کورونا وائرس کی وبا نے کچھ ممالک کو زیادہ متاثر کیا ہے۔ اِس کا ایک سبب یہ ہے کہ اِس وبا سے نمٹنے کے لیے اُن کا ردعمل سست تھا۔ یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ ایک فطری انسانی ردِ عمل ہے۔

کورونا وائرس کی وبا دنیا بھر میں پھیل چکی ہے اور اکثر لوگوں کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ نہ جانے یہ اچانک کہاں سے نازل ہوئی ہے۔

برطانیہ میں جنوری کے اواخر میں اِس وبا کے مریضوں کے بارے میں اطلاعات سامنے آنا شروع ہوئیں۔ اس وقت تک یہ پوری دنیا میں تیزی سے پھیلنا شروع ہو چکا تھا۔

تاہم برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن نے مارچ کے وسط میں لوگوں سے کہا کہ وہ غیر ضروری سفر اور سماجی میل ملاپ سے اجتناب کریں اور 23 مارچ کو انھوں نے ملک بھر میں لاک ڈاؤن کا اعلان کیا۔

برطانیہ کے اِس سست ردِعمل پر صحت عامہ کے ماہرین کی جانب سے تنقید کی گئی۔

کورونا وائرس اور نزلہ زکام میں فرق کیا ہے؟

کورونا وائرس: سماجی دوری اور خود ساختہ تنہائی کا مطلب کیا ہے؟

کورونا وائرس: ان چھ جعلی طبی مشوروں سے بچ کر رہیں

کورونا وائرس: چہرے کو نہ چھونا اتنا مشکل کیوں؟

کورونا وائرس ٹیسٹ کیسے ہوتا ہے اور یہ کیوں ضروری ہے؟

کورونا وائرس: سماجی دوری اور خود ساختہ تنہائی کا مطلب کیا ہے؟

اُدھر امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ایک ایسے ردِعمل کی قیادت کی ہے جو افراتفری کا شکار ہے۔

ملک میں ٹیسٹنگ کٹس کی شدید کمی ہے اِس لیے حکومت کو یہ معلوم ہی نہیں کہ اصل میں کتنے افراد اِس بیماری میں مبتلا ہیں۔ خود صدر ٹرمپ نے بھی کئی مرتبہ اِس وبا کے خطرات کو عوام کے سامنے کم کر کے پیش کیا۔

انھوں نے کورونا وائرس کا غلط موازنہ ایک عام موسمی فلو سے بھی کیا اور یہ جھوٹا دعویٰ بھی کیا کہ امریکہ کے اقدامات دوسرے ممالک کے مقابلے میں زیادہ جامع ہیں۔

یہ کیسے ممکن ہوا کہ دو ایسے ممالک جن کے پاس جدید ترین ٹیکنالوجی اور وسائل ہیں وہ اِس بڑھتی ہوئی آفت کے دوران اِس کی سنگینی کو سمجھنے میں ناکام رہے۔

اِس کی وجوہات تو بعد میں معلوم ہوں گی لیکن ایسے کئی تسلیم شدہ نفسیاتی پہلو ہیں جن کی بنا پر آنے والی آفت افراد اور اداروں کی نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

یہاں تک کہ یہ ہنگامی صورتحال بالکل سر پر پہنچ جاتی ہے تب بھی اس کا ادراک نہیں ہو پاتا۔

ماہرِ نفسیات نیل وائن سٹائن نے سنہ 1980 میں پہلی ایسی تحقیق شائع کی جسے بعد میں ’آپٹیمیزم بائس‘ یعنی ہر چیز سے ضرورت سے زیادہ امید رکھنے کا نام دیا گیا۔

وائن سٹائن کو معلوم ہوا کہ اکثر لوگ اپنے مستقبل کے امکانات کے بارے میں غیر حقیقت پسندانہ طور پر پرامید ہوتے ہیں۔

وائن سٹائن نے 200 سے زیادہ طالبِ علموں سے پوچھا کہ وہ اپنے مستقبل کے ممکنہ منفی اور مثبت واقعات کے امکانات کے بارے میں بتائیں۔ مثلاً کسے یہ لگتا ہے کہ مستقبل میں اُس کا اپنا گھر ہوگا یا اُس کی بہت ذہین اولاد ہوگی۔

