جب ایم ٹی ایپیکس نامی مال بردار بحری جہاز نائجیریا کے بونی آئی لینڈ کے قریب لنگرانداز ہوا تو سورج نکل چکا تھا۔ اس وقت سدیپ چوہدری جہاز کے ڈیک سے قریب ہی موجود درجنوں دوسرے جہازوں کو دیکھ سکتے تھے۔ ساحل پر تیل کے سٹوریج ٹینک دور سے نظر آ رہے تھے۔

سدیپ نے ناشتہ کرنے کے بعد دو ٹیلی فون کالز کیں۔ ایک اپنے والدین اور دوسری اپنی منگیتر بھاگیاشری کو۔

اس نے انھیں بتایا کہ سب ٹھیک ٹھاک ہے اور وہ آج دن میں کسی وقت دوبارہ فون کرے گا۔ اس کے بعد وہ سونے چلا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

قزاقی اور دنیا کے خطرناک ترین سمندر

پُراسرار ’آسیب زدہ‘ بحری جہاز کا معمہ حل ہوگیا

جب پرتگالیوں نے ہندوستان کی تاریخ پلٹ کر رکھ دی

وہ 19 اپریل 2019 کا دن تھا۔ یہ نسبتاً چھوٹا اور پرانا آئل ٹینکر اپنے 15 رکنی عملے کے ساتھ پورٹ آف لاگوس سے دو روز کا سفر کر کے نائجر ڈیلٹا پہنچا تھا جہاں سنہ 50 کی دہائی میں ولندیزیوں اور برطانویوں نے تیل دریافت کیا تھا۔

حالانکہ سدیپ کو یہ معلوم تھا کہ اِس علاقے میں نیم دلدلی پانیوں سے گھرے تمر کے جنگلات کی بھول بھلیاں خطرناک بحری قزاقوں کی آماجگاہ ہیں لیکن پھر بھی وہ اس روز خود کو محفوظ ہی سمجھ رہا تھا۔

نائجیریا کی نیوی کے اہلکار اپنی تیزرفتار کشتیوں میں علاقے میں گشت کر رہے تھے۔ ایم ٹی ایپیکس جزیرے کے پاس ساحل سے سات ناٹیل میل کے فاصلے پر لنگر انداز تھا اور پورٹ میں داخل ہونے کی اجازت کا منتظر تھا۔

گلف آف گنی کے گرم پانی والی ساحلی پٹی پر مغربی افریقہ کے سات ممالک واقع ہیں اور یہ قزاقوں کی وجہ سے دنیا میں سب سے خطرناک سمجھی جاتی ہے۔

اِس سے پہلے صومالیہ کو خطرناک ترین سمجھا جاتا تھا لیکن اب یہ علاقہ بحری قزاقی کا گڑھ بن چکا ہے۔ گذشتہ برس دنیا بھر میں بحری جہازوں پر کام کرنے والے جتنے بھی اہلکاروں کو تاوان کے لیے اغوا کیا گیا تھا ان میں سے 90 فیصد اسی علاقے میں اغوا ہوئے تھے۔

ایسے واقعات پر نظر رکھنے والے ادارے انٹرنیشنل میری ٹائم بیورو کے مطابق سنہ 2019 کے صرف آخری تین مہینوں میں چھ بحری جہازوں کے 64 اہلکاروں کو اغوا کیا گیا۔ جبکہ کئی واقعات کی تو رپورٹ ہی درج نہیں کروائی گئی۔

اِس علاقے میں بڑی مقدار میں تیل موجود ہے جس سے یہاں کے لوگوں کی زندگیاں بدل سکتی تھیں لیکن زیادہ تر لوگوں کے لیے یہ تیل ایک عذاب ثابت ہوا ہے۔ جگہ جگہ تیل رسنے کی وجہ سے پانی اور زمین زہریلی ہو گئی ہے۔ اِس کے علاوہ تیل کے حصول کی کوششوں اور لوٹ مار نے پرتشدد تنازعے پیدا کیے ہیں جو کئی دہائیوں سے جاری ہیں۔

تیل کی پائپ لائنوں کے پاس واقع دیہات میں شرح زندگی صرف 45 سال ہے جبکہ ان پائپ لائنوں سے نائجیریا کی حکومت اور تیل کی بین الاقوامی کمپنیاں اربوں ڈالر کماتی ہیں۔

نائجر ڈیلٹا ایونجرز جیسے افسانوی ناموں والے مسلح گروہ پائپ لائنوں کو دھماکوں سے اڑا دیتے ہیں جس سے تیل کی پیداوار مفلوج ہو جاتی ہے۔ یہ مسلح گروہ دولت اور وسائل کی تقسیمِ نو کا مطالبہ کرتے ہیں۔

دوسری طرف ایسے گروہ ہیں جو بڑی مقدار میں خام تیل چوری کر کے جنگلوں میں پوشیدہ دیسی ساختہ رفائنریوں میں اسے قابلِ استعمال بنا کر مارکیٹ میں بیچتے ہیں۔ علاقے میں تشدد کی سطح کم یا زیادہ ہوتی رہتی ہے لیکن خطرہ ہر وقت موجود رہتا ہے۔

