یوکرین کے دارالحکومت کیف کے ایک چھوٹے سے کمرے میں درجنوں نوزائیدہ بچوں کی تصاویر نے ملک میں ہلچل مچا دی ہے۔

یہ بچے نہ تو کسی یتیم خانے میں ہیں اور نہ کسی ہسپتال کی نرسری میں بلکہ یہ تصویر ایک ہوٹل کے کمرے کی ہے۔

یہ تمام بچے وہ ہیں جو یوکرین کے دارالحکومت میں بائیو ٹیکس کام ہیومن ری پروڈکشن سنٹر میں تیسری پارٹی کے لیے بچے کو جنم دینے والی ماؤں نے یہاں چھوڑے ہیں، ان تمام بچوں کے والدین دوسرے ممالک یا براعظموں میں ہیں۔

لیکن دنیا کے بیشتر حصوں میں سفری پابندیوں کے سخت اقدامات اور صحت کے بحران نے یوکرین میں بہت سے بچوں کو والدین کی دیکھ بھال کے بغیر چھوڑ دیا ہے۔

کورونا وائرس: انڈیا کے یہ دو سائنسدان کیا کمال کرنے والے ہیں؟

کورونا وائرس کا ٹیسٹ کیسے ہوتا ہے اور کیوں ضروری ہے؟

’کورونا وائرس انڈیا کی معیشت کو تباہ کر کے رکھ دے گا‘

کیا جون جولائی میں کورونا وائرس انڈیا میں تباہی مچانے والا ہے؟

چین میں کورونا وائرس کے خلاف لڑنے والا پاکستانی ڈاکٹر

کورونا کے مریضوں کی جان بچاتے ہوئے جان دینے والا پاکستانی ڈاکٹر

ایک وکیل ڈینس ہرمین نے بی بی سی کو بتایا ’ہم اس صورتحال میں اس لیے پہنچے ہیں کیونکہ ہماری سرحدیں بند ہیں اور (یوکرینی) وزیر خارجہ نے غیر ملکیوں کو، یہاں تک کہ جن کے بچے یہاں پیدا ہوئے ہیں، یوکرین میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

یوکرین میں بی بی سی کی نامہ نگار زہانہ بیزپائچک کییف کے مطابق اس سب صورتحال کا مرکز یوکرین کے دارالحکومت کا وینس ہوٹل ہے جہاں یوکرین کے مختلف حصوں میں پیدا ہونے والے 100 میں سے 35 نوزائیدہ بچے، والدین کے بغیر پھنسے ہوئے ہیں۔

یوکرین میں لوگ صدمے میں ہیں۔ کسی کلینک کے بجائے ہوٹل کے کمرے میں ان بچوں کو دیکھنا بہت ہی عجیب ہے۔ بہت سے افراد کو حیرت ہے کہ ’ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ ان بچوں کے والدین کہاں ہیں؟‘

بیزپائچک کا کہنا ہے ’بہت سے لوگ ان تصاویر کو دیکھتے ہیں اور حیرت سے کہتے ہیں: ’یہ بچوں کی فیکٹری لگتی ہے۔‘

صرف 30-45ہزار ڈالر میں کرائے کی کوکھ دستیاب

یوکرین میں سینکڑوں عورتیں سروگیسی کی صنعت کا حصہ ہیں جو دوسرے بہت سے ممالک کے برعکس، یہاں قانونی ہیں۔

جب انڈیا، نیپال اور تھائی لینڈ میں سروگیسی کی صنعت پر پابندیاں عائد کی گئیں تو لوگوں نے یوکرین کا رخ کیا جہاں سروگیسی کی قیمت امریکہ کے مقابلے میں کہی کم ہے۔

یوکرائن میں کرائے کی کوکھ کا معاوضہ 30-45 ہزار ڈالر کے درمیان ہے، جبکہ امریکہ میں یہی رقم ایک لاکھ ڈالر سے زیادہ ہے۔