اِس کے علاوہ منفی باتیں بھی جیسے کون کینسر جیسی بیماری میں مبتلا ہو سکتا ہے اور کسے طلاق ہو گی۔ اِس کے علاوہ طالبِ علموں سے کہا گیا کہ وہ دوسروں کے بارے میں بھی ایسے امکانات اور خدشات پر بات کریں۔

زیادہ تر طالبِ علموں نے اپنے لیے اچھے امکانات کی امید ظاہر کی۔

برطانیہ کی یونیورسٹی کالج لندن سے منسلک تالی شیروت کا کہنا ہے کہ یہ سوچ کئی طرح پہچانی جاتی ہے اور نظر آتی ہے۔

سنہ 2011 میں شیروت کی ٹیم نے جو تحقیق کی اس میں معلوم ہوا کہ لوگ توقع سے خراب معلومات کی بہ نسبت ایسی نئی معلومات کے ردِ عمل میں اپنے عقائد میں جلدی ترمیم کر لیتے ہیں جو توقع سے بہتر ہوں۔

اِس لیے یہ سمجھنا آسان ہے کہ ضرورت سے زیادہ امید کورونا وائرس کے بارے میں ہمارے تصورات کو کیسے متاثر کر سکتی ہے۔

شیروت کہتی ہیں کہ اگر ماہرین یہ کہیں کہ لاک ڈاؤن دو ہفتے میں کھل جائے گا تو لوگ فوراً یقین کر لیں گے۔ لیکن اگر ماہرین بتائیں کہ لاک ڈاؤن اس مدت سے زیادہ رہے گا جس کا وعدہ کیا گیا ہے تو کم لوگ اِس بارے میں اپنے تصورات تبدیل کریں گے۔

`وہ کہیں گے کہ انھیں اِس پر یقین نہیں ہے، صورتحال بدل جاتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ اِس کے نتیجے میں آپ ایسے نظریات پر یقین کرنا شروع کر دیتے ہیں جو آپ کی خواہش سے مطابقت رکھتے ہوں۔'

یقیناً اِسی وجہ سے یہ سوچ کام کرتی دکھائی دے رہی ہے اور ممکنہ طور پر کئی لوگ اسی لیے سماجی فاصلے اختیار کرنے جیسی احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کر رہے۔

مثال کے طور پر یونیورسٹی کاج لندن کی ایک دوسری تحقیق میں 16 سو کے قریب امریکیوں کا سروے کیا گیا ہے جس میں کورونا وائرس سے متعلق ان کے تصورات اور اقدامات کے بارے میں پوچھا گیا۔

وقت گزرنے کے ساتھ کورونا وائرس کے بارے میں اِن افراد کی آگہی میں اضافہ ہوا اور انھوں نے احتیاطی تدابیر بھی اختیار کیں لیکن شروع میں انھوں نے اِسے زیادہ بڑا خطرہ نہیں سمجھا۔

اِسی طرح جرمنی میں ہمبرگ ایپندورف میڈیکل سینٹر کی ایک تحقیق میں برطانیہ، امریکہ اور جرمنی میں سروے کیا گیا۔ جن افراد سے بات کی گئی انھیں بھی وائرس کے خطرے کا زیادہ احساس نہیں تھا اور انھوں نے اِس خدشے کو بھی زیادہ اہمیت نہیں دی کہ وہ بھی دوسروں میں وائرس منتقل کر سکتے ہیں۔

کووڈ 19 کی یہ حالیہ وبا اِس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکومتوں اور اداروں نے ماضی میں اس سے ملتے جلتے خطروں سے کچھ نہیں سیکھا۔

گذشتہ 20 برسوں میں کورونا وائرس کی دو وبائیں سامنے آ چکی ہیں۔ یہ نیا وائرس یعنی کووڈ 19 بھی کورونا وائرس ہی کے خاندان سے ہے۔

سنہ 2003 اور 2004 میں سارس وائرس کی وبا پھیلی اور جب تک اس پر قابو پایا گیا 774 افراد ہلاک ہو چکے تھے، جبکہ سنہ 2012 میں مرس وائرس نے 858 لوگوں کو ہلاک کیا۔ مرس وائرس کی وبا اب بھی جاری ہے۔

