے خطرہ' قرار دیے جانے کے بعد گرفتاری اور قید کا خطرہ ہوتا ہے۔

سر قلم کرنے کی سزا اب بھی جاری ہے جس پر انسانی حقوق کے گروہوں کی جانب سے سب سے زیادہ تنقید ہوتی ہے۔

اس سب کا مطلب یہ ہے کہ سعودی عرب بین الاقوامی معیشت میں ایک بہت بڑا کھلاڑی ہے اور وہ نومبر میں اگلے جی 20 سربراہی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود اسے اس کے حلیف سعودی عرب کی شراکت سے شرمندہ نظر آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے اثر و رسوخ کی کہانی

محمد بن سلمان ایک بار پھر اہم شہزادوں کے خلاف سرگرم کیوں

شاہی خاندان کے تین سینیئر اراکین سعودی حکومت کی حراست میں

اقتدار

34 سال کی عمر میں شہزادہ محمد بن سلمان ناقابل تسخیر دکھائی دیتے ہیں۔ انھیں اپنے 84 سالہ والد شاہ سلمان کی حمایت حاصل ہے اور انھوں نے منصوبہ بندی کے ساتھ تخت کے کسی بھی ممکنہ حریف کو ہٹا دیا ہے۔

ان کے کزن شہزادہ محمد بن نائف جو کبھی بہت بااختیار تھے وہ ان اہم لوگوں میں شامل ہیں جنھیں حراست میں لیا گیا اور ان سے اختیارات چھین لیے گئے۔ سنہ 2017 میں محل میں ہونے والے تخت پلٹ میں ان کی جگہ ایم ایس بی نے لی۔

معمر اور قدامت پسند سعودیوں میں بدگمانیاں ہیں کہ ایم بی ایس کی غیر روایتی پالیسیاں ملک کو ایک خطرناک راہ پر لے جا رہی ہیں لیکن 'خوف کی فضا' کی وجہ سے کوئی بھی اس پر بات کرکے گرفتاری کا خطرہ مول لینا نہیں چاہتا ہے۔

بیرون ملک ایم بی ایس کی ساکھ کے برعکس ملک میں ان کی مقبولیت خاص طور پر نوجوانوں میں برقرار ہے۔

سابق سفیر سر ولیم پیٹی کہتے ہیں کہ 'یہ وہی لوگ ہیں جنھیں ان کی لبرلائزیشن سے سب سے زیادہ فائدہ ہوگا۔ ایم بی ایس کا وہاں ایک بڑا حلقہ ہے۔'

ان کی مقبولیت کا ایک حصہ ایک نئی سعودی قوم پرستی پر مبنی ہے جو کہ بذات خود نوجوان شہزادے میں مجسم ہے۔

لیکن اس کا ایک بہت بڑا حصہ اس امید پر بھی مرکوز ہے کہ وہ انھیں معاشی طور پر ایک سنہری دور میں لے کر جا سکتے ہیں۔

لیکن اگر یہ خواب ٹوٹ جاتے ہیں اور آج سے پانچ سال بعد جن ملازمتوں کا وعدہ کیا گیا ہے وہ پورا نہیں ہوتا تو سعودی بادشاہت کی مطلق طاقت قدرے کم محفوظ ہوسکتی ہے۔