کئی گھنٹے بعد چیخ و پکار اور زوردار آوازوں سے سدیپ کی آنکھ کھلی۔ کنٹرول روم میں آس پاس نظر رکھنے والے اہلکار نے ایک کشتی میں سوار نو مسلح افراد کو تیزی سے جہاز کی جانب آتے دیکھا تھا۔ اس اہلکار کی چیخ و پکار والی وارننگ ساری جہاز میں سنی گئی اور عملے کے ارکان میں افراتفری پھیل گئی۔ وہ بحری قزاقوں کو تو نہیں روک سکتے تھے لیکن کم از کم چھپنے کی کوشش تو کر سکتے تھے اور وہی انھوں نے کیا۔

28 سالہ سدیپ جہاز کے تھرڈ آفیسر تھے اور انڈیا سے تعلق رکھنے والے پانچ اہلکاروں کے انچارج تھے۔ انھیں معلوم تھا کہ جہاز میں تیل کا ذخیرہ نہیں ہے اِس لیے قزاقوں کا نشانہ عملے کے ارکان ہوں گے جنھیں بھاری تاوان کے لیے اغوا کیا جائے گا۔

عام طور پر امریکی اور یورپی اہلکار قزاقوں کے لیے بہت قیمتی ہوتے ہیں کیونکہ ان کی کمپنیاں ان کے بدلے بھاری رقوم ادا کرتی ہیں لیکن زیادہ تر اہلکاروں کا تعلق ترقی پذیر ممالک سے ہوتا ہے۔ اس روز ایم ٹی ایپیکس میں صرف انڈین اہلکار ہی غیر افریقی تھے۔

ان کے پاس پانچ منٹ کا وقت تھا۔ سدیپ نے اپنے لوگوں کو انجن روم میں اکٹھا کیا اور پھر سیڑھیاں چڑھ کر ڈیک پر گیا تاکہ ایمرجسنی آلارم بجا سکیں تاکہ اردگرد لوگ اس کو سن سکیں۔ جب وہ ڈیک سے واپس انجن روم میں آ رہا تھا تو اسے محسوس ہوا کہ اس نے صرف انڈرویئر پہن رکھا ہے۔ اسی وقت حملہ آوروں کی پہلی جھلک نظر آئی جنھوں نے ٹی شرٹس پہن رکھی تھیں اور کالے کپڑے سے اپنے منہ ڈھانپ رکھے تھے۔

انھوں نے گنیں اٹھا رکھی تھیں اور اعتماد کے ساتھ جہاز پر سیڑھی لگانے کی کوشش کر رہے تھے۔

سدیپ اور اس کے ساتھیوں نے جہاز پر ایک چھوٹے سے سٹور روم میں چھپنے کا فیصلہ کیا۔ تھوڑی دیر میں بحری قزاق جہاز پر گھوم رہے تھے۔ سٹور میں چھپے یہ سیلر خوف کے مارے کانپ رہے تھے لیکن خاموش رہے۔ گلف آف گنی سے گذرنے والے کئی جہاز اس طرح کی صورتحال سے بچنے کے لیے بلٹ پروف سیف روم بناتے ہیں لیکن ایم ٹی ایپیکس پر کوئی ایسی سہولت موجود نہ تھی۔

تھوڑی دیر بعد سٹور روم کا دروازہ ایک دھماکے سے کھلا، قزاقوں نے فرش پر گولی چلائی جس کا ایک ٹکرا سندیپ کی پنڈلی میں لگا، لیکن ان کی ہڈی بچ گئی۔ قزاقوں نے ان سیلروں کو ڈیک پر اکٹھا کیا۔ قزاقوں کو معلوم تھا کہ ان کے پاس وقت کم ہے کیونکہ جہاز کے کپتان نے ایمرجنسی الارم بجا رکھا ہے اور شاید کسی اور جہاز نے فائرنگ کی آواز بھی سنی ہو۔

قزاقوں نے انڈین سیلرز کو حکم دیا کہ وہ سیڑھیوں کے ذریعے جہاز کے قریب کھڑی سپیڈ بوٹ میں سوار ہوں۔ قزاقوں نے کشتی کی رفتار کو بڑھانے کے لیے اسے دو انجن لگا رکھے تھے۔ بائیس سالہ چراغ جو پہلی مرتبہ بحری سفر پر آیا تھا، سب سے پہلے قزاقوں کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے سیڑھی کے ذریعے نیچے اترا، پھر ایک ایک کر کے جہاز کے کپتان سمیت تمام عملہ قزاقوں کی کشتی میں پہنچ گیا۔

چھ مغوی، جن میں پانچ انڈین اور ایک نائجرین تھا، وہ اس کشتی میں بیٹھے اور وہ وہاں سے تیزی سے چلے گئے۔ ایک انڈین سیلر قزاقوں سے بچنے میں کامیاب رہا اور وہ ڈیک پر موجود تھا۔

'ڈیر سر، سندیپ کا جہاز ہائی جیک ہو گیا ہے'

پردیپ چوہدری کو آدھی رات کو شپنگ ایجنٹ کی جانب سے ایک پیغام موصول ہوا۔ 'ڈیر سر، سندیپ کا جہاز ہائی جیک ہو گیا ہے ۔ جہاز کا یونانی مالک اس معاملے کو دیکھ رہا ہے۔ گھبرائیں نہیں۔ سدیپ کو کچھ نہیں ہو گا۔ براہ مہربانی صبر کریں۔‘

