کورونا وائرس کی وبا سے بہت سی عالمی خبریں شہ سرخیوں کا حصہ نہیں بن پا رہیں اور شاید اس کی وجہ سمجھ بھی آتی ہے۔

کیونکہ یہ وبا دنیا بھر کو متاثر کر رہی ہے، تو ہم اس بحران سے کیسے نمٹیں، اپنے معاشروں کو اس وبا کے پیش نظر کیسے تبدیل اور منظم کریں اور اپنے روز مرہ کے کام کیسے جاری رکھیں، ایسے بہت سے سوالات جنم لے رہے ہیں۔

اس وبا کے آغاز کے بعد سے بہت سے عالمی مسائل کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے اور شاید اب ان کو حل کرنے کے لیے بہت دیر ہو چکی ہے۔

کچھ مسائل بہت گھمبیر ہو چکے ہیں جبکہ چند حکومتیں اپنی دیرینہ خواہشات کی تکمیل کے لیے کورونا وائرس کی وبا کو توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

ایسے ہی پانچ عالمی امور یہاں بیان کیے جا رہے ہیں جن پر آنے والے دنوں میں نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی بڑھیے

مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کا معاملہ کیا ہے

بریگزٹ مکمل، برطانیہ یورپی یونین سے علیحدہ ہو گیا

’اپنے دفاع کے لیے ہر قسم کا ہتھیار بنائیں گے‘

جوہری ہتھیاروں کے حصول کی ایک نئی دوڑ

’سٹرٹیجک آرمز ریڈکشن ٹریٹی‘ یا ’نیا آغاز‘ یعنی جوہری ہتھیاروں میں کمی لانے کا معاہدہ، جو کہ دور تک مار کرنے والے جوہری میزائلوں پر پابندی لگاتا ہے، اگلے برس فروری میں اس معاہدے کی معیاد ختم ہو رہی ہے۔

اگر اس معاہدے کو دوبارہ قائم کرنا ہے تو اس کے لیے وقت کم ہوتا جا رہا ہے، یہ سرد جنگ کے بعد اسلحہ کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے آخری معاہدوں میں سے ایک ہے۔

اس معاہدے کے ختم ہونے کے بعد اسلحے کے حصول میں شفافیت کی کمی اور پابندیاں نہ ہونے کے باعث عالمی سطح پر جوہری ہتھیاروں کے حصول کی ایک نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ ہے۔

درحقیقت، آواز کی رفتار سے تیز میزائل جیسے خفیہ ہتھیاروں کی تیاری اس دوڑ میں خطرے کو مزید بڑھا دیتی ہے۔

روس دوبارہ اس معاہدے پر آمادگی ظاہر کرتا دکھائی دیتا ہے جو کہ ایک سادہ کاغذی کارروائی ہو گی۔ تاہم امریکی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ اس معاہدے میں چین کو شامل کرنے تک التوا چاہتی نظر آتی ہے۔

چین کا اس معاہدے میں شامل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے لہٰذا اب اس معاہدے کا نیا اور جامع مسودہ لکھنے کے لیے بہت وقت گزر چکا ہے۔

لہٰذا اگر امریکا آخری وقت میں اپنا ارادہ تبدیل نہیں کرتا تو لگتا ہے کہ یہ نیو سٹارٹ معاہدہ تاریخ بن کر رہ جائے گا۔

ایران امریکا میں بڑھتی کشیدگی

ایران کی جوہری سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوشش کرنے والے جے سی پی او اے معاہدے سے امریکی انخلا کے مسئلے کی وجہ سے ایک اچھا معاہدہ خراب ہونے والا ہے۔

اس وقت اقوام متحدہ کی جانب سے وسیع پیمانے پر مختلف ممالک کی جانب سے ایران کو جدید ہتھیار بیچنے کی ممانعت کا سامنا ہے۔

مگر اقوام متحدہ کی جوہری معاہدے کی حمایت میں منظور کی جانے والی قرارداد کے تحت ایران کو جدید ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی کی معیاد اس برس 18 اکتوبر کو ختم ہو رہی ہے۔

ایران کی صدر حسن روحانی نے پہلے ہی خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اس پابندی کی تجدید کرنے میں کامیاب ہوا تو اس کے ’سنگین‘ نتائج ہوں گے۔

تاہم اس کے بہت کم امکانات ہیں کہ روس ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی کے اس معاہدے کی تجدید کے لیے آمادہ ہو جس کے صورت میں امریکی صدر ٹرمپ چاہیں گے کہ یورپی ممالک اس جوہری معاہدے کے لیے کوئی طریقہ کار وضع کریں تاکہ ایران پر عائد معاشی پابندیاں برقرار رکھی جا سکیں جو کہ رواں برس ختم ہونے والے معاہدے کے ساتھ ہٹ جائیں گی۔

