قدیم زمانے سے، معاشروں نے بیماری سے متاثرہ افراد کو ان لوگوں سے الگ کرنے کی کوشش کی ہے جو صحت مند تھے۔ قرنطینہ یا الگ تھلگ ہونے کا حوالہ عہد قدیم سے ملتا ہے۔

چونکہ کورونا وائرس دنیا بھر میں پھیل چکا ہے، ہم سے کہا گیا ہے کہ اگر ہم حال ہی میں دنیا کے کسی ایسے حصے سے واپس آئے ہیں جہاں وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے، یا اگر ہم جانے انجانے میں کسی متاثرہ شخص سے رابطے میں آیے ہیں تو قرنطینہ میں رہیں۔ جدید دور کے اس وبائی مرض کے دوران خود کو دوسروں سے الگ کرنے کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے ہمیں لفظ قرنطینہ کی تاریخ پر نظر ڈالنی ہوگی جس کے نشانات قرون وسطی سے یورپ تک جاتے ہیں۔

لفظ 'کوارینٹائن' یعنی قرنطینہ کی جڑیں اطالوی ہیں

14 ویں صدی میں یورپ کے ساحلی علاقوں کو بلیک ڈیتھ یعنی طاعون سے بچانے کے لیے متاثرہ بندرگاہوں سے اٹلی کے شہر وینس پہنچنے والے بحری جہاز کو لینڈنگ سے قبل 40 دن تک ساحل پر کھڑا رکھا جاتا تھا اس عمل کو 'کوارنٹینو' کہا جاتا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

جنگل میں قرنطینہ، سڑک پر سیلف آئسولیشن۔۔۔

عالمی وباؤں کی روک تھام کیسے کی جاتی ہے؟

1918 کی عالمی وبا پر قابو پانے کے لیے لوگوں نے کیا کیا نہیں کیا

مصنف اینٹ ملاسووچ کا کہنا تھا کہ سنہ 1374 میں، وینس میں ایک اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ جب تک خصوصی طبی کونسل شہر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتی تب تک تمام جہازوں اور مسافروں کو قریب کے جزیرے سان لازارو میں ُرکنا پڑے گا۔ اس کے نتیجے میں کچھ ممالک کے جہازوں اور مسافروں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا گیا۔ یہ یورپ میں قرنطینہ کے ضوابط کا آغاز تھا۔

ملاسووچ لکھتے ہیں کہ راگوسا، موجودہ ڈبرووینک، کروشیا میں بحر اڈریٹک کے پار شہر کی کونسل نے سنہ 1377 میں وبائی امراض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ایک قانون کی منظوری دی، جس میں متاثرہ علاقوں سے آنے والے تمام بحری جہازوں اور تجارتی قافلوں کو 30 دن کی تنہائی تسلیم کرنے کی بات کہی گئی تھی۔ یعنی طاعون سے متاثرہ علاقوں سے آنے والے افراد کو قرون وسطی کی دیواروں والے شہر میں داخل ہونے سے پہلے جراثیم کشی کے مقصد کے لیے قریبی جزیرے پر ایک مہینہ گزارنا ہو گا۔

مصنف عنا بکیجا کونسو نے لکھا ہے کہ ڈوبرووینک زمین یا آبی راستے کے ذریعے متاثرہ علاقوں سے آنے والے لوگوں، جانوروں اور سامان کو صحت مند آبادی سے الگ رکھنے والا بحیرہ روم کی پہلا بندرگاہ تھا، جب کہ وینس نے تمام جہازوں کو روک لیا، جس سے شہر میں تجارت اور زندگی رک گئی۔

ریگوسن جمہوریہ نے 30 دن کے قرنطینہ پرعمل نہ کرنے والوں کے لیے بہت سخت سزائیں اور جرمانے عائد کردیے۔ ابتدا میں قرنطینہ 30 دن کا تھا، لیکن آخر کار وینیس کی طرح اسے چالیس دن کر دیا گیا۔

کسی کو نہیں معلوم کہ تنہائی کی مدت کو 30 سے 40 دن میں کیوں تبدیل کیا گیا تھا کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ بیماری کو پھیلنے سے روکنے کے لیے 30 دن کو ناکافی سمجھا گیا تھا، کیونکہ انکیوبیشن کی صحیح مدت معلوم نہیں تھی۔ دوسرے لوگوں کا خیال ہے کہ 40 دن تک جاری رکھے جانے والے قرنطینہ کا تعلق عیسائی مذہب کی پابندیوں سے تھا۔

باکیجا کونسو لکھتے ہیں جذام کے مریضوں کو دوسروں سے علیحدہ رکھنے کے تجربے کے بعد ڈوبروینک کی انتظامیہ کو قرنطینہ کا خیال ذہن میں آیا۔ اس کی پوری تاریخ میں جذام اور طاعون جیسی بیماریوں کی بھر مار رہی ہے۔

تنہائی میں رکھے جانے یا قرنطینہ کا تصور سنہ 1377 سے پہلے سے موجود تھا۔ ڈوبرینِک کے قانون میں، جو سنہ 1272 میں لکھا گیا تھا، جذام کے مریضوں کو تنہا رکھے جانے کا ذکر ہے۔ یہ قانون کروشیا کے چند قدیم ترین قانونی تحریری دستاویز میں سے ایک ہے۔