پردیپ چودھری اور ان کی بیوی سنیتی کو جب یہ پیغام ملا تو وہ بہت پریشان ہوئے۔ ان کی اپنے بیٹے سے کچھ گھنٹے پہلے ہی بات ہوئی تھی۔

پردیپ نے یہ پیغام اپنے خاندان کے لوگوں اور سدیپ کے قریبی دوستوں کو فارورڈ کرنا شروع کیا اور پوچھا کہ کیا یہ سچ ہو سکتا ہے اور کسی نے اس بارے میں کچھ سنا ہو۔

سدیپ کو جو بھی جانتا ہے، وہ کہے گا کہ وہ بچپن میں ایک شرارتی لڑکا تھا۔ وہ ہر وقت گھر کے باہر کسی ایڈونچر کی تلاش میں رہتا تھا۔ سدیپ کی ماں ہمیشہ اس کے بارے میں پریشان رہتی تھی۔ وہ اڑیسہ کے چھوٹے سے شہر بھوبنیشور میں رہتے ہیں۔

بھوبنیشور ایک ایسی جگہ ہے جس کے بارے میں دہلی، ممبئی یا بنگلور میں رہنے والے کم ہی سوچتے ھیں لیکن پردیپ چودھری کی فوٹو کاپی کی چھوٹی سی دکان ہے اور وہ اس سے ایک پرسکون زندگی گذار رہے تھے۔

بھوبنیشور کے مندروں کی مورتیاں شہر کی مصروف گلیوں کو گھور رہی ہیں لیکن سدیپ کسی دیوتا پر یقین نہیں رکھتا۔ وہ سمجھتے تھے کہ زندگی وہی ہو گی جو وہ اپنی منگیتر بھاگیاشری کے ساتھ مل کر بنائیں گے۔ سدیپ کی بھاگیاشری سے ملاقات سکول میں ہوئی تھی۔ بھاگیاشری اب ایک سافٹ ویئر انجنیئر بن چکی ہیں۔

یہ ایک ایسے پریمنگ انڈین جوڑا ہے جو ایسی روایتی زندگی کے خواب نہیں دیکھ رہا جیسی ان کے والدین نے گزاری ہے۔

ان جیسے کروڑوں انڈین ہیں جو ڈگریاں اور سرٹیفکیٹ اٹھائے گھوم رہے ہیں۔ ملک کی معیشت رینگ رہی ہے لیکن وہ زیادہ تیزی سے گریجویٹ مارکیٹ میں لا رہا ہے جن کے لیے مناسب نوکریاں نہیں ہیں۔

سندیپ کے لیے سیلر کی نوکری اپنے ماحول سے نکلنے کا موقع تھی۔ وہ اچھی آمدن اور دنیا دیکھنے کے مواقعوں کی وجہ سے جہاز رانی کے شعبے کی طرف راغب ہوئے تھے۔ اور وہ اس میں اکیلے نہیں تھے۔

فلپائنی اور انڈونیشین باشندوں کے بعد سب سے زیادہ انڈین سیلر ہیں۔ وہ بحری جہازوں پر باورچی، انجنیئرز، اور آفیسر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ 2019 میں دو لاکھ چونتیس ہزار انڈین غیر ملکی جہازوں پر کام کر رہے تھے۔

جہاز رانی کے لیے صحیح کوالیفیکشن حاصل کرنا ایک پیچدہ معاملہ ہے۔ سندیپ نے پانچ برس تک پڑھائی کی اور اس پر ان کے خاندان کے ہزاروں ڈالر خرچ ہوئے۔ 27 برس کی عمر میں اس نے تھرڈآفیسر کے طور پر کوالیفائی کر لیا اور اپنی کامیابی کی خوشی میں اپنے دائیں ہاتھ پر ایک ٹیٹو بنوایا۔

مغویوں کے ساتھ کیسا سلوک روا رکھا گیا

اغوا کی پہلی صبح درجنوں مسلح لوگوں نے جنگل سے نکل کر ہوائی فائرنگ کرنا شروع کر دی اور یہ سلسلہ قریباً آدھ گھنٹہ جاری رہا۔ پانچ انڈین مغوی کار کے سائز کے لکڑی کے پلیٹ فارم پر بیٹھے فائرنگ دیکھ رہے تھے۔

یہ ان کی جیل تھی جہاں پہنچانے کے لیے ان کے اغوا کاروں نے کئی گھنٹوں کی مسافت کے بعد یہاں پہنچایا تھا۔ ابتدائی دنوں میں مغویوں کے لیے اغوا کاروں کا ایک ہی پیغام تھا' اگر ہمیں تاوان نہ ملا تو ہم تمھیں ہلاک کر دیں گے'۔

سدیپ ابھی بھی انڈرویئر پہنے ہوئے تھے اور ساری رات مچھروں کے کاٹنے سے خارش کرتے رہے۔ اغوا کے دوران وہ زخمی ہوا تھا لیکن اس کے اغوا کاروں نے اسے مرہم پٹی مہیا نہیں کی اور اس نے زخم پر مٹی لگا کر بند کر دیا۔ پانچ لوگوں کے پاس ایک گندہ سا گدا تھا جس پر وہ باری باری سوتے تھے اور پھر چند منٹوں بعد جھٹکے سے اٹھ جاتے اور یاد کرتے کہ وہ کہاں ہیں۔

