عالمی ادارۂ صحت نے چین کی کورونا وائرس سے نمٹنے کی حکمت عملی کو دنیا بھر میں سب سے زیادہ جارحانہ اور حوصلہ مند قرار دیا تھا۔

لیکن ووہان میں جو اس سال جنوری میں کورونا وائرس کا گڑھ بن گیا تھا وہاں کے تمام کے تمام شہریوں کا صرف دس دن میں ٹیسٹ کرنے کے چینی حکام کے ہدف پر شک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

مقامی حکام کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ شہر کے ایک کروڑ گیارہ لاکھ رجسٹرڈ شہریوں کے ٹیسٹ کرنے کے انتظامات کریں اور اس کی ابتدا اہم یا ہنگامی نوعیت کی نوکریاں کرنے والے جن میں طبی عملہ شامل ہیں سے کی جائے۔

حکام نے عندیہ دیا ہے کہ یہ ٹیسٹ مرحلہ وار کرائے جائیں گے اور لوگوں سے نمونے اکھٹے کر کے ان کا تجزیہ کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

کورونا وائرس: چین کو کتنے ماسک کی ضرورت ہے؟

کورونا وائرس: چین میں مزید سفری پابندیاں عائد

کورونا: چین میں 1000 سے زائد ہلاک، افسران برطرف

ان ٹیسٹ سے معلوم ہو سکے گا کہ کس کس میں کورونا وائرس کے جراثیم متحرک ہیں۔

لیکن اس انتہائی بڑے ہدف کا مطلب ہے کہ ووہان میں ہر روز دس لاکھ شہریوں کے ٹیسٹ کیے جائیں گے جو موجودہ چالیس سے ساٹھ ہزار لوگوں کے ٹیسٹ کیے جانے سے کہیں زیادہ ہے۔

امریکہ میں کونسل آف فارن افیئر میں گلوبل ہیلتھ کے شعبے سے منسلک ژانہوگ ہانگ کا کہنا ہے 'ہمیں معجزے کی توقع کرنی چاہیے۔'

اتنے لوگوں کا ٹیسٹ کرنے کا کیوں فیصلہ کیا گیا؟

یہ اتنا مشکل منصوبہ اس مقام پر شروع کیا جائے گا جہاں ووہان میں کورونا وائرس پھیلنا شروع ہوا تھا۔ اس کی وجہ بنی اس ہفتے اسی مقام سے مزید چھ نئے مریضوں کی تشخیص ہونا۔

ان نئے مریضوں کو ایسے مریض قرار دیا جا رہا ہے جن کے ٹیسٹ تو مثبت آئے ہیں لیکن جن میں اس وائرس کی کوئی علامت مثلاً کھانسی یا بخار ظاہر نہیں ہوئی ہے۔

ان مریضوں کی تشخیص کے بعد اس رہائشی علاقے میں بسنے والے تمام کے تمام پانچ ہزار شہریوں کو ٹیسٹ کرانے کی ہدایت دی گئی۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ووہان کے ایک کروڑ گیارہ لاکھ شہریوں میں سے بہت بڑی تعداد قرنطینہ لاگو ہونے سے پہلے ہی شہر چھوڑ کر چلے گئے تھے یا ان کے حالیہ ہفتوں میں ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

اس وجہ سے حکام کے لیے یہ بہت زیادہ مشکل کام نہیں ہو گا جب تمام شہریوں کے دس دن میں ٹیسٹ کیے جانے کی مدت شروع ہو گی۔

ووہان یونیورسٹی کے بائیولوجی کے شعبے کے ڈپٹی ڈائریکٹر یانگ زانگکوئی نے چین کے اخبار گلوبل ٹائمز کو بتایا کہ تیس سے چالیس لاکھ ووہان کے شہریوں کا پہلے ہی ٹیسٹ کیا جا چکا ہے۔