کیجا کونسو نے مزید کہا کہ بائبل کے مطابق، لازارس کو جو جذام میں مبتلا تھا کوڑھیوں کا سرپرست سنت قرار دیا گیا تھا اور ان کے لیے پناہ گاہوں کا نام اس کے نام پر رکھا گیا تھا اور اسے لازاریٹوس کہا گیا۔ راگوسا نے جزیرہ ملجیٹ پر یورپ کا پہلا عارضی طاعون ہسپتال قائم کرنے کے بعد پورے یورپ میں قرنطینہ سہولیات 'لازاریٹوز' کے نام سے مشہور ہوگئیں۔

بکیجا کونسو نے کہا کہ راگسا کی 1377 تنہائی کی قانون سازی کے بعد قرنطینہ کا اطلاق پہلی مرتبہ ڈوبروینک کے جنوب مشرق میں واقع ایک چھوٹے سے شہر اور اس کے آس پاس کے جزیروں پر کیا گیا تھا۔ ابتدائی طور پر، قرنطین رہائش ناقص جھونپڑیوں، خیموں اور بعض اوقات کھلی ہوا میں تھی۔

جھونپڑیوں کا فائدہ یہ تھا کہ وہ جراثیم کشی کے اقدام کے طور پر آسانی سے نذر آتش ہوسکتی تھیں۔ سنہ 1397 میں ملٹ جزیرے پر بنیڈکٹن مونیسٹری میں قرنطینہ مرکز بنایا گیا۔

اس کے بعد للکرم جزیرے پر متعدی امراض میں مبتلا لوگوں کے لیے ایک جدید اور بڑا شفا خانہ بنایا گیا۔

بارہ فروری 1590 میں ڈوبروینک سینیٹ نے حکم دیا کہ آخری شفا خانہ اولڈ ٹاؤن کے مشرقی دروازے پلاؤ میں تعمیر کیا جانا چاہیے۔ لزاریٹو کمپلیکس کی تعمیر کا کام 1647 میں ختم ہوا اور 1724 میں سینیٹ نے اسے شہر کے قلعے کا نام دیا۔

اس لازریٹو نے ڈووبرینک جمہوریہ کے خاتمے کے بعد بھی اپنا کام جاری رکھا۔

یہ نہیں معلوم کہ کب اسے طبی مرکز کے طور پر ختم کیا گیا، تاہم ڈبروینک کے آثارِ قدیمہ کے ریکارڈ کے مطابق ایسا سنہ 1872 کے آس پاس کیا گیا۔

یہ متاثر کن پتھروں کی عمارت نہ صرف ایک منفرد فن تعمیراتی کمپلیکس کی نمائندگی کرتی ہے بلکہ ایک ایسا ادارہ بھی ہے جو پرانے ڈوبرووینک کے بھرپور طبی ورثے کی بہترین تصویر پیش کرتی ہے۔

یہ آج کل سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے جہاں ثقافی پروگرام، لوگ گیتوں اور رقص کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ یہ عمارت صدیوں قبل متعدی بیماریوں سے نمٹنے کے یے شہر کی دور اندیشی کی نشانی تھی۔

ایوان یوکووچ جو کہ ایک گائڈ ہیں اور اسی شہر میں ان کی پیدائش اور پرورش ہوئی ان کا کہنا ہے کہ وہ لازاریوز میں کلبِنگ کے دوران انھوں نے وہاں اکثر اپنی شامیں گذاری ہیں، گرمیوں کی شام کھلی ہوا میں وہاں کا ماحول ایک خوشگوار ہوا کے جھونکے کی مانند ہوتا ہے۔

لازاریٹوز جسے مقامی طور پر 'لازریٹ' یا 'لازاریٹی' کہا جاتا ہے پرانے شہر کی پتھر کی دیواروں سے تقریباً 300 میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ انھوں نے کہا، 'شہر کی دیواروں کے اندر کسی بھی طرح کی بیماری آسانی سے پھیل سکتی ہے، لہٰذا لازاریٹی کی سہولیات بہت وسیع و عریض علاقوں میں دس کثیر المنزلہ عمارتوں میں منقسم ہیں اس لیے وہ ہوا دار ہے۔

اس وقت شہر کورونا وائرس کے سبب لاک ڈاؤن میں ہے اور سیاحت جو یہاں کی معیشت کی لائف لائن ہے پوری طرح بند ہے 19 مارچ سے تمام پانی کے جہاز اور ہوائی جہاز بند ہیں۔ ایسے میں کروشیا نے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تمام ٹرانزٹ پر بھی پابندی لگا دی ہے اور تمام سرحدیں بھی بند کر دی گئی ہیں۔

کروشیا میں ایک شہر سے دورے شہر جانے پر بھی پابندی ہے۔

ڈوبروینک کے سابق قرنطینہ قانون کے برعکس آج کے زمانے میں لوگ اپنے گھروں میں ہی قرنطینہ میں جا سکتے ہیں لیکن ڈوبروینک کے لوگوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ مشترکہ خاندان کے طور پر رہتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ پچھلے 600 سالوں میں کافی کچھ بدل چکا ہے لیکن ڈوبروینک نے پچھلی صدیوں میں اس حوالے سے جو کچھ بھی کیا ہے وہ آج کے لوگوں کے لیے یاد دہانی ہے تنہائی اور ضابطوں کی پابندی سب سے اہم ہے۔