اغوا کاروں نے جنگل سے ایک انسانی ڈھانچہ نکال کر مغویوں کو دکھایا اور کہا کہ اگر ان کے باس نے تاوان دینے سے انکار کیا تو ان کا حشر بھی ایسا ہی ہو گا۔ پھر ایک روز انھوں نے سدیپ اور اس کے ساتھیوں کو اینٹوں کا ایک بلاک دکھایا اور کہا اگر انھیں تاوان نہ ملا تو وہ یہ اینٹیں ان کی ٹانگوں سے باندھ کر انھیں سمندر میں پھینک دیں گے۔

گارڈز ہمیشہ ان کے قریب رہتے تھے۔ یہ گارڈز کبھی مچھلیاں پکڑتے، کبھی چرس پیتے یا مقامی شراب، لیکن وہ مغویوں پر مکمل نظر رکھتے۔ وہ کبھی گن ان پر تان کر کہتے کہ اگر تمھارے باس نے تاوان نہ دیا تو وہ انھیں گولی مار دیں گے۔

سدیپ نے کئی مرتبہ ان سے تعلق بنانے کی کوشش کی۔

ان کے خاندانوں کے بارے، ان کے بچوں کے بارے میں بات چیت کرنے کی کوشش کی لیکن وہ یا تو خاموش رہتے یا پھر کہتے ہم سے بات مت کرو۔ ایسا لگتا تھا کہ انھیں اپنے لیڈر جسے وہ ’دی کنگ' کہتے تھے، کی طرف سے ہدایت تھی کہ وہ مغویوں سے بات نہ کریں۔

سدیپ، چراغ، اویناش، انکت، اویناش اور موگھوکے پاس اس کےعلاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ اپنی توانائیوں کو محفوظ کریں اور اچھے وقت کا انتظار کریں۔

اغوا کار دن میں ایک بار نوڈلز کا ایک پیالہ انھیں دیتے جسے پانچوں شخص کھاتے۔ وہ باری باری ایک ایک چمچ لیتے۔ اسی طرح شام کو بھی انھیں نوڈلز کا ایک پیالہ ملتا۔

ان کے پاس پینے کے لیے گندے پانی کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ اس پانی میں اکثر پٹرول ملا ہوتا۔ بعض اوقات وہ پیاس کے ہاتھوں مجبور ہو کر کھارا پانی پینے پر مجبور ہو جاتے۔ ان کے ساتھ اغوا ہونے والے نائجیرین شخص کو اغوا کاروں نے ایک علیحدہ جھونپڑی میں رکھا ہوا تھا اور اس کے ساتھ ان کا رویہ بہتر تھا۔

اسی وجہ سے انڈین مغویوں نے نائجیرین مغوی سے نفرت کرنا شروع کر دی۔

وقت گذارنے کے لیے وہ انڈیا میں اپنی زندگیوں کے بارے میں باتیں کرتے اور کبھی کبھی تو مستقبل کی منصوبہ بندی بھی کرتے۔ وہ اپنے ارد گرد قدرتی نظاروں کو دیکھتے اور یہ بھی غور سے دیکھتے کہ سانپ کس طرح درختوں پر چڑھ رہے ہیں۔ اگر اغوا کاروں کو کوئی بندر نظر آ جاتا تو وہ اس پر فائرنگ کرتے اور پھر اسے لکڑیوں پر روسٹ کر کے کھاتے لیکن انھوں نے کبھی مغویوں کے ساتھ شیئر نہیں کیا۔

مغوی ہر گذرے دنوں کا حساب رکھنے کے لیے لکڑی پر لکیریں لگاتے۔

اس دوران سدیپ کو ملیریا ہو گیا۔ بعض اوقات ان پر جنون سوار ہوتا اور وہ سوچتے کہ اگر اغوا کار انھیں مارنے آئیں گے تو وہ کم از کم تین کو تو ہلاک کر دیں گے۔ کئی دفعہ وہ ہنستے اور اپنے مورال کو بلند رکھنے کی کوشش کرتے رہتے۔ اس دوران سدیپ سوچتا کہ وہ اس صورتحال سے اپنے ساتھیوں کو کیسے نکال سکتا ہے اور اگر اس کی اپنے خاندان کے کسی فرد یا انڈین ہائی کمیشن سے بات ہو گئی وہ کیا بات کریں گے۔

وہ اپنے دماغ اب بھی شادی کےمنصوبے بنا رہا تھا۔

اغوا کاروں نے ابتدا میں کئی ملین ڈالر تاوان مانگا

یہ اغوا کاروں کو بھی معلوم تھا کہ اتنا تاوان انھیں نہیں ملے گا۔ اغوا کی وارداتوں میں تاوان کے لیے لمبی بات چیت ہوتی ہے لیکن نائجیریا کی ان شکارگاہوں میں ان کے پاس وقت کی کوئی کمی نہیں تھی۔