وینس میں چینی، اطالوی، ہسپانوی، برطانوی اور بہت سے دوسری قوموں کے بچے ہیں۔ ہوٹل کلینک کا ایک حصہ ہے اور اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے نمائندوں نے یہاں سہولیات کا دورہ کرکے تصدیق کی ہے کہ سینیٹری اور دیکھ بھال کا نظام اطمینان بخش ہیں۔

’ان کے والدین کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا‘

لیکن صحت سے متعلق پیشہ ور افراد جو بچوں کی دیکھ بھال کے لیے دن رات کام کرتے ہیں اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اس صورتحال نے انھیں غمگین کردیا ہے۔

ایک نرس اولگا کٹس کا کہنا ہے کہ ’کوئی بھی ان کے والدین کی جگہ نہیں لے سکتا۔‘

ہوٹل میں 15 ایسے خوش قسمت بچے بھی ہیں جن کے والدین سرحد بند ہونے سے قبل یوکرین پہنچ گئے۔ اور اب وہ خاندانوں کے ساتھ ہوٹل میں رہ رہے ہیں۔

کچھ جوڑے قرنطینہ کی پابندیوں کو ختم کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں لیکن یہ ایک طویل اور مہنگا کام ہے، کیونکہ اپنے شہریوں کو سفر کی اجازت دلوانے کے لیے غیر ملکی حکومتوں کو یوکرین کی وزارتِ خارجہ سے اجازت درکار ہے اور اس کے بعد انھیں ملک سے باہر نکانے کا طریقہ کار ڈھونڈنا ہے۔

بیجپیاچوک کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک بہت طویل عمل ہے جو بیوروکریسی سے بھرا ہوا ہے۔‘

بائیو ٹیکس کام کلینک کے وکیل، ہرمن کا کہنا ہے کہ متعدد والدین انھیں فون کرکے یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ ان تمام ’قانونی پیچیدگیوں‘ سے کیسے بچ سکتے ہیں۔

نجی جہاز میں سفر کریں

متعدد ناکام کوششوں کے بعد ماریا اور آندریاس ٹینگروز ( ایک سویڈش جوڑا) یوکرینی حکام کی طرف سے اجازت نامہ حاصل کرنے کے بعد ملک میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ جب انھوں نے ایک قومی ٹیلی ویژن پروگرام میں اپنی صورتحال بتائی تو ایک گمنام شخص نے ان کے لیے نجی طیارے کی قیمت ادا کرنے کی پیش کش کی۔

یہ پرواز متعدد بار ملتوی کی گئی اور یہ جوڑا امید چھوڑ چکا تھا جب ایک دن یوکرین کی حکومت نے انھیں سفر کی اجازت دے دی۔

جڑواں بچوں لوئس اور ایلا کے والد ، اینڈریاس کا کہنا ہے کہ ’یہ بہت خوفناک صورتحال ہے کیونکہ جب آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے پاس کوئی حل موجود ہے تو ایک اور سرحد بند ہوجاتی ہے۔‘

ماریا بتاتی ہیں کہ یہ سب کتنا مایوس کن ہے، کوئی بھی کسی سوال کا جواب نہیں دیتا۔

ماریا خوشی خوشی بتاتی ہیں ’کسی کو نہیں پتا کیسے کہاں پہنچنا ہے۔ لیکن یہاں انھیں بانہوں میں لے کر بیٹھنا ہمیں بتاتا ہے کہ ہم نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔‘

لیکن باقی والدین ماریہ اور آندریا کی طرح خوش قسمت نہیں کہ کوئی انھیں نجی طیارے کی پیش کرے۔

زہنا بیزپائچک کہتی ہیں ’اگر اس مسئلے کا فوری حل نہ نکالا گیا تو صورت مزید خراب ہو سکتی ہے۔‘

’کیونکہ یوکرین میں کرائے کی کوکھ سے پیدا ہونے والے بچے ہر روز جنم لے رہے ہیں۔‘