صدر ٹرمپ کی یہ حمکت عملی انوکھی نہیں ہے۔ امریکہ ایران کے جوہری معاہدے سے پہلی ہی دستبردار ہو چکا ہے اور تب سے ایران پر مسلسل دباؤ بڑھاتا رہا ہے۔ ایران نے بھی اس معاہدے کی بہت سے شرائط سے روگردانی کی ہے۔

جبکہ اب امریکا یہ کہہ رہا ہے کہ ایران کو چاہیے کہ وہ اس معاہدے کی پاسداری کرے جس سے امریکہ خود دستبرادر ہو چکا ہے ورنہ نئی پابندیوں کا سامنا کرے۔

امریکا کے سابق صدر باراک اوباما کے دور حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق یہ ٹرمپ انتظامیہ کی ایک کوشش ہے کہ ’وہ فائدہ اٹھا سکے۔‘

امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات مزید بگڑ جائیں گے اور امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کے درمیان کشیدگی بھی مزید بڑھ جائے گی۔

اور ایسا نہیں ہے کہ اسلحے کی فروخت پر پابندی سے ایران کے علاقائی طرز عمل میں نمایاں طور پر کوئی تبدیلی آئی ہے اور نہ ہی یہ کہ اس کی پراکسی کے استعمال کی صلاحیت پر کوئی فرق پڑا ہے۔

مغربی کنارے پر اسرائیل کی آبادکاری کی بولی

اسرائیل کی حزب اختلاف کی ایک اہم سیاسی جماعت کے ساتھ اقتدار میں شراکت داری کے معاہدے کے بعد اسرائیل میں طویل عرصے سے چلنے والی سلسلہ وار انتخابی مہم کا خاتمہ ہو چکا ہے جس کے بعد وزیر اعظم بنیامین نتن یاھو اپنا عہدہ برقرار رکھنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

ان کے خلاف زیر التو قانون مقدمات کے باوجود، اور شاید ان کی وجہ سے نتن یاہو ایک متنازع قومی ایجنڈا پیش کر رہے ہیں جس کے تحت اسرائیل اپنے زیر قبضہ مغربی کنارے پر آباد کاری کرنا چاہتا ہے تاکہ اس حصہ کو مستقل طور پر اسرائیل کا حصہ بنایا جا سکے۔

بظاہر یہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان ہمیشہ کے لیے ’دو ریاستی حل‘ کی بحث کو ختم کر دے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے میں دفعات کے باوجود، یہ اقدام ان افراد کے لیے جو اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ایک پائیدار امن دیکھنا چاہتے ہیں کی امید کو ختم کر رہا ہے۔

خود فلسطینی پہلے ہی اس مسئلے پر احتجاج کر رہے ہیں اور یورپ سمیت دیگر حکومتیں احتیاط کی تاکید کر رہی ہیں، اور کچھ معاملات میں اگر یہ پالیسی آگے بڑھی تو ممکنہ پابندیوں کے بارے میں بات کر رہی ہیں۔

ہمیشہ کی طرح امریکا کی اس مسئلے پر پوزیشن بہت اہم ہو گی۔ کیا وہ اسرائیل کو یہ سب کرنے کے لیے ہری جھنڈی دکھا دے گا یا اس کو روکنے کی حکمت عملی اپنائے گا؟

یہ یقینی طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ وزیر اعظم نیتن یاھو کو اسرائیل کے مقبوضہ شام کی گولان کی پہاڑیوں کے ساتھ الحاق کرنے اور امریکی سفارت خانے کو یروشلم منتقل کرنے کے صدر ٹرمپ کے فیصلوں کی وجہ سے حوصلہ افزائی حاصل ہوئی ہے۔

تاہم امریکا کا اس اقدام پر حالیہ موقف مبہم ہے اور یہ تجاویز دی جا رہی ہے کہ اگر اسرائیل فلسطینی ریاست پر مذاکرات کرنے پر آمادہ ہے تو امریکا مغربی کنارے پر اسرائیلی آبادکاری کی مشروط حمایت کر سکتا ہے۔

چند ماہرین کا خیال ہےکہ کہ انتخابی مہم میں قوم پرستوں کی حمایت کو متحرک کرنے کے لیے مغربی کنارے پر آبادی کاری کے معاملے کو استعمال کرنے کے بعد نیتن یاہو کو اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کا کوئی راستہ مل سکتا ہے۔