انھوں نے کہا کہ باقی ساٹھ سے اسی لاکھ شہریوں کے ٹیسٹ دس دن میں کیے جانے کی صلاحیت ووہان میں موجود ہے۔

اگر حکام دس دن کی جو مدت مقرر کی گئی ہے اس پر قائم رہے تو بھی ساٹھ سے اسی لاکھ شہریوں کے ٹیسٹ کرنے کا مطلب یہ ہو گا کہ ہر روز چھ سے آٹھ لاکھ شہریوں کے ٹیسٹ کرنے پڑیں گے۔

یہ ایک چیلنج ہے۔

گذشتہ ماہ اپریل کی بائیس تاریخ کو ہوبائی کی صوبائی حکومت نے اطلاع دی تھی کہ وہ 89 ہزار شہریوں کے روزانہ ٹیسٹ کر رہی ہے۔

ہوبائی صوبے کا دارالخلافہ ووہان شہر ہے اور اسی اطلاع کے مطابق وہاں 63 ہزار لوگوں کو روزانہ ٹیسٹ کیے جا رہے تھے۔ حکام کے مطابق دس مئی کو ووہان شہر میں چالیس ہزار سے ذرا کم تعداد میں لوگ کے ایک دن میں ٹیسٹ کیے گئے۔

کسی طرح اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے ٹیسٹ مکمل کیے جا سکتے ہیں؟

خوش فہم افراد کا کہنا ہے کہ اگر چین کے حکام کسی کام کو سر انجام دینے کی ٹھان لیں تو یہ کام مکمل کرنا ممکن ہوتا ہے۔

چین کے ذرائع ابلاغ نے بدھ تیرہ مئی کو ووہان کے حکام کے حوالے سے اطلاع دی تھی کہ یہ ٹیسٹ نجی کمپنیوں سے کروائے جائیں گے۔ مقامی حکام اور ضلعی ہسپتالوں کا عملہ شہر بھر سے لوگوں کے نمونے اکھٹے کرے گا۔

حکام کا کہنا ہے نجی کمپنیوں کے پاس ایک لاکھ لوگوں کے روزانہ ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت ہے اور انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اتنے وسیع پیمانے پر اور اتنی کم مدت میں ٹیسٹ کرنا ممکن نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ اسی لیے یہ مرحلہ وار انداز میں کرائے جا رہے ہیں جس کا مطلب ہے شہر کے کچھ اضلاع میں یہ سلسلہ مئی کی بارہ تاریخ سے شروع ہو جائے گا اور کچھ میں مئی کی سترہ تاریخ سے اور اس طرح ہر ڈسٹرکٹ میں یہ مہم شروع کیے جانے کے دس دن میں کام مکمل کر لی جائے گی۔

چین کی وزارت صنعت نے گذشتہ مہینے دعوی کیا تھا کہ چین کے پاس پچاس لاکھ ٹیسٹنگ کٹس بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔

چین میں وائرس کے ٹیسٹ کے مزید مراکز اور لیبارٹریز تعمیر کی جا رہی ہیں۔

پروفیسر یانگ سمیت بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ تمام شہریوں کے ٹیسٹ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے خاص طور پر اگر وہ ووہان کے کسی ایسے علاقے میں رہتے ہیں جہاں سے کوئی مریض سامنے نہیں آیا ہو۔

انھوں نے گلوبل ٹائمز کو بتایا کہ 'آپ کو کبھی یہ معلوم نہیں ہو گا کہ لوگ وائرس کی لپیٹ میں ہیں اگر ان کا ٹیسٹ منفی آ گیا۔' انھوں نے مزید کہا کہ صحیح صورت حال کا اندازہ لگانے کے لیے وبائی تحقیقات کرائی جانی چاہیں۔

وائرس کی دوسری لہر آنے کا خدشہ

اب جب کہ بہت سے ملکوں نے لاک ڈاؤن میں نرمی کرنا شروع کر دی ہے تو وائرس کی دوسری لہر آنے کا خدشہ حکام کے لیے درد سر بن گیا ہے۔