اغوا کے پندرہ روز بعد قزاق سدیپ کو ایک اور کشتی میں بٹھا کر جنگل میں لے گئے اور ایک سیٹلائٹ فون پر اس کی بات یونانی کمپنی کے مالک کیپٹن کرسٹاوس ٹراؤس سے کروائی۔ کیپٹن کرسٹاؤس کی کمپنی پیٹروگریس کے پاس کئی آئل ٹینکر ہیں اور وہ مغربی افریقہ میں ہی چلتے ہیں۔

سدیپ کیپٹن کرسٹاؤس کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں جانتے تھے لیکن اس نے سن رکھا تھا کہ وہ ایک بدمزاج جارحانہ طبعیت کا مالک شخص ہے۔ سدیپ نے کرسٹاؤس سے بات کرتے ہوئے کہا' سر ہم بری حالت میں ہیں، آپ جلدی کریں، ہم یہاں شاید مر جائیں۔'

کرسٹاؤس اس واقعے پر ناراض تھا لیکن وہ تاوان کی ڈیمانڈ کے بارے میں کوئی لچک نہیں دکھا رہا تھا۔ اسی وقت اغوا کار بھی شور مچا رہے تھے' ہمیں صرف پیسہ چاہیے، اگر آپ کے لوگ پیسہ نہیں دیں گے تو ہمیں تمھیں ہلاک کر دیں گے۔'

یہ قزاق جہاز راں کمپنیوں کے مالکوں سے تاوان کی ادائیگی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

اکثر انھیں تاوان جلدی مل جاتا ہے کیونکہ ان کپمنیوں نے انشورنس کروا رکھی ہوتی ہے اور وہ تاوان ادا کر کے اپنے ملازمین کو چھڑوا لیتے ہیں۔ لیکن اب کی بار ان کا پالا ایک ہٹ دھرم شخص سے پڑا تھا جو ان کے مطالبات ماننے کے لیے تیار نہ تھا۔ اب اغوا کاروں نے انڈیا میں مغویوں کے خاندانوں سے رابطہ شروع کیا۔

انڈیا میں سدیپ کے والدین جاگ جاگ کر راتیں گذار رہے تھے۔ ان کے ذہنوں میں طرح طرح کے وسوسے آتے اور پھر صبح ہو جاتی۔ انھیں خوف تھا کہ ان کا بیٹا اب کبھی لوٹ کر نہیں آئے گا۔

سدیپ کے خاندان کے پاس کوئی ایسا ذریعہ ہی نہیں تھا کہ وہ اغواکاروں کو تاوان ادا کر کے اپنے لڑکوں کو بازیاب کروا لیتے۔ انڈین حکومت تاوان ادا نہیں کرتی لیکن انھیں امید تھی کہ انڈین حکومت دوسرے ذرائع استعمال کرتے ہوئے مغویوں کی رہائی میں مدد دے سکتی ہے۔

سدیپ کی منگیتر بھاگیاشری اور ان کی ایک کزن سواپنا نے تمام معاملات کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ انھوں نے خاندان کے لوگوں کا ایک وٹس ایپ گروپ بنایا اور اپنے لڑکوں کو چھڑوانے کے لیے کوشش کرنے لگیں۔

بھاگیاشری پر جلد ہی واضح ہو گیا کہ قزاقوں کو مغویوں کو مار کر کچھ نہیں ملے گا لیکن وہ پھر بھی نروس تھی۔ ان کے پاس ایک ہی آپشن تھا کہ وہ جہازکے مالک پر دباؤ ڈال کر اسے تاوان دینے پرمجبور کریں۔ اس غرض سے وہ ہر وقت کام کرتیں۔ ٹویٹ کرتیں، لوگوں سے مدد کے لیے ایمیلز کرتیں اور جہاں کہیں سے کوئی مدد کی آس ہوتی ان سے رابطہ کرتیں۔

تین ہفتوں کی خاموشی کے بعد ان خاندان کے لیے اچھی خبر آ گئی۔

مغوی اویناش نے اپنی بہن کو فون کیا اور بتایا کہ وہ ابھی زندہ ہیں لیکن انھیں مدد کی اشد ضرورت ہے۔ دوسرے مغویوں کے خاندانوں کو ان کے بیٹوں کی جانب سے فون کال موصول ہونا شروع ہو گئیں لیکن نہ سدیپ کے والدین اور نہ بھاگیاشری کو کوئی فون کال موصول ہوئی۔

اس دوران ایک عجیب تعلق بننا شروع ہوا۔

مغویوں میں سے ایک کے رشتہ دار کیپٹن نصیب جو جہاز رانی کے شعبے میں کام کرتے رہے ہیں، ان کا اغوا کاروں سے رابطہ استوار ہو گیا اور وہ متواتر ان سے بات چیت کرنے لگے۔ کیپٹن نصیب نے اغوا کاروں سے بات چیت کی ایک آڈیو ریکارڈنگ وٹس ایپ گروپ میں ڈالی۔ اس وہ اغوا کار کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ جہاز کا مالک کو اپنے ملازمین کی جان کی کوئی پرواہ نہیں ہے اور وہ ٹال مٹول کررہا ہے۔