شاید اس میں امریکی ان کی مدد کر دیں کیونکہ سخت اسرائیلی قوم پرست کسی بھی صورت کی فلسطینی ریاست کو برداشت کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔

لیکن جو بھی ہو آگے کا سفر دشوار گزار اور مشکل ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے

ٹرمپ کا امن منصوبہ: ’صدی کی عظیم ڈیل بہت بڑا جوا ہے‘

موسمیاتی تبدیلی: ’زندگیاں بدلنے والی‘ رپورٹ متوقع

بین الاقوامی طاقتیں ایران کے ساتھ معاہدے کی حامی

بریگزٹ: ابھی ختم نہیں ہوا

بریگزٹ کی اصطلاح کو ہم میں سے کئی ایک بھول چکے ہیں، لیکن وقت کا دھارا چل رہا ہے۔ برطانیہ کا یورپی یونین سے نکلنے کا عبوری عرصے کا وقت رواں برس 31 دسمبر کو ختم ہو جائے گا۔

ان کے مستقبل کے تعلقات کی شرائط پر مذاکرات عارضی طور پر شروع ہو چکے ہیں لیکن اس بات کا کوئی عندیہ نہیں ہے کہ وزیر اعظم بورس جانسن کی حکومت اس عبوری مرحلے میں کسی تاخیر یا توسیع پر غور کر رہی ہے یا نہیں۔

تاہم کورونا کی وبا نے ایسے اقتصادی بحران کو جنم دے کر جس سے نکلنے میں برسوں لگ سکتے ہیں، نے بریگزٹ کے پورے تناظر کو ہی تبدیل کر دیا ہے۔ برطانیہ میں پرانی بحث کو دوبارہ چھیڑنے کے آثار دکھائی نہیں دیتے ہیں، بہرحال وقت کم ہے۔

اگرچہ کووڈ 19 کا بحران سامنے آنے کے بعد یورپی یونین کے ممالک کا ابتدائی ردعمل کچھ اچھا نہیں تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ انھوں نے اس میں بہتری پیدا کی۔ یہ وبا ابھی ختم نہیں ہو رہی ہے اور برطانیہ خود بھی اس بحران سے نمٹنے کے لیے کوئی خاطر خواہ مثال قائم نہیں کر سکا۔

برطانیہ کا یورپی یونین سے اخراج دونوں فریقوں پر اثر انداز ہوگا اور ممکن ہے کہ یہ ان کے مستقبل کے تعلقات کی نوعیت کے بارے میں زیادہ متفقہ نقطہ نظر پیدا کرے۔ مگر معاشی کساد بازاری کرنے والے اور ایک کم مہمان نواز دنیا میں برطانیہ کے لیے ایسے اقتصادی اور سفارتی فیصلے کرنا کافی مشکل ہو گا کہ امریکیوں کی کتنا ساتھ دیا جائے یا چین کے سامنے کب کھڑا ہوا جائے۔

موسمیاتی تبدیلی: واقعی ایک بڑا مسئلہ

کورونا کی وبا کے خلاف عالمی ردعمل دراصل عالمی برادری کی اس سے بڑے اور زیادہ پیچدہ عالمی چیلنج موسمیاتی تبدیلی سے نبرد آزما ہونے کی اہلیت کو جانچنے کا ایک پیمانہ ہے۔

اگر قوموں کے مشترکہ تعاون کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو کووڈ-19 کے تجربات کی روشنی میں اب تک ملی جلی خبریں سامنے آئی ہیں اور وہ کشیدگیاں جو اب پیدا ہوئی ہیں وہ وبا کے بعد والی دنیا میں ممکنہ طور پر قائم رہیں گی اور معاملات کو مزید پیچیدہ کر دیں گی۔

موسمیاتی تبدیلی کے معامالات پر بات کرنے کے ’عمل‘ کا دوبارہ آغاز کرنا تو ایک بات ہے مگر اقوام متحدہ کا اس حوالے سے اہم اجلاس ’کوپ 26 کلائمیٹ کانفرنس‘ جو اس برس نومبر میں گلاسگو میں ہونا تھا اس کو اگلے برس تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔

لیکن سوال جو اب بھی موجود ہے کہ عالمی سوچ کیسے تبدیل ہو گی؟ کیا وبا کے بعد بھی دنیا میں موسمیاتی تبدیلی کے مقاصد اور اس کی جلد ضرورت کی سوچ ہو گی؟

اور یہ کہ نیا ورلڈ آرڈر کب تک اس اہم اور بے حد پیچیدہ مسئلے میں کوئی پیش رفت کرے گا؟