اسرائیل کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ایسے شخص کو وزیر کے عہدے کے لیے نامزد کیا گیا ہے جو ایتھوپیا میں پیدا ہوا۔

یہ اسرائیل کی وہ خاتون رکن پارلیمان ہیں جنھیں 1980 کی دہائی میں ایک خیفہ کارروائی میں اسرائیل لایا گیا تھا۔

پنینا تمانو شاتا کو نائب وزیر اعظم بینی گینٹز نے وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کی جماعت کے ساتھ مل کر بنائی جانے والی اتحادی حکومت میں وزیر کے طور پر نامزد کیا ہے۔

وزرا کی تعیناتی میں تاخیر کے بعد توقع ہے کہ اتوار کو نئی حکومت حلف اٹھا لے گی اور حکومت سازی کا عمل مکمل ہو جائے گا۔

اسرائیل میں ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والے یہودی اکثر امتیازی سلوک کی شکایت کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

اسرائیل کا سیاسی بحران، ایک سال میں تیسرے عام انتخابات

مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کا معاملہ کیا ہے

اسرائیل کو مان لیجیے مگر۔۔۔

حالیہ برسوں کے دوران پولیس کی طرف سے ایتھوپین نژاد یہودیوں کے خلاف بے جا طاقت کے استعمال پیش آئے ہیں، جس میں ان پر فائرنگ کے واقعات بھی شامل ہیں۔ اس کے باعث اس برادری کی جانب سے کئی مظاہرے بھی کیے گئے ہیں۔

ایک لاکھ 40 ہزار افراد پر مشتمل اس کمیونٹی میں بے روزگاری کی شرح بھی بہت زیادہ ہے۔

اسرائیل میں ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والے یہودیوں کی دوسری نسل کے نوجوان زندگی کے مختلف شعبوں میں کافی کامیاب رہے ہیں اور اعلیٰ عہدوں تک پہنچے ہیں جن میں فوج، عدلیہ اور سیاست کے شعبے شامل ہیں۔

پنینا تمانو شاتا کا تعلق سابق فوجی سربراہ بینی گینٹز کی بلیو اینڈ وائٹ سے ہے۔ انھیں امیگریشن کی وزارت کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

39 سالہ پنینا صرف تین برس کی تھیں جب انھیں سوڈان میں ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والے یہودیوں کی اسرائیل منتقلی کے لیے کیے گئے ایک ڈرامائی آپریشن میں اسرائیل لایا گیا تھا۔ اس خفیہ کارروائی کو آپریشن موسیٰ کا نام دیا گیا تھا۔

وہ اپنے پانچ بھائیوں اور والد کے ہمراہ ان سات ہزار ایتھوپین یہودیوں میں شامل تھیں جنھیں نومبر 1984 اور جنوری 1985 کے درمیان ہوائی جہازوں کے ذریعے اسرائیل لایا گیا تھا۔ ان کی والدہ کئی سال بعد اسرائیل پہنچنے میں کامیاب ہوئی تھیں۔

ایک اسرائیلی اخبار سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’میرے لیے یہ ایک سنگِ میل ہے جو چکر مکمل ہونے کے مترادف ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ وہ تین سالہ بچی تھیں جب انھوں نے ماں کے بغیر ہجرت کر کے اسرائیل میں قدم رکھا جس میں پیدل ایک پورا صحرا پار کرنے کا سفر بھی شامل تھا۔ ’پھر اسرائیل میں اپنی برادری کی جدوجہد کی قیادت کی جو اب بھی کر رہی ہوں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ان کی جدوجہد کا مقصد اس برادری کو معاشرے میں جگہ دلانا، تسلیم کرانا اور ان کے خلاف نسلی امتیاز ختم کرانا ہے۔

1980 کی دہائی میں 16 ہزار کے قریب ایتھوپین یہودی شمالی ایتھوپیا سے پیدل سفر کر کے سوڈان پہنچے تھے تاکہ وہ اسرائیل پہنچ سکیں۔

ایتھوپیا میں یہودی اور دیگر شہریوں کے ملک سے باہر نکلنے پر پابندی تھی۔ اس لیے انھوں نے یہ سفر خفیہ طریقہ سے کیا۔ ڈیڑھ ہزار کے قریب یہودی سوڈان میں مہاجر کیمپوں تک پہنچنے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

سوڈان، جو مسلمانوں کی اکثریت والا ملک ہے اور عرب دنیا کا حصہ ہے، اس وقت اسرائیل کا ایک دشمن ملک تھا۔ اس لیے یہودی مہاجروں کا انخلا خفیہ طریقہ سے انجام دیا گیا۔

ایتھوپیا سے یہودیوں کو اسرائیل پہنچانے کی پہلی کارروائیاں اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد نے سر انجام دی تھیں۔ اسے 1980 کی دہائی میں بہادری کے آپریشنز میں شامل کیا جاتا ہے۔