یہ آڈیو مغویوں کے خاندانوں کے لیے پریشان کن تھی۔

اغوا کاروں نے سترہ مئی 2019 کو سدیپ کی کیپٹن نصیب سے بات کروائی اور اس نے بتایاکہ ان کی مصیبت چند دنوں میں ختم ہونے والی ہے۔ کیپٹن نصیب نے سدیپ کو بتایا کہ بطور افسر اس کا فرض بنتا ہے کہ وہ دوسرے مغویوں کا مورال بحال رکھیں۔ سدیپ کو ہندی میں یہ کہتے ہوئے سنا گیا 'ہاں ہاں میں کوشش کر رہا ہوں۔ میرے خاندان کو بتانا کہ تمھہاری میرے سے بات ہوئی ہے۔‘

اغوا کار ہر ہفتے مغویوں کو ایک سے دوسری جگہ منتقل کر رہے تھے۔ جب کمپنی کےمالک کیپٹن کرسٹاؤس سے مذاکرات ناکام ہو گئے تو اغوا کارروں کے 'کنگ' نے خود مغویوں کے پاس آنا شروع کر دیا۔ وہ کچھ زیادہ بولتا نہیں تھا اور دوسرے اغوا کار اسے عزت کے ساتھ پیش آتے۔

اس کی جسامت ہی شاید اس کے گروپ میں اس کی پوزیشن کا تعین کرتی تھی۔ ساڑھے چھ فٹ قد کا مالک کنگ نے دوسرے اغوا کاروں سے بڑی گن اٹھا رکھی ہوتی تھی اور کمر کے ساتھ لپٹی چمڑے کی بیلٹ گولیوں سے بھری ہوتی تھی۔

وہ ہر چار پانچ روز بعد آتا تھا۔ وہ کہتا کہ کیپٹن کرسٹاؤس ابھی تک بات نہیں مان رہا اور اس کے بھیانک نتائج ہوں گے۔

ہفتوں تک قید میں رہنے کی وجہ سے سیلر بہت کمزور ہو گئے اور ان کی ہڈیاں نمایاں ہو گئیں، آنکھیں پیلی اور بعض کو پیشاب میں خون آنا شروع ہو گیا۔ جب بھی اغوا کاروں کا سردار آتا تو مغویوں کو لگتا کہ اب ان کا بھی وہی حشر ہونے والا ہے جیسا اس شخص کا ہوا تھا جس کا ڈھانچہ پہلے روز ہی انھیں دکھایا گیا تھا۔

اب تک کی صورتحال یہ تھی کہ ایپیکس کمپنی کے جہاز کے عملے کو اغوا کر لیا گیا اور ان کی رہائی کے لیے تاوان مانگا جا رہا تھا لیکن اب حالات نے نیا رخ اختیار کیا۔۔ نائجیریا کی نیوی نے کھلے عام ٹینکر کمپنی پر الزام عائد کیا کہ وہ نائجر ڈیلٹا سے تیل کی سمگلنگ میں ملوث ہے اور اغوا کا یہ واقعہ بھی مجرم گروہوں کے باہمی جھگڑے کی وجہ سے پیش آیا ہے۔ نائجیریا کی نیوی نے کچھ گرفتاریاں کیں اور نائجیریا میں ایپیکس کمپنی کے مینجر نے بظاہر تیل کی اس غیر قانونی تجارت میں ملوث ہونے کا اعتراف بھی کیا۔

البتہ ایپیکس کے مالک کیپٹن کرسٹاؤس اس کی پرزور تردید کرتے ہیں۔

بی بی سی نے کچھ ایمیلز دیکھی ہیں جس میں وہ انڈیا کی حکومت کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نائجیریا کی نیوی انڈیا کے کہنے پر ان کے جہاز اور نائجیریا میں کمپنی کے عملے کو حراست میں لیا ہے تاکہ مجھے دہشتگردوں کو ایک بڑی رقم تاوان کے طور پر ادا کرنے پرمجبور کیا جا سکے۔

انڈین حکام اس موقف کو نہیں مانتے۔ نائجیریا کی نیوی نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

یہ مغویوں کے لیے بہت نازک صورتحال تھی لیکن جب کیپٹن کرسٹاؤس کو نائجیریا میں اپنا کاروبار بند ہونے کا ڈر لگا تو اس نے اغوا کاروں سے معاملات طے کرنا شروع کیے۔ سدیپ کے خاندان کو 13 جون کو حکومتی ذرائع سے معلوم ہوا کہ مذاکرات مکمل ہو گئے ہیں اور تاوان کی رقم کی ادائیگی کے انتظامات ہو رہے ہیں۔ اسی دوران ان سیلروں کو بھی بتایا گیا کہ ان کی مصیبت اب ختم ہونے والی ہے۔

29 جون 2019 جو جب اغوا کار نے نوڈلز کا پیالہ دیا تو اسی دوران ایک نے سدیپ کو خاموشی سے بتا دیا کہ اگر آج ادائیگی ہو گئی تو یہ جنگل میں ان کا آخری روز ہو گا۔ اس روز انھیں اغوا ہوئے ستر روز بیت چکے تھے۔

دو گھنٹوں بعد مغویوں کو بتایا گیا کہ جو شخص رقم لا رہا ہے وہ چل پڑا ہے۔

گھانا کا ایک بوڑھا اور کمزور سا شخص ایک کشتی میں سوار ہو کر آیا۔ اس نے امریکی ڈالروں سے بھرا ہوا پلاسٹک بیگ پکڑ رکھا تھا۔ اس کے آنے کے چند منٹوں بعد ہی یہ واضح ہو گیا کہ کچھ گڑبڑ ہے۔ قزاقوں کے ایک گروہ نے اس بوڑھے شخص کو پیٹنا شروع کر دیا۔

اغواکاروں کا سرغنہ 'کنگ' چیخ رہا تھا کہ رقم پوری نہیں ہے۔ اس نے اپنی بیلٹ سے ایک چھوٹا سے چاقو نکالا اور اس بوڑھے شخص کی ٹانگ میں مارا۔

اغوا کاروں کا سرغنہ پھر مغویوں کی طرف آیا اور کہا کہ رقم لانے والا شخص تو وہیں رہے گا لیکن مغوی آزاد ہیں اور ان کے لوگ انھیں نہیں روکیں گے لیکن اگر کسی اور نے انھیں اغوا کر لیا تو وہ اس کے ذمہ دار نہیں ہو گا۔

اس نے سدیپ کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا 'بائے بائے۔'

انڈین مغوی جلدی سے اس کشتی کی جانب بھاگے جس میں تاوان کی رقم لانے والا شخص آیا تھا۔ سدیپ نے کشتی کے ڈرائیور کو کہا کہ وہ انھیں وہیں لے جائے جہاں سے وہ آیا ہے۔

دو مہینوں بعد بھی سدیپ ابھی تک اسی انڈرویئر میں تھا جس میں اسے اغوا کیا گیا تھا۔

البتہ اغوا کاروں نے اسے ایک پھٹی ہوئی ٹی شرٹ ضرور دی تھی۔ چار گھنٹے کی مسافت کے بعد ڈرائیورنے انھیں بتایا کہ کشتی میں تیل ختم ہوگیا ہے اور انھیں ایک جیٹی پر اتار دیا۔ قریب میں ایک چھوٹا سے گاؤں تھا جہاں کچھ مرد ننگے پاؤں فٹ بال کھیل رہے تھے۔

سدیپ اور اس کے چار ساتھی سیلر ان لوگوں کے پاس گئے اور انھیں بتایا کہ انھیں اغوا کر لیا گیا تھا۔ وہ لوگ انھیں ایک گھر میں لے گئے اور انھیں پانی کی بوتلیں دیں جو انھوں نے فوراً پی لیں۔ گاؤں کے تین بڑے مرد رات بھر اس گیسٹ ہاؤس کا پہرہ دیتے رہے جہاں انھیں رکھا گیا تھا۔

انڈین سیلروں کو جو بہت کمزور ہو چکے تھے یہاں تحفظ کا احساس ہوا۔ سدیپ کہتے ہیں کہ جیسے خدا نے خود ان لوگوں کو ہمارا محافظ مقرر کیا تھا۔

یہ لوگ جلد ہی نائجیریا کے شہر لاگوس پہنچ گئے اور وہاں ممبئی کی فلائٹ کا انتظار کرنے لگے۔ اتنی مصیبت کے بعد سدیپ جب پہلی بار ہوٹل کے کمرے میں اکیلا تھا تو اس نے ٹھنڈی بیئر کا گلاس پیا، نہایا اور اپنے جسم پر لگنے والے زخموں کا جائزہ لیا۔ کچھ روز پہلے ایک اغوا کار نے مچھلی کاٹنے والے چھرے سے اس کا کندھا زخمی کر دیا تھا۔

ایک بھارتی سفارت کار نے اسے سگریٹ کا ایک پیکٹ دیا جو اس نے اگلے ایک گھنٹے میں ختم کر لیا۔

ان سیلروں کو رہا ہوئے اب آٹھ ماہ ہو چکے ہیں۔ سدیپ کی ماں سنیتی کچن کے فرش پر بیٹھے روٹیاں پکا رہی ہیں۔ قریب ہی ان کے سدیپ کے والد ٹی وی پر انڈیا اور نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیموں کا میچ دیکھ رہے ہیں۔

سنیتی بلند آواز میں بیٹے سدیپ کو بلاتی ہے کہ بیٹے کھانا کھا لو۔ ستر روز جنگل میں قید کے دوران سدیپ کا وزن 20 کلو کم ہو گیا تھا۔ جب وہ واپس گھر آیا تو اس کے چہرے کی ہڈیاں واضح ہو چکی تھیں۔ سدیپ کی ماں نے پہلے مہینےاپنے بیٹے کا کئی بار وزن کیا اور جب بھی اس کا وزن بڑھنا شروع ہوا تو بہت خوش ہوئیں۔

بھاگیاشری سٹیل کی پلیٹ اپنے ساس کی طرف کرتی ہیں اور اس کی سونے کی چوڑیاں نیچے آتی ہیں۔ بھاگیاشری کہتی ہیں:' مجھے یقین تھا کہ وہ واپس آ جائے گا۔ ہماری زندگی کا ابھی آغاز ہوا ہے، میں اس کے بغیر زندگی کیسے گذار سکتی ہوں۔ مجھے خدا پر یقین تھا کہ وہ واپس آئے گا۔

سدیپ اور بھاگیاشری کی جنوری میں شادی ہوئی۔ وہ گھر کی پہلی منزل پر رہ رہے ہیں۔ وہ ہر شام اپنے والدین کے ساتھ اکٹھے کھانا کھاتے ہیں۔ آج شام سدیپ کی کزن سواپنا بھی آئیں جس نے اس کی رہائی کے لیے بے انتہا مہم چلائی۔

