کورونا وائرس کے باعث روسی صدر ولادیمیر پوتن کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہوتا نظر آ رہا ہے۔ پیر کے روز صدر پوتن نے پورے ملک میں لاکھوں مزدوروں کو فیکٹریوں اور تعمیراتی مقامات پر کام کرنے کے لیے بھیج دیا اور اس کے ساتھ ہی انھوں نے چھ ہفتوں سے جاری مکمل لاک ڈاؤن کے خاتمے کا اعلان بھی کر دیا۔

دیگر پابندیوں کو کیسے اور کب ختم کرنا ہے اس کا فیصلہ علاقائی رہنماؤں پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب پورے ملک اور خاص طور پر ماسکو میں وائرس کے انفیکشن کی شرح بہت زیادہ ہے۔

لیکن جمعرات کو پوتن اپنی حکومت سے کہہ رہے تھے کہ زندگی معمول پر آرہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کو اب کورونا وائرس کو چھوڑ کر دوسری ترجیحات پر توجہ دینی چاہیے۔

اعلیٰ قیادت کا پیغام واضح ہے: روس کے صدر چاہتے ہیں کہ ملک کورونا سے نکل کر آگے بڑھے۔

کورونا نے روس کے خفیہ جوہری شہروں کو کیسے متاثر کیا

کورونا وائرس: بیلاروس میں وبا کے خطرے کے باوجود وکٹری پریڈ،روس میں منسوخ

کورونا وائرس سے امریکہ کو معیشت میں ’بہتری کی امید‘

کیا وبا کے دوران ولادیمیر پوتن کی روس پر گرفت کمزور پڑ رہی ہے؟

اتنی جلد بازی کیوں؟

چیٹم ہاؤس کے سیاسی تجزیہ کار نکولائی پیٹروف کا کہنا ہے 'میرے خیال سے اپنی فعال سیاسی زندگی میں پہلی بار پوتن کو ایک ایسے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا ہے جو ان کے کنٹرول سے باہر ہے۔ اس مسئلے کی وجہ سے ان کے تمام منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔'

اس موسم بہار میں عام لوگوں کو آئین کی ایک ترمیم کے لیے ووٹ ڈالنا تھا۔ اس ترمیم کے توسط سے پوتن کو مزید دو بار اقتدار میں رہنے کی ’اجازت مل جاتی۔‘

اس کے بجائے 67 سالہ پوتن کو ماسکو سے باہر اپنی رہائش گاہ میں رہنے پر اس وقت مجبور ہونا پڑا جب وہ اپنی ’ایکشن مین‘ کی شبیہ کو برقرار رکھنے کی کوشش میں ہزمت سوٹ پہن کر کورونا وائرس کے ایک ہسپتال کا دورہ کیا اور وہ انفیکشن سے بال بال بچے تھے۔

جس ڈاکٹر نے انھیں ہسپتال کا دورہ کروایا تھا وہ بعد میں وائرس سے متاثر پائے گئے۔

خود سے تنہائی میں جانے کی صورت میں صدر پوتن ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ایک بڑی سکرین پر کام کاج کرنے پر مجبور ہو گئے۔ ان کی مقبولیت کی درجہ بندی 59 فیصد کے ساتھ اب تک کی سب سے کم سطح پر آگئی ہے۔ اس کے علاوہ لمبی فون کالز کے دوران وہ چڑچڑاتے اور بور ہوتے دیکھے گئے ہیں۔

نیکولائی پیٹروف کا کہنا ہے کہ ’پوتن اپنے منصوبوں کو ہر صورت پورا کرنا چاہتے ہیں۔‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ آئینی اصلاحات کے لیے ووٹ کرانا چاہتے ہیں، اور اس کے لیے سرکاری ٹی وی اور بڑے بڑے بل بورڈز کے ذریعے بڑے پیمانے پر تشہیر کی جا رہی ہے۔

کیا کووڈ 19 واقعی ہار گیا ہے؟

جس دن ولادیمیر پوتن نے باضابطہ طور پر لاک ڈاؤن کے خاتمے کا اعلان کیا اسی دن روس میں کورونا وائرس کے کیسز میں سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اس کے بعد سے ہر روز سرکاری اعداد و شمار میں معمولی سی کمی نظر آ رہی ہے تاہم ملک میں وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد ڈھائی لاکھ سے زیادہ ہے اور وہ دنیا میں سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کے قریب پہنچ گیا ہے۔

لیکن یہاں سیاستدانوں نے دوسرے اعدادوشمار پر زور دیا ہے یعنی ہلاکتیں ایک فیصد سے بھی کم ہیں۔

پارلیمنٹ کے سپیکر ویاسشلاو وولیدین نے بدھ کے روز کہا ’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں صحت کی دیکھ بھال کا معیار امریکہ سے بہتر ہے۔‘ انھوں نے یہ بات بدھ کے روز اس وقت کہی جب اسی دن روس میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی کل تعداد 2212 رپورٹ کی گئی تھی۔

انھوں نے مزید کہا: 'ہمیں اپنے ڈاکٹروں اور اپنے صدر کا شکریہ ادا کرنا چاہیے جو جان بچانے کے لیے دن رات کوشاں ہیں۔' ان کی اس بات کی اراکین پارلیمنٹ نے حمایت کی۔

روس میں کورونا کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد پر مسلسل شک و شبہ کیا جاتا رہا ہے اور ایسے اشارے ملے ہیں کہ روس ہلاکتوں کی تعداد کو چھپا رہا ہے۔ لیکن حکام نے اس کی تردید کی ہے اور اس طرح کے بیانات کو 'فیک نیوز' قرار دیا ہے۔