کووڈ 19 ان دونوں سے بہت زیادہ مہلک ثابت ہوا ہے اور اب تک دنیا بھر میں دو لاکھ 64 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اگر لوگوں کو کسی بحران کے شروع ہونے کے بالکل واضح شواہد بھی دیے جائیں تو تب بھی وہ اِس کی حقیقت کو رد کر سکتے ہیں۔ اِس انکار کے پیچھے کئی نفسیاتی عوامل ہو سکتے ہیں لیکن ’کنفرمیشن بائس‘ اہم ہے جس کا مطلب ’تصدیق کا تعصب‘ ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر لوگ کسی بات پر یقین کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں تو وہ اپنی رائے کے حق میں شواہد ڈھونڈتے ہیں تا کہ اس کی تصدیق ہو جائے۔ اِس عمل کے دوران وہ ایسی ہر چیز کو نظر انداز یا رد کر دیتے ہیں جو ان کی رائے سے متضاد ہو۔

مثال کے طور پر اخبار نیویارک ٹائمز میں بتایا گیا ہے کہ 8 مارچ کو ایک عورت نے جنوبی کیلیفورنیا میں ٹرمپ نیشنل گولف کلب میں اپنی 70ویں سالگرہ کی پارٹی منعقد کی۔ ایک ہفتے بعد معلوم ہوا کہ اِس تقریب میں شرکت کرنے والے ایک فرد کا کووڈ 19 کا ٹیسٹ مثبت آ چکا تھا۔ کچھ دنوں کے بعد کئی دوسرے لوگوں کے ٹیسٹ بھی مثبت آئے، حالانکہ مہمانوں کو ہدایت دی گئی تھی کہ اگر وہ بیمار ہیں تو شرکت نہ کریں لیکن یہ ہدایت کافی نہیں ثابت ہوئی۔

واشنگٹن میں جارج ٹاون یونیورسٹی سے منسلک ڈلن میرل کے مطابق اِس تقریب میں لوگوں کی شرکت کے پیچھے ’تصدیق کا تعصب‘ کارفرما تھا۔ ’آپ کو ایسا ڈیٹا مل جاتا ہے جو آپ کی دلیل کی حمایت کرتا ہے۔ آپ یہی تصدیق کرنا چاہتے ہیں کہ آپ صحت مند ہیں اور ہر صورت میں پارٹی میں جانا چاہتے ہیں۔‘

ڈلن میرل کہتی ہیں کہ ’اِسی وجہ سے ہم سوچتے ہیں کہ یہ نزلہ کھانسی کورونا کی علامات نہیں ہیں یہ کچھ اور ہے۔ لہٰذا ہم اپنی پارٹی کیوں چھوڑیں۔‘

حکومتوں اور بڑے اداروں کی سطح پر بھی یہ رجحان نظر آتا ہے جہاں اکثر لوگ کسی منصوبے یا ایکش پلان پر اپنی تنقیدی رائے دینے کے بجائے باقی لوگوں کی رائے کو مان لیتے ہیں۔

حکومتوں اور اداروں میں اس رجحان کو ’گروپ تھنک‘ کہتے ہیں جسے پہلی مرتبہ ماہرِ نفسیات اِرونگ جینس نے سنہ 1970 میں اپنی کتاب ’وکٹمز آف گروپ تھنک‘ میں بیان کیا۔

جینس نے امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے زمانے میں ’بے آف پِگس‘ اور ’کیوبا میزائل بحران‘ جیسے معاملات کے دوران فیصلہ سازی کا مطالعہ کیا۔ جینس کو معلوم ہوا اِن انتہائی اہم واقعات کے دوران صدر کینیڈی کے مشیر نہ صرف انھیں بلکہ آپس میں بھی ایک دوسرے کی رائے کے خلاف رائے دینے سے ہچکچاتے رہے۔

اچھی خبر یہ ہے کہ ان تمام تعصبات پر قابو پانا ممکن ہے لیکن اِس کے لیے ضروری ہے کہ ادارے اپنے کام کے انداز اور طریقۂ کار میں تدیلیاں کریں۔

سب سے پہلے پرامیدی کے تعصب سے آغاز کرتے ہیں جو اِس لیے ہوتا ہے کہ ہم بری خبروں کے مقابلے میں اچھی خبروں سے زیادہ سیکھتے ہیں۔

شیروت کے مطابق کام کے دوران کچھ ذہنی دباؤ اچھا ہوتا ہے کیونکہ اِس سے ہم خطرات کے بارے میں ہوشیار ہو جاتے ہیں اور انھیں ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