ووہان میں گیارہ ہفتوں کو سخت لاک ڈاؤن آٹھ اپریل کو اٹھایا گیا تھا وہاں اب نئے مریض سامنے آنے کے بعد وبا کی دوسری لہر آنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

چین کے دوسرے علاقوں میں بھی احتیاطی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

چین کے شمال مشرقی شہر جیلن میں باہر سے آنے والوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے اور صرف ان لوگوں کو شہر سے باہر جانے کی اجازت دی جا رہی ہے کہ جن کے ٹیسٹ گذشتہ 48 گھنٹوں میں منفی آئے ہیں۔

شہر میں بس اور ٹرین کی سروس کو معطل کر دیا ہے اور جم اور کیفے بند کر دیے گئے ہیں۔

چین کے بیماریوں سے نمٹنے کے ادارے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے وبائی امراض کے ماہر وہو ژنیو نے کہا ہے کہ حکومت اس بارے میں پوری طرح چوکس ہے کہ کووڈ-19 کے مریض ٹیسٹ میں منفی آنے کے بعد بھی طویل عرصے تک اس کا شکار رہے۔

چین کے سرکاری ٹی وی سے ایک انٹرویو میں ژنیو نے کہا کہ ووہان میں درحقیقت ایک سے زیادہ ایسے مریض ہیں اور کچھ مریضوں میں مرض 30 سے 50 دنوں تک رہ سکتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ یہ وائرس کمزور مدافعت رکھنے والے مریضوں میں اپنی علامات ظاہر کرنے میں زیادہ وقت لے سکتا ہے اور ان میں یہ علامات آتی اور جاتی رہتی ہیں۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ووہان کے جن علاقوں سے کوئی مریض سامنے نہیں آیا وہاں یہ ٹسیٹ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

یہ ٹیسٹ سستے نہیں ہوتے؟

ہروفیسر ہانگ کا کہنا ہے کہ تمام شہری آبادی کا ٹیسٹ کرنا بہت مہنگا کام ہے۔ 'لیکن یہ بات ذہن میں رکھیں کہ چین میں جس طرح لاک ڈاؤن پر عمل کروایا گیا جو لوگوں کو محدود کرنے کا جابرانہ طرز عمل ہے وہ بھی بہت مہنگا کام تھا۔'

انھوں نے مزید کہا کہ مقصد یہی ہے کہ ہر قیمت پر زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کیا جائے۔ چین کے کورونا وائرس کے خلاف بلند عزائم دوسرے ملکوں کے بالکل برعکس ہیں۔

امریکہ میں تین لاکھ لوگوں کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں اور صدر ٹرمپ پر تنقید کی جا رہی ہے کہ وہ سماجی فاصلے برقرار رکھنے کے اقدامات کو آہستہ آہستہ نرم کر رہے ہیں اور یہ سب کچھ اس کے باوجود ہو رہا ہے کہ عالمی ادارۂ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق کورونا وائرس سے سب سے زیادہ اموات امریکہ میں ہوئی ہیں۔

پروفیسر ہنگ کہتے ہیں کہ یہ تقابل چیز کی طرف اشارہ کرتا ہے چین کی حکمت عملی کتنی عمدہ رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس کے باوجود موجودہ حکمت عملی سے مستقبل میں وبا کا مسئلہ حل نہیں ہوگا کیونکہ ٹیسٹ اسی کا مثبت آئے گا جس میں وائرس متحرک ہو گا۔

انھوں نے خبردار کیا کہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ مستقبل میں الگ الگ جگہوں پر وبا پھوٹ پڑے اور اس مسئلے کا حل وسیع ٹیسٹ سے بھی ممکن نہیں ہے۔

یسٹنگ وانگ نے چین کے شہر بیچنگ سے ایڈیشنل رپورٹنگ کی ہے۔