کورونا انفیکشن کی وجہ سے ہونے والی اموات کا اندازہ لگانے کے لیے بہت زیادہ اموات کے اعدادوشمار بہت اہم ہیں کیونکہ اس میں وہ لوگ شامل ہیں جن کے کورونا کے ٹیسٹ نہیں کیے گئے اور وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کا ہسپتال کے باہر انتقال ہوا۔

ماسکو میں اپریل میں ہونے والی اموات تقریباً 1700 تھیں جو کہ لندن اور دوسرے شہروں کے مقابلے میں کم ہیں۔

ماسکو کے محکمہ صحت نے واضح کیا ہے کہ کورونا کے تقریباً 60 فیصد مشتبہ واقعات میں موت کی وجہ کچھ اور تھی جیسے ہارٹ اٹیک یا دیگر بیماری۔ اور یہ حقیقت پوسٹمارٹم رپورٹ سے بھی عیاں ہے۔ انتظامیہ کسی بھی چیز کو چھپانے سے انکار کرتی رہی ہے۔

ہم نے اس سے کیا سبق سیکھا؟

روس کے پاس کرونا کے انفیکشن سے نمٹنے کی تیاری کے لیے کافی وقت تھا۔ اب ایک دن میں 40 ہزار سے زیادہ افراد کے ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔ جلد ہی کیسز کی پہچان اور انھیں فوری طبی سہولیات فراہم کرانا بھی مددگار ثابت ہو رہا ہے اور اس سے بہت ساری اموات کو بھی روکا گيا ہے۔ یورپ کے کئی مملک میں تو ہلاکتوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ مردہ گھروں میں بھی لاش رکھنے کے لیے جگہ نہیں ہے۔

اس کی وجہ شاید ثقافتی تنوع بھی ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن طویل عرصے تک سماجی دوری اختیار کر کے میٹنگز کرتے رہے اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب انھیں آئی سی یو میں داخل ہونا پڑا۔ جبکہ ولادی میر پوتن کے ترجمان ڈبل نمونیا کی وجہ سے ہسپتال میں داخل ہونے سے قبل تین دن تک بخار سے لڑتے رہے۔

ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے دیمتری پیسکوف نے بتایا کہ وہ اپنے کام کے دوران تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے باوجود کیسے بیمار ہو گئے جبکہ کریملن میں ایک کاغذ بھی کسی کے حوالے کیے جانے سے پہلے اسے ڈس-انفیکٹ کیا جاتا ہے۔

پیسکوف نے بتایا کہ وہ تقریباً ایک ماہ سے صدر پوتن سے براہ راست رابطے میں نہیں تھے۔

ذمہ داری نبھانا

یہ واضح نہیں ہے کہ روسی رہنما کب یہ فیصلہ کریں گے کہ کریملن واپس جانا محفوظ ہے۔ بہت سے لوگ ابھی بھی گھر سے کام کر رہے ہیں اور کورونا انفیکشن کی وجہ سے عائد پابندیاں بھی نافذ العمل ہیں۔

اب یہ میئر پر منحصر ہے کہ وہاں پابندیاں ختم کی جائیں گی لیکن سرگئی سوبیانین لوگوں کو روزانہ باہر ٹہلنے کی اجازت دینے سے بھی انکار کرتے رہے ہیں۔

جمعرات کو انھوں نے کہا کہ یہ اب تک کا سب سے مشکل فیصلہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کی قیمت 'لوگوں کی صحت اور زندگی' ہے۔

روس میں بے روزگاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ وبا کی ابتدا کے بعد سے بے روزگاری کے بارے میں سرکاری اعداد و شمار دگنے ہو چکے ہیں۔ آزاد پولنگ فرم لیواڈا نے اپنی رائے شماری میں بتایا کہ چار میں سے ایک شخص اپنی ملازمت سے محروم ہو چکا ہے یا پھر اسے ملازمت سے محروم ہونے کا خطرہ لاحق ہے۔

ایک تہائی لوگوں کی تنخواہ میں کٹوتی ہوئی ہے یا ان کے کام کے اوقات کم کر دیے گئے ہیں۔

روس کے عوام زیادہ بچت نہیں کرتے اور لاک ڈاؤن میں حکومتی مدد محدود ہے لہذا پابندیوں میں نرمی لانے پر دباؤ مسلسل بڑھتا جارہا ہے۔ سیاسی امور کی ماہر للیہ شیوسووا کا کہنا ہے کہ 'روسی رہنما جانتے ہیں کہ 'نو ورک نو منی' کی پالیسی گر جائے گی اوراس سے انتشار پھیل جائے گا۔ لہذا انھوں نے وبا کے دور میں سخت قوانین نافذ کیے جب ہم انفیکشن کے ٹاپ ملک بننے سے دور تھے۔‘

ایخو موسکی ریڈیو سٹیشن کے لیے اپنے بلاگ میں انھوں نے لکھا: 'انھیں کورونا وائرس پر فتح چاہیے تھی اور وہ بھی بہت جلد!‘

لیکن وائرس اب بھی روسی علاقوں میں کریملن کی سیاسی خواہشات سے بے خبر پھیل رہا ہے۔ اور روس کے مضبوط رہنما کو جو نقصان پہنچ رہا ہے اس کو روک پانا بھی مشکل ہے۔

ایسے میں نیکولائی پیٹروف کہا کہنا ہے کہ 'اگر چہ اپنی خواہش کے مطابق وہ آئینی ووٹ حاصل کر بھی لیتے ہیں تو بھی اس سے یہ حقیقت نہیں بدلے گی کہ پوتن اب نسبتا بہت کمزور ہو چکے ہیں۔'