ایسا لگتا ہے کہ سدیپ نے اپنے خاندان میں واپس آ کر استحکام حاصل کر لیا ہے۔ اب وہ ایک میری ٹائم کالج میں نوجوان سیلروں کو سمندر میں حفاظت کے حوالے سے تعلیم دے رہے ہیں۔ اس نے اب سمندر میں جانا چھوڑ دیا ہے۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سدیپ نے اپنے خاندان اور دوستوں سے پاس آ کر ایک بار پھر زندگی کی خوشیوں سے لطف لینا شروع کر دیا ہے، لیکن یہ بتانا مشکل ہے کہ 70 روز قید نے اس پر کتنے گہرے زخم چھوڑے ہیں۔

وہ اب اس بارے میں بات نہیں کرتے۔

جب ہم بھوبنیشور کی تاریک گلیوں میں گاڑی چلا رہے ہیں تو وہ مجھے بتاتے ہیں 'وہ صدمہ تو اب بھی ہے، لیکن ٹھیک ہے، میری شادی بھی ہو گئی ہے، میرا خاندان، میرے دوست سب یہیں ہیں۔ اگر میں دوبارہ سمندر میں جاتا ہوں تو شاید یہ پھر واپس آ جائے۔'

سدیپ اور اس کے ساتھی زندہ سلامت واپس تو آ گئے ہیں لیکن ان کا اپنی کمپنی سے جھگڑا ابھی جاری ہے۔ وہ جب سے وہ واپس آئے ہیں انھیں تنخواہ نہیں ملی ہے۔ سدیپ سمجھتے ہیں کہ ان کی کمپنی کو انھیں تنخواہ کی مد میں 10 ہزار ڈالر ادا کرنے ہیں۔

لیکن ایپیکس کمپنی کے مالک کیپٹن کرسٹاؤس نے ان انڈین سیلروں کی اغوا اور رہائی سے متعلق ایک مفصل سوال کا جواب نہیں دیا ہے۔ نہ ہی انھوں نے یہ بتایا کہ انھیں انڈین سیلروں کو تنخواہ کی مد میں رقم کی ادائیگی کرنی ہے۔ انھوں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ گھانا کے اس شہری کا کیا بنا جو تاوان کی رقم لے کر اغوا کارروں کے پاس گیا تھا۔

البتہ کیپٹن کرسٹاؤس نے ایک ایمیل کے ذریعے ہمیں بتایا کہ تمام مغوی ان کی وجہ سے رہا ہو کر واپس اپنے گھروں کو پہنچ چکے ہیں۔ وہ اس کی تردید کرتے ہیں کہ ان کی کمپنی تیل کی غیر قانونی خرید و فروخت میں ملوث ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ ٹینکر کی مرمت کے لیے بونی آئی لینڈ گیا تھا۔ نائجیریا میں اس حوالے سے ایک مقدمہ زیر التوا ہے۔

سدیپ کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ظاہر کرتا ہے کہ عالمی تجارت میں صف اول میں کام کرنے والے سیلروں کو کس طرح کے خطرات لاحق ہیں۔ یہ ایسا شعبہ ہے جہاں کہنے کو تو ورکروں کے تحفظ کے لیے قوانین اور ضابطے موجود ہیں لیکن ان پر عمل درآمد بہت مشکل ہے۔

نائجیریا کا تیل مغربی یورپ، حتی کہ برطانیہ اور انڈیا تک پہنچتا ہے۔ سدیپ جیسی کہانیاں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ خلیج گنی میں جہاز رانی کتنا مشکل امر ہے۔ صومالیہ کے برعکس نائجیریا افریقہ کی سب سے بڑی معیشت ہے اور وہ انٹرنیشنل نیویز کو اپنے پانیوں میں پیٹرولنگ کی اجازت نہیں دیتا۔

سدیپ جن حالات سے گزرا ہے، اگر وہ ایک بار پھر ایسی صورتحال سے گزرے گا تو یہ بہت ظالمانہ عمل ہوگا لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے، وہ اپنے اس کریئر کو جاری رکھنے کے لیے کسی بھی انتہا تک جانے کے لیے تیار ہے۔ اس نے مجھے بتایا: 'میں نے جس مصیبت کا سامنا کیا، اس کا مطلب ہے کہ میں زندگی میں کسی بھی چیز کابھی سامنا کر سکتا ہوں۔ کوئی بھی مجھے ذہنی طور پر توڑ نہیں سکتا۔ میرے لیے یہ ایک دوسرا جنم ہے اور میں دوسری زندگی جی رہا ہوں۔'

میں نےاسے کہا کہ کیا وہ واقعی ایسا محسوس کرتا ہے کہ وہ دوسری زندگی جی رہے ہیں تو ان کا جواب تھا: 'یہ محسوس کرنے کامعاملہ نہیں، یہ میری دوسری زندگی ہے۔'

جب ہم گاڑی اس کے گھر کے باہر پارک کرتے ہیں تو رات کے گیارہ بج چکے ہیں لیکن گھر کی ساری بتیاں جل رہی ہیں۔ گھر میں اس کے والدین اور بھاگیاشری اس کا انتظار کر رہے